7 فروری 1986
Al-Risala, November 2022, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مضمون نظر سے گزرا۔ اس کا عنوان تھا ”عمامہ اور اتباع سنت“۔ مضمون نگار نے محدث ابو بکر بیہقی (وفات 1066ء) کی شعب الايمان کے حوالے سے عمامہ کی فضیلت میں ایک روایت نقل کی پھر اطاعتِ رسول اور اتباع سنت کی اہمیت ثابت کرتے ہوئے عمامہ باندھنے پر زور دیا ہے۔ عمامہ باندھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عملًا ثابت ہے۔ لیکن قولًا کوئی ایک بھی صحیح حدیث نہیں جس سے عمامہ پہننے کی اہمیت ثابت ہوتی ہو۔ عمامہ کی فضیلت میں جو بھی روایتیں ذخیرہ حدیث میں موجود ہیں، وہ سب کی سب غیر ثابت شدہ ہیں، ایک بھی صحیح حدیث نہیں۔ سنن الترمذی کے شارح عبد الرحمن مبارکپوری لکھتے ہیں: لَمْ أَجِدْ فِي فَضْلِ الْعِمَامَةِ حَدِيثًا مَّرْفُوعًا صَحِيحًا وَكُلُّ مَا جَاءَ فِيهِ فَهِيَ إِمَّا ضَعِيفَةٌ أَوْ مَوْضُوعَةٌ (تحفة الأحوذی للمباركفوری، جلد 5، صفحہ 339)۔ یعنی، عمامہ کی فضیلت میں کوئی صحیح مرفوع حدیث مجھے نہیں ملی، اس تعلق سے جو حدیثیں بھی ہیں، وہ یا تو ضعیف ہیں یا موضوع۔
مثلاً ایک روایت یہ ہے: عَلَيْكُمْ بِالْعَمَائِمِ فَإِنَّهَا سِيمَاءُ الْمَلَائِكَةَ الْمَلَائِکَةِ(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 13418)۔ یعنی تم پر پگڑیاں پہننا لازم ہے، کیوں کہ یہ فرشتوں کی پہچان ہے۔ اس حدیث کا ایک راوی مجہول ہے (الحاوی للفتاوی للسيوطی، جلد 1، صفحہ 359) اور علامہ ابن طاہر پٹنی (وفات 1578ء) نے اس حدیث کو موضوعات میں شمار کیا ہے (تذکرة الموضوعات، صفحہ 155)۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: الْعَمَائِمُ تِيجَانُ الْعَرَبِ (مسند الشهاب، حدیث نمبر (68)۔ عرب کا تاج ہیں۔ یہ روایت بھی باعتبارِ اسناد ضعیف ہے (المقاصد الحسنة للسخاوی، حدیث نمبر (717)۔ یہ بات بطور واقعہ صحیح ہے کہ قدیم عرب میں پگڑی پہننا شرافت اور عزت کی علامت سمجھا جاتا اُس دور میں پگڑی آدمی کی سنجیدگی اور وقار کا نشان تھی۔ اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے بھی پگڑی کا استعمال کیا۔ مگر میرا خیال ہے کہ عمامہ باندھنا عادتِ عرب ہے، نہ کہ سنتِ رسول، یہ تاج العرب ہے، نہ کہ تاج الاسلام۔