Al-Risala · November 2022

مولانا کے بعد

Al-Risala, November 2022, pp. 44–48

By Maulana Wahiduddin Khan

آج بتاریخ 14 اکتوبر 2022ء کو مولانا وحید الدین خاں صاحب کی رہائش گاہ (نظام الدین ویسٹ، نئی دہلی) پہنچا۔ گیٹ کھول کر اندر داخل ہوا تو مولانا کی صاحبزادی ڈاکٹر فریدہ خانم (آپا) نے آواز دی کہ اوپر آ جائیں۔ میرے قدم لڑکھڑا رہے تھے۔ بالآخر کسی طرح سیڑھیاں چڑھ کر مولانا مرحوم کے کمرے میں داخل ہو گیا۔ میں جس شخصیت سے استفادے کے لیے ہمیشہ حاضر ہوا کرتا تھا، آج شدت سے مجھے اس کی غیر موجودگی کا احساس ستانے لگا۔ آنکھیں اشکبار تھیں۔ میرے کانوں میں مولانا کے سادہ اور محبوب کلمات گونج رہے تھے۔ مثلاً، ارے بھائی! یہ گویا کسی درد مند دل کی پکار تھی۔ اسی کے ساتھ یہ سوالات بھی سنائی دینے لگے: "اقبال صاحب! نئی خبر، کوئی نیا تجربہ ہے آپ کے پاس۔ " ایک مرتبہ ایک صاحب نے کہا تھا کہ کوئی خبر نہیں تو مولانا نے کہا کہ آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں۔ ہر دن نیا سورج نکلتا ہے، پوری کائنات اعلیٰ بندوبست کے ساتھ چل رہی ہے۔ کیا یہ خبر (نیوز) نہیں ہے۔ گویا مولانا کے نزدیک اخباری نیوز کوئی نیوز نہیں تھی، بلکہ حقیقی نیوز وہ تھی، جس سے معرفت کا رزق حاصل ہو۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ آج بظاہر سوال کرنے والا ہمارے سامنے موجود نہیں ہے، مگر سوال بدستور قائم ہے۔ تا کہ مولانا کے بعد بھی معرفت کا عمل رکے بغیر جاری رہے۔ مولانا کے کمرے میں خالی کرسی اور شیلف میں آویزاں اُن کے عبا کو پر نم آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا، ایک طرف خالی کرسی اور جبہ، دوسری طرف مولانا کی ساری تصنیفات۔ گویا کرسی اور ان کا جبہ زبان حال سے یہ کہہ رہے تھے کہ یہ شخصیت اب ان کتابوں میں موجود ہے۔

پنچ پیراں قبرستان میں: اس کے بعد پہلی بار مولانا وحید الدین خاں صاحب کی قبر پر حاضری کا بستی حضرت نظام الدین کے قبرستان پنچ پیراں کے صدر دروازے سے داخل ہونے کے بعد سیدھے قبرستان کے آخری حصے میں ایک مزار کی مضبوط فصیل بنی ہوئی ہے۔ ٹھیک اس سے ذرا پہلے مولانا کی قبر موجود ہے۔ میری زبان گنگ تھی۔ ''السلام علیکم یا اہل القبور‘‘ (اے قبر کے ساکنو، تم پر

سلامتی ہو) کے روایتی الفاظ زبان پر جاری تھے۔

قریب ہوا، اپنے ساتھی سے قبلہ معلوم کیا اور نماز جنازہ ادا کی۔ میرا دل مولانا کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہہ رہا تھا کہ مولانا! فی الوقت میں آپ کی قبر کے پاس ہوں۔ جس معرفت کی سطح پر آپ پہنچے ہیں اس کو لے کر مجھے اور میرے ساتھیوں کو آگے بڑھنا ہوگا۔ اس وقت میں قبرستان میں اسی اضطراب کے عالم میں کبھی میں قبر کے کتبہ پر ہاتھ لگاتا، کبھی قبر کو دیکھتا۔ گویا میں مولانا سے کچھ سننا چاہتا ہوں۔ مگر میرے شعور نے کہا کہ مولانا آپ نے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے کسی کی پرواہ کیے بغیر واضح طور پر خدا کی ہر بات کھول کھول کر بتادی، آخری حد تک خیر خواہی کردی (قَدْ بَلَّغْتُ، وَأَدَّيْتُ، وَنَصَحْتُ)۔ اب مولانا خدا کے فطری قانون کے تحت ہم سے جدا ہو کر آخرت کے سفر پر روانہ ہو چکے ہیں۔ پھر یہ ہم لوگوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ہم نے مولانا کے ذریعہ جو عصری اسلوب میں اسلام پایا ہے اس کو آگے لے کر جائیں۔

بہر حال، انھیں کیفیات سے گزرتا ہوا سوچ رہا تھا کہ اچانک مجھے افطار کے وقت کی ایک دعا یاد آگئی: ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ، وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر یعنی، پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر و ثواب قائم ہو گیا۔ اس دعا کو میں اس طرح پڑھنے لگا: ذھب روح مولانا و دفن الجسم و ارجو من الله ان يثبت له الفردوس (مولانا کی روح پرواز کر گئی۔ جسم قبر کے حوالے ہو گیا اور اللہ سے امید ہے کہ وہ اپنے فضل سے مولانا کو جنت الفردوس میں ٹھکانہ عطا فرمائے گا)۔ اور یہ بھی سوچا کہ مولانا کی روح جب پرواز کر رہی تھی تو اس وقت بھی وہ اسی قسم کے الفاظ دہرا رہے ہوں گے: :ذھب نفسی، و دفن جسدی و أرجو من الله ان يثبت اجرِی (میری روح پرواز کر گئی میرا جسم سپرد خاک ہو گیا امید ہے کہ میرا رب میرے حق میں بہتر فیصلہ فرمائے گا)۔ گویا مولانا کی سادہ زندگی معرفت کی راہ کا "روزہ" تھا، موت ان کے لیے رفیق اعلیٰ سے ملاقات کا "افطار" بن گئی۔

حقیقت کی تلاش اور حقائق کی یافت کی خاطر ان کی ہڈیاں چٹ گئیں اور رگوں کا خون خشک ہو گیا، پوری امید ہے کہ برزخ کی زندگی میں خدا نے انھیں ضرور تر و تازہ رکھا ہوگا، اور اجر عظیم کا فیصلہ کیا ہوگا جس

کی رضا کی خاطر مولانا نے لوگوں کی ناراضگی کو برداشت کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ معرفت والا دین غائب ہو جائے اور رسمی عبادت باقی رہ جائے تو از سرِ نو روحِ عبادت کو ڈسکو ر کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ وحید الدین خاں نے یہی کام سر انجام دیا ہے۔

داعی کا مشن: خدا امید کا سر چشمہ ہے۔ ایک سچے مومن کے لیے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ اس کی ساری زندگی اضطراب میں گزرتی ہو، مگر اس کا خاتمہ پر امید ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ ایک معلوم مقام کی طرف جا رہا ہوتا ہے، یعنی آخرت اور خدا کی بنائی ہوئی جنت کی طرف۔ معرفتِ رب ہو یا معرفتِ آخرت، اس کی تذکیر کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی۔ مگر شیطان غفلت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ یہ جوانوں کا موضوع نہیں، بوڑھے لوگوں کا موضوع ہے۔ لوگ زندگی سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ انسان کی یہی سب سے بڑی نادانی اور سرکشی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ موت کی یاد اور اس کے لیے تیاری کا چر چا آج کل بہت کم ہوتا جا رہا ہے۔ کوئی داعی یا مربی معرفت رب یا فکرِ آخرت کی یاد دہانی کراتا ہے تو ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔ آخرت کے علاوہ بقیہ سارے موضوعات سے ہر دن روز نامچے یا اخبار ہمیں آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ کے منصوبہ تخلیق کے مطابق، اصل تیاری آخرت کی ہے۔ جس کے لیے خالق نے اہتمام کے ساتھ انبیاء کرام کو منتخب کیا تھا۔ قرآن میں ہے: اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ (38:46)۔ بے شک ہم نے ان کو ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا کہ وہ آخرت کی یاد دہانی ہے۔ چنانچہ آخرت داعی کا خاص موضوع ہوتا ہے۔ مسائل دنیا تو غیر داعی کا موضوع ہے، مگر مسائل آخرت صرف ایک نبی اور ان کے بعد ان کے ماننے والے داعی کا موضوع ہوا کرتا ہے۔ یقیناً مولانا کی ہر بات آخرت رخی تھی۔ ان کی مجلسوں، ٹیلیفونگ گفتگو اور ان کی کتابوں سے میں نے یہی پایا ہے۔ معرفت اور آخرت کے داعی بن کر دنیا میں رہے اور اسی حالت میں وہ اس دنیا سے چلے گئے۔ نے اس مقصد کے لیے آخری حد تک اپنی صلاحیتوں کی قربانی دی۔ انھوں نے اللہ کی عبادت کو مقصد اور اس کی طرف بلانے کو اپنا مشن بنایا، ان کی ساری تحریروں کو اسی نقطہ نظر کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔ (مولانا سید اقبال احمد عمری، عمر آباد)

ایک حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ " کسی باپ کی طرف سے اپنی اولاد کو سب سے عمدہ وراثت اچھا ادب سکھانا ہے" (المعجم الاوسط ، حدیث نمبر 3658) ۔ کہتے ہیں کہ گھر بچہ کا پہلا مدرسہ ( اسکول ) جہاں وہ سب سے پہلے اپنے والدین ، گھر کے ماحول اور گھر کے باقی افراد سے غیر رسمی طور پر بہت کچھ سیکھتا ہے ۔ اور بچہ کی پرورش ، نمو اور تربیت کا یہی وہ اہم ترین دور ہوتا ہے جس میں ہر سکھائی یا سیکھی گئی بات ( چاہے وہ صحیح ہو یا غلط) بچہ کے دل و دماغ میں نقش ہو جاتی ہے اور عملی طور پر زندگی بھر وہ اس کو یاد رکھتا ہے۔

یعنی اگر گھر کا ماحول بہتر ہوگا تو بچہ کی پرورش اور تربیت بھی بہت صحیح انداز میں ہوگی۔ ہے گھر کا ماحول والدین کی بہتر سوچ اور عمل سے ہی بہتر ہو سکتا ہے۔ اگر والدین کو خود تربیت کی ضرورت ہو تو وہ اپنے بچوں کی تربیت کیسے کر پائیں گے ۔ اس لیے کہ تربیت یافتہ ہی دوسروں کی بہترین تربیت کر سکتے ہیں۔ اور یہی ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ والدین کی اکثریت یہی سوچتی اور سمجھتی ہے کہ بچے کی تربیت اسکول، مدرسہ، کالج یا یونیورسٹی کرتی ہے۔ ان کی ساری امیدیں اور امنگیں ان رسمی تعلیمی اداروں سے وابستہ ہوتی ہیں ، وہ بچے کی پہلی درسگاہ (گھر) کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ ایسے لوگ پھر بچوں کے بگاڑ کے ذمہ دار بھی ان تعلیمی اداروں کو ٹھہراتے ہیں۔ تربیت اولاد کے موضوع پر بہت ساری کتابیں اور مضامین لکھے جا چکے ہیں ان کو بے شک پڑھیں لیکن 80 صفحات پر مشتمل زیر تبصرہ کتاب " تربیت اولاد " اس موضوع پر مختصر مگر ایک جامع اور شاندار کتاب ہے۔ اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس کے مصنف کی علمی و فکری شخصیت سے کیا جا سکتا ہے، جو کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ نہ صرف سنجیدہ والدین کو بلکہ علم و دانش سے تھوڑا بہت شغف رکھنے والے ہر فرد کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔ یہ کتاب معاشرے کے ہر فرد کے لیے ایک نایاب تحفہ ہے۔ فرد بدلے گا تو خاندان بدلیں گے اور اس طرح معاشرہ بہتر سے بہترين کی طرف سفر کرے گا۔ یقیناً آپ احباب نے اس موضوع پر اب تک کئی کتابیں پڑھی ہوں گی لیکن ایک

موقع اس چھوٹی سی کتاب کو بھی دیجیے، جو ہماری نسلوں کی بقا جیسے اہم مقصد کے تحت لکھی گئی ہے۔ کتاب کے صفحہ 11 کا ایک پیراگراف ملاحظہ کیجیے:" آج کل ہر باپ اپنی اولاد کی شکایت کرتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر باپ کو خود اپنی شکایت کرنا چاہیے۔ عام طور پر والدین یہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کے ماحول کو سادہ نہیں بناتے۔ ان کی سب سے بڑی خواہش یہ رہتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ہر شوق کو پورا کر سکیں۔ وہ اپنے بچوں کو "ٹی وی کلچر" کا عادی بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو گھروں کے بگاڑ کا اصل سبب ہے۔ اس بگاڑ کی تمام تر ذمے داری والدین پر ہے، نہ کہ اولاد پر۔ " (طاہر حجازی،

Printed page