8 فروری 1986ء
Al-Risala, November 2022, pp. 39–41
By Maulana Wahiduddin Khan
شری ڈی این آول 6 فروری کو ہمارے دفتر میں آئے۔ وہ اس وقت دہلی میں اپنے لڑکے کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں۔ بات چیت کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ اردو بخوبی جانتے ہیں۔ میں نے ان کو اپنی نئی کتاب ’’اللہ اکبر‘‘ بطور تحفہ دی۔ تیسرے دن 8 فروری کو کتاب واپس آگئی۔ نے سمجھا کہ شاید بغیر پڑھے ہوئے انہوں نے واپس بھیج دی ہے۔ مگر اس کے ساتھ ان کا ایک خط بھی اپنے اس خط میں انہوں نے کتاب کے بارے میں اپنے تاثرات بتاتے ہوئے نہایت با معنیٰ خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا تھا:
”آپ کی کتاب ’’اللہ اکبر‘‘ مجھے پرسوں عطا ہوئی تھی۔ میں اس کے مطالعہ میں اس قدر کھو گیا کہ آج صبح تک اس کو سارا پڑھ کر ہی دم لیا۔ یہ بھی قادر مطلق کی شان ہے، ورنہ 288 صفحات کی کتاب کو اتنی جلدی پڑھ لینا کوئی آسان کام نہ تھا۔ یہ کتاب میں نے انہیں واپسی کی شرط پر نہیں دی تھی، تاہم انہوں نے کتاب کو بہت ہی
حفاظت کے ساتھ ورق کے اوپر کاغذ لگا کر پڑھا اور ویسے کا ویسا ہی واپس کر دیا۔ پچھلے برسوں میں، میں نے بہت سے مسلمانوں کو ہدیہً یہ کتاب دی ہے۔ اور ان سے یہ کہا ہے کہ آپ اس کو پڑھنے کے بعد ایک خط میں اپنے تاثرات لکھ کر بھیج دیں۔ مگر جہاں تک یاد ہے غالباً کسی ایک مسلمان نے بھی اب تک ایسا خط نہیں بھیجا۔
اس طرح کے مختلف تجربات ہیں جن کی روشنی میں، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مسلمان بالکل بے جان قوم ہو چکے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ہندو ایک زندہ قوم ہیں۔ کاش اسلام کے خلاف تعصب کی دیواریں ڈھ جائیں اور وہ موجودہ دور میں خدا کے دین کے علم بردار بن سکیں۔ 9 فروری 1986 آج تبلیغی جماعت کے کچھ لوگ ملنے کے لیے آئے۔ وہ بکارواسٹیل (بہار) میں کام کرتے ان میں ایک صاحب انجینئر تھے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ہمارا مشن اور تبلیغ کا مشن اصلاً ایک ہے۔ فرق یہ ہے کہ تبلیغ عوام (masses) کے لحاظ سے کام کرتی ہے اور ہم ذہین طبقہ (intellectual class) کے لحاظ سے کام کر رہے ہیں۔
انجینئر صاحب نے کہا کہ تبلیغی جماعت دونوں طبقہ کے لیے کام کر رہی ہے۔ دیکھیے کہ ہماری جماعت جو بکارو سے آئی ہے اس میں میرے سمیت چار انجینئر ہیں۔ یہ ایک زبردست غلط فہمی ہے۔ لوگ ڈگری ہولڈرس اور انٹیلکچول کو ہم معنی سمجھتے ہیں۔ لیے وہ ایسی بات کہتے ہیں۔ حالاں کہ یہ دونوں ہم معنی الفاظ نہیں۔ انٹیلکچول سے مراد وہ شخص ہے جو غیر معمولی ذہین ہو اور مسائل پر زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچتا ہو۔ جب کہ ڈگری یافتہ ہر وہ شخص ہے جو کسی تعلیمی ادارہ سے ایک متعین کورس کو مکمل کرنے کے بعد ڈگری حاصل کرلے۔ انٹیلکچول پڑھے لکھے لوگوں میں بھی ہوتے ہیں اور بے پڑھے لکھے لوگوں میں بھی۔ معاملات کو تفکری انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ فکر و فہم ان کی غذا ہوتی ہے۔ وہ کسی بات کو اسی وقت مانتے ہیں جبکہ اس کو ان کی فکری سطح پر قابل فہم بنا دیا گیا ہو۔
8-10 فروری 1986 کو غالب اکیڈمی (نئی دہلی) میں ایک سہ روزہ سیمینار ہوا۔ موضوع اردو صحافت تھا اور اس کو اردو اکیڈمی نے منظم کیا تھا۔ راقم الحروف نے بھی اس میں ایک
ایک ہندو صحافی دہلی سے ’’مستانہ جوگی‘‘ نام کا اردو اخبار نکالتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میری پرورش لاہور میں ہوئی ۔ میں صرف اردو زبان جانتا ہوں ۔ مگر میرے بچوں کا حال یہ ہے کہ صرف ہندی اور انگریزی جانتے ہیں۔ وہ اردو بالکل نہیں پڑھ سکتے۔ یہی حال اب نئے ہندوستان میں بہت سے مسلم خاندانوں کا ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے اردو پرچوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اردو کے ساتھ ہندی پرچے نکال رکھے ہیں۔ مثلاً ’’شمع‘‘ اردو کا ماہنامہ ہے۔ مگر اسی کے ماتحت اس نے ’’شُشما‘‘ نام سے ہندی ماہنامہ نکال رکھا ہے۔ اسی طرح اور بہت سے پرچے اردو کے ساتھ ہندی ایڈیشنز جاری کیے ہوئے ہیں۔ تا کہ اگر اردو کی کشتی ڈوبے تو وہ ہندی کی کشتی پر سوار رہ مگر یہی بات آپ کسی ہندی پرچے میں نہیں پائیں گے۔ یعنی کوئی ہندی پرچہ ایسا نہیں ہے جس نے ہندی کے ساتھ اردو کا پرچہ جاری کر رکھا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس ملک کا مستقبل ہندی کے ساتھ ہے۔
میرا خیال ہے کہ تاریخ کے بارے میں اس قسم کے اندازے اکثر صحیح نہیں ہوتے۔ طور پر تقسیم کے بعد عام خیال یہ تھا کہ ملک میں اردو کا بالکل خاتمہ ہو جائے گا۔ مگر چالیس سال بعد بھی اردو ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ آزادی کے وقت اور آج کی صورت حال کا موازنہ کیا جائے تو اردو کافی بڑھی ہے۔ دوسری بات ایک اور ہے جس کو اکثر لوگ بھول جاتے ہیں۔ ہندوستان میں لکھنے والی اردو ضرور کم ہوئی ہے، مگر بولی جانے والی اردو میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ ہندوستان کے ٹیلی وژن میں جو زبان استعمال ہوتی ہے، وہ واضح طور پر اردو ہوتی ہے، نہ کہ ہندی۔ حقیقت یہ ہے کہ زبانوں کا تسلسل ختم ہونا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور اردو بلا شبہ کوئی استثنا نہیں۔