4 فروری 1986
Al-Risala, November 2022, pp. 35–38
By Maulana Wahiduddin Khan
دو مسلم نوجوان مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ انہوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ ایس آئی ایم آئی (SIMI) سے تعلق رکھتے ہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلم مسائل کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ کون سے مسلم مسائل؟ انہوں نے کہا کہ مثلاً یہ کہ: "ہندوستان کی کورٹ ہمارے شرعی قانون کو چیلنج کرنا چاہتی ہے"
میں نے کہا کہ آپ کے اس جملے میں دو غلطیاں ہیں۔ آپ کورٹ کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ وہ شرعی قانون کو بدلنا چاہتی ہے۔ حالانکہ کورٹ کا یہ کام ہی نہیں۔ قانون کو بدلنا قانون ساز
اسمبلی کا کام ہے، نہ کہ کورٹ کا۔ کورٹ تو صرف اس لیے ہوتی ہے کہ وہ بنے ہوئے قانون کے مطابق وہ قانون کو منطبق کرنے کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ حقیقتاً قانون کو بنانے کے لیے۔ دوسری بات یہ کہ عدالت کا کوئی اقدامی رول نہیں ہوتا۔ یعنی وہ خود سے آکر آپ کے اوپر کوئی قانون نافذ نہیں کرتی۔ آپ جب اس کے یہاں جا کر کہتے ہیں کہ فلاں قانون کے مطابق میرے معاملے کا فیصلہ کرو تو وہ شہادتوں کو سننے کے بعد متعلقہ قانون کو آپ کے معاملے پر منطبق کر دیتی ہے۔ مثال کے طور پر شاہ بانو کے کیس میں مذکورہ مسلم خاتون نے عدالت سے کہا کہ میرے معاملے میں کریمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ 125 کے مطابق فیصلہ دیا جائے تو اس نے فیصلہ دیا۔ برعکس، اگر مسلم خاتون یہ دعویٰ کرتی کہ میرے معاملے میں مسلم شرعی قانون کے مطابق فیصلہ دیا جائے تو کورٹ مسلم پرسنل لا کے مطابق فیصلہ دیتی۔ اس معاملے میں واضح طور پر مسئلہ کسی کورٹ کی طرف سے نہیں پیدا ہوا ہے بلکہ خود مسلمانوں کی طرف سے پیدا ہوا ہے جو اپنے معاملات کا فیصلہ ملکی قانون کے تحت کرانا چاہتے ہیں۔
نظام الدین (نئی دہلی) میں ہمارے دفتر سے ملا ہوا ایک پارک ہے۔ اس پارک میں ایک لمبا سیمل کا درخت (silk-cotton tree) ہے۔ اس درخت کی شاخیں چاروں طرف پھیلی ہوئی اس میں روزانہ رات کو گدھ آ کر بیٹھتے تھے۔ لوگوں نے پٹاخہ چھوڑ کر ان کو بھگانے کی کوشش کی، مگر وہ نہیں بھاگے۔ آخر کار کارپوریشن نے اس کا حل یہ نکالا کہ درخت کی تمام شاخیں کاٹ دی گئیں۔
یہ واقعہ 1985ء کے آغاز میں ہوا۔ شاخیں کاٹنے کے بعد درخت کا منظر یہ تھا۔ تاڑ کی مانند ایک لمبا خالی تنا فضا میں کھڑا ہوا دکھائی دیتا تھا۔ البتہ کاٹنے والوں نے یہ کیا کہ بالکل اوپر ایک آخری شاخ چھوڑ دی۔ یہ شاخ تقریباً دو میٹر لمبی تھی۔
اب اس درخت کے کٹنے پر ایک سال پورا ہو چکا ہے۔ آج اس بظاہر خشک تنے کا منظر
قدیم شاخوں کے کٹنے کے بعد نیچے سے اوپر تک تنے کے چاروں طرف نئی شاخیں اور پتیاں نکلیں، یہاں تک کہ وہ ان سے ڈھک گیا۔ اب وہ خشک تنا نہیں بلکہ وہ ایک پورا درخت ہے جو سر سبز وشاداب حالت میں کھڑا ہوا ہے۔ تاہم اس شادابی میں ایک استثنا ہے اور وہ اسی شاخ کا ہے جس کو کاٹنے والے نے چھوڑ دیا تھا۔ یہ شاخ آج بھی ٹھیک ویسی ہی ہے جیسی ایک سال پہلے ایک پتلی سی لکڑی اور اس کے اوپر چند سوکھی پتیاں۔ درخت کی نئی شاخیں خوب سر سبز و شاداب نظر آتی ہیں، مگر یہ قدیم شاخ ایک مرجھائی ہوئی موٹی ٹہنی کا منظر پیش کرتی ہے۔ یہ قدرت کا ایک سبق ہے۔ اس دنیا میں جس کو کاٹا جائے وہی دوبارہ ظہور کرتا ہے۔ سرسبزی کو مٹایا جائے وہی زیادہ سرسبز و شاداب ہو کر زمین کے اوپر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں نہیں میں ہے کا امکان ہے۔ جہاں موت کے اندر زندگی کا راز چھپا ہوا ہے۔ 1986 فروری 6 ڈاکٹر شعیب احمد قاسمی (پرنسپل طیبہ کالج جے پور) ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ نے بتایا کہ جے پور میں ایک ادارہ قائم کیا گیا ہے۔ اس کا ایک جلسہ ہوا اور اس کی صدارت کے لیے ہندوستان کے ایک مشہور ترین عالم کو بلایا گیا۔
اس جلسہ میں ادارہ کے ذمہ دار نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ہمارے پیش نظر یہ ہے کہ دوسرے کورسوں کے علاوہ ٹیکنیکل کورس بھی رکھیں اور اس کے ذریعے ٹیکنیشن (technicians) تیار مذکورہ عالم تقریر کے لیے کھڑے ہوئےتو انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ یہاں ٹیکنیشن (technicians) کی نہیں بلکہ ایکسپرٹ (experts) کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر شعیب نے بتایا کہ مولانا کی یہ تقریر بہت پسند کی گئی۔
میں نے کہا کہ یہ محض ایک خطابت ہے۔ یہ کوئی گہری بات نہیں۔ حضرت عمر اور حضرت علی دونوں جلیل القدر صحابی تھے۔ مگر حضرت عمر کی خلافت کے زمانہ میں معاملات درست تھے اور حضرت علی کی خلافت کے زمانے میں معاملات بگڑ گئے۔ کسی نے حضرت علی سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے؟
حضرت علی نے جواب دیا: ”عمر کے ساتھی میرے جیسے لوگ تھے، میرے ساتھی تمہارے جیسے لوگ ہیں“ (تاریخ ابن خلدون، جلد 1، صفحہ 264)۔ بالفاظِ دیگر عمر کے زمانہ میں ”ایکسپرٹ“ کے ساتھ ”ٹیکنیشین“ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اب ”ایکسپرٹ“ ہیں مگر ”ٹیکنیشین“ موجود نہیں۔ ایکسپرٹ کے تحت لاکھوں ٹیکنیشین درکار ہوتے ہیں تب ایک نظام چلتا ہے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی بربادی کا سب سے بڑا سبب مذکورہ بالا قسم کی پرجوش اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان یونیورسٹی بناتے ہیں، مگر وہ ابتدائی سطح پر جدید تعلیم کا انتظام وہ خلافت اور حکومت قائم کرنے کے لیے دوڑتے ہیں، مگر معاشرہ تیار نہیں عالمی انقلاب کی باتیں ان کو بہت پسند آتی ہیں، مگر افراد کے اندر انقلاب لانے سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں۔ ان کا ہر آدمی ”گنبد“ کی اصطلاحوں میں سوچتا ہے، مگر ”بنیاد“ کی اصطلاحوں میں سوچنا انہیں کم تر درجہ کی بات معلوم ہوتی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے ہوائی قلعے تو خوب بن رہے ہیں، مگر حقیقی قلعہ تعمیر کرنے میں وہ اب تک کامیاب نہ ہوسکے۔