مذہب اور جدید چیلنج
Al-Risala, November 2022, pp. 48–51
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دور میں الحاد (Atheism) کا نظریہ پھیل رہا ہے۔ موجودہ الحاد سائنس اور فلسفے کے جلو میں نمودار ہوا ہے جس نے پڑھے لکھے طبقے کو متاثر کیا ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ الحادی فکر سے متاثر ہو رہا ہے۔ لوگ اگرچہ صراحتاً خدا کے وجود کے منکر نہیں بنے لیکن تشکیک (agnosticism) میں ضرور مبتلا ہوئے۔ موجودہ سائنسی علوم کا ارتقا جن شخصیات کے ہاتھوں ہوا وہ یا تو خدا کے وجود کے منکر تھے یا متشکک لہٰذا وقت کی بڑی اہم ضرورت تھی کہ موجودہ الحادی فکر کو سائنس کی روشنی میں رد کیا جائے اور سائنس سے خدا کے وجود کا اثبات کیا جائے۔ مولانا وحید الدین خان صاحب نے اس کام کا بیڑا اٹھایا اور سائنسی مسلمات کی روشنی میں الحادی فکر کا رد کیا۔ مولانا چونکہ انگریزی زبان سے گہری واقفیت رکھتے تھے، لہٰذا انہوں نے سائنسی اور الحادی مواد کا اصل سورس سے مطالعہ کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ الحاد کا ایسا رد سائنس کی روشنی میں کسی اور شخصیت نے نہیں کیا جیسا انہوں نے کیا۔ اس ضمن میں ان کی اہم کتابیں مندرجہ ذیل ہیں: مذہب اور سائنس 2۔ مذہب اور جدید چیلنج، عقلیات اسلام 4۔ خدا کی دریافت: سائنسی حقائق کی روشنی میں۔
دینی مدارس کے طلبہ وعلما کو ان کتابوں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ یہ کتابیں سی پی ایس انٹرنیشنل کی ویب سائٹ (www.cpsglobal.org/books) پر بھی موجود ہیں۔ (ڈاکٹر فرخ نوید، پاکستان)
میں نے مولانا صاحب سے کیا سیکھا: مولانا وحید الدین خاں صاحب سے میں نے وہ سب سیکھا جو کسی اور سے نہ مولانا صاحب جیسی ہستی سے کاش بہت پہلے ہی تعارف ہو جاتا تو تعصبات اور فرقہ واریت اور مذہبی ظاہر پرستی میں اپنے قیمتی ایام ضائع نہ کرتا۔ خیر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مولانا وحید الدین خاں کی شکل میں عظیم رہنما اور غیر معمولی شخصیت سے ملاقات کروا دی۔ مولانا صاحب کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ اصحاب رسول اور انبیاء کرام کا خشیت الہی اور معرفت کا کتنا عظیم لیول ہوگا۔ مولانا صاحب کے بارے میں سب سے پہلے جناب ابو یحییٰ صاحب (ادارہ انذار) نے بتایا تھا۔ اس کے بعد میں نے مولانا کی پہلی تقریر انٹر نیٹ پر سنی اور پہلی کتاب 2017 پھر مولانا کے ہی ہو کر رہ گئے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مولانا کو میری زندگی میں شامل کر دیا۔ میں لفظوں میں کیسے بتاؤں کہ مولانا صاحب نے میری زندگی میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے۔ مولانا کی بدولت دین کی اصل روح اور حقیقت سے آشنائی ہوئی۔ مثبت اندازِ فکر اور معرفت الہی کو سمجھنے میں مدد ملی۔ زندگی کی بے ثباتی اور موت کی حقیقت آشکار ہوئی۔ عام مذہبی فکر سے اعراض اور اصل اسلام کی پہچان ہوئی ۔ قرآن سے تعلق اور اس کو بنیادی اور مرکزی حیثیت دینے میں مدد ملی ۔ اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ ایمان و اخلاق اور تزکیہ نفس ہی نجات کا اصل ذریعہ ہے ۔ مالک کے تخلیقی منصوبہ کا فہم حاصل ہوا ۔ صبر و شکر کی اہمیت اور اصل روح سے آشنائی انفس و آفاق کی نشانیوں اور کائنات میں تدبر اور تفکر کرنا پیدا ہوا ۔ مالک کائنات کی کبریائی اور عظمت کا خواہش تھی کہ آپ جب کبھی پاکستان آئے تو ضرور ملاقات کا شرف حاصل کروں گا لیکن اس فانی دنیا میں یہ خواہش پوری نہ ہو سکی۔ ان شاء اللہ رب العالمین جنت میں یہ موقع ضرور دے گا۔ ( طارق سلیم، گورنمنٹ ہائی سکول ، ضلع پاک پتن )
3 مئی 2022 کو سی پی ایس سہارن پور نے اپنے سینٹر پیس ہال میں عید ملن پروگرام کا انعقاد کیا تھا، جس میں سماجی اور سیاسی اور بیورو کریسی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوئے ۔ ان تمام لوگوں کو سہارن پور ٹیم کی جانب سے بطور عید گفٹ دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ اسی طرح 25 مئی 2022 دہلی لیلا پیلیس میں ڈاکٹر اسلم کو امن و شانتی کے میدان میں کام کرنے لیے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ایوارڈ دینے کے لیے مرکزی وزیر مسٹر انوراگ ٹھاکر آئے تھے۔ اور دوسرے مہمانوں کو دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ تمام لوگوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا، اور کتابیں پڑھنے کا وعدہ کیا۔ کتاب میلہ (Book Fair) حصول علم و معلومات کا وسیلہ ہے۔ یہاں پر علم اور مطالعہ سے دلچسپی رکھنے والے لوگ اس لیے مولانا وحید الدین خاں صاحب ہمیشہ سی پی ایس ٹیم کو بک فیر میں شرکت پر ابھارا کرتے اس کا نتیجہ ہے کہ سی پی ایس انٹر نیشنل ہمیشہ نیشنل اور انٹر نیشنل سطح پر منعقد ہونے والے بک فیر میں شریک ہوتا رہا ہے۔ مثلاً 6-3 نومبر 2021 کو شارجہ میں انٹر نیشنل بک فیر لگا تو اس میں گڈ ورڈ بکس نے شرکت کی۔
چنئی بک فئر: مولانا اسرار الحسن عمری (چنئی)کے کے مطابق، چنئی بپاسی (BAPASI) کے زیرِ اہتمام منعقد 45 واں بک فئر 16فروری 2022 کو شروع ہوا اور 6 مارچ 2022 کو اختتام پذیر ہوا۔ اس بک فئر میں چنئی گڈ ورڈ تقریباً دس سالوں سے حصہ لے رہا ہے۔ اس بار گڈ ورڈ کو چنئی BAPASI کی ممبر شپ بھی حاصل ہوگئی اس سال بک فئر میں تقریباً آٹھ سو پبلشرز نے حصہ لیا۔ بک فئرآنے والی پبلک کی تعداد پندرہ لاکھ تک بتائی جا رہی ہے۔ اس بک فئر سے پتا چلا کہ جہاں لوگوں میں ڈیجیٹل کتابوں کا رجحان بڑھ رہا ہے، وہیں لوگوں کی کثیر تعداد ہارْڈ کاپی میں مطالعہ کرنا پسند کرتی ہے۔ اس مرتبہ سی پی ایس چینی نے تمَل زبان میں دو کتابیں ریلیز کیں: جملِ ترجمہ قرآن کا روائزڈ ایڈیشن اور گارڈا آرائرز کا تمل ترجمہ۔ پبلک نے دونوں کتابوں کو بہت پسند کیا۔ بہت سے لوگوں کو ہم نے یہ کتابیں بطور تحفہ بھی پیش کیں۔ اس سال ہمارے اسٹال پر جو لوگ آئے ان میں ایک معروف نام تامل اور ملیالم ٹی وی ایکٹر یس مرشبانۂ شاہ جہاں ہیں۔ انھوں نے کچھ کتابیں خریدیں، مثلاً لیڈنگ اے اس کے علاوہ ان کو پرافت آف پس بطور تحفہ دی گئی۔ اس کتاب میلے سے یہ احساس بڑھا کہ الرساله مشن کی تمام کتابوں کا تمل ترجمہ ہم کو جلد از جلد کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اس کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ لکھنؤ بک فئر: لکھنؤ بک فئر (2022 23rd Sep to 2nd Oct) میں سی پی ایس ممبران مولانا سید اقبال احمد عمری، خطیب اسرار الحسن عمری (چنئی)اور اور مسٹر آصف خان (کانپور) اسٹال کا انتظام سنبھالا۔ یہاں بھی کافی تعداد میں پبلک اسٹال پر آئی، اور قرآن و دیگر لٹریچر حاصل کیا۔ یہاں انگریزی کتابوں کی بہت ڈیمانڈ تھی۔ اس کے علاوہ دوسرے مقامات پر ہونے والے بک فئر میں سی پی ایس انٹرنیشنل کی مختلف ٹیموں نے حصہ لیا۔ مثلاً سی پی ایس پاکستان نے جن بک فئر (20-23 میں حصہ لیا، وہ یہ ہیں: اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی بک فئر اسلام آباد (18-14 دسمبر 2021)، جی سی یونیورسٹی بک فئر دسمبر 2021)، انٹرنیشنل بک فئر کراچی (22'3 Jan to 3 Dec'21 30)، پریمیر بک فئر لاہور (13-11 مارچ 2022)، فیصل آباد اگریکلچر یونیورسٹی بک فئیر (31-27 مارچ 2022)، لاہور بک فئیر (15-12 مئی 2022)، بک فئیر مجلس ترقی ادب، لاہور (14-11 اگست 2022)۔ اس کے علاوہ امریکا کے ایریزونا میں 13-11 مارچ 2022 اور آسٹن (ٹیکساس) میں 5-6 نومبر 2022 کو بک فئیر لگا۔ ان میں سی پی ایس امریکا نے شرکت کی۔ ان تمام بک فئرمیں آنے والے لوگوں میں تراجم قرآن کے علاوہ معرفتِ خدا اور امن عالم، وغیرہ کے موضوعات پر کتابیں تقسیم کی گئیں۔
4. I am, Muhammad Sohaib From England, and I am a Physiotherapist here. Every day I watch Maulana Wahiduddin khan's videos. I learned many things. Please upload the video at least once a week, and your Background Islamic tone is very effective and heart-touching. Please include this background tone in every Video. 5. I pray for you and send my best wishes regarding this magnificent deed of Tableegh e Deen. Undoubtedly the youngsters of today direly need to understand the Almighty's message, the Quran, through the books of Maulana Waheedudin Khan. (Muhammad Rafique [qrafi*****@yahoo.com])
November-December 2022 • Rs. 40 مقصد وہ ہے جو قابلِ حصول ہو۔ جو قابلِ حصول نہیں وہ مقصد بھی نہیں۔