Al-Risala · January 2022

تبصرہ

Al-Risala, January 2022, pp. 34–37

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ واقعہ بتا رہا ہے کہ دور قدیم کی ہڈیوں کے ٹکڑے جمع کرکے ان کی بنیاد پر جو قیاسی ڈھانچے کھڑے کیے گئے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے۔ بے شک دور قدیم میں کوئی ڈاسن موجود نہیں تھا جو ہم کو دھوکا دینے کے لیے ان ہڈیوں کا حلیہ بگاڑ دیتا۔ مگر لاکھوں اور کروڑوں برس تک آندھی، طوفان اور زلزلے زمین کے اوپر جو الٹ پلٹ کر رہے تھے ان کی وجہ سے ہڈیوں کے مقام اور ان کی ہیئت میں وہ ساری تبدیلیاں ہونا ممکن ہیں جن کا آج ہم نے ’’ڈاسن مین‘‘ کی صورت میں تجربہ کیا ہے۔ کے حامیوں کے پاس وہ کون سا علم یقین ہے جس کی بنیاد پر وہ نامعلوم ماضی کے بارے میں اتنی قطعیت کے ساتھ اپنا دعویٰ پیش کر رہے ہیں۔

اس موضوع پر اپنے مضمون کو ختم کرتے ہوئے ماہنامہ پاپولر سائنس (Popular Science) کا مضمون نگار آخر میں لکھتا ہے:

پلٹ ڈاؤن کی خیالی داستان اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکی ہے۔ مگر ایک معمہ ابھی تک حل نہ وہ کیا مقصد تھا جس کے لیے ڈاسن نے اتنا بڑا جھوٹ تیار کیا؟ اس کو اس کام سے کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ برٹش میوزیم کو اس نے جو ہڈیاں فراہم کی تھیں وہ اس نے محض تحفہ کے طور پر پیش کی تھیں۔ اس نے ان کی کوئی قیمت وصول نہیں کی۔ پھر کیا شہرت اس کا مقصد تھا۔ زبردست فریب کے ذریعہ وہ محض ایک مذاق کرنا چاہتا تھا۔ اس انگریز جعل ساز کو آخر کس چیز نے اس کام پر آمادہ کیا۔ اس کا معلوم کرنا کیمیاوی اور طبعی تجربوں کی دسترس سے باہر ہے۔ وہ ہمیشہ ایک راز ہی رہے گا۔ یہ فقرہ درحقیقت اس بات کا اعتراف ہے کہ تجربی علم (Tested Knowledge) اپنی محدودیتوں کی وجہ سے کائنات کی توجیہ نہیں کر سکتا۔ وہ ہماری دنیا کے صرف بعض واقعات کا تجزیہ کر سکتا ہے، جب کہ ہمیں ایک ایسے علم کی ضرورت ہے جو تمام واقعات کا تجزیہ کرے ۔ حقیقتوں کو ہم پر آشکارا کر سکے۔ ایسا کامل علم صرف وحی کا علم ہے، اس کے سوا کوئی اور علم اس ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا۔

ارتقا کا مفروضہ قافلہ کائنات کی معلوم شاہراہوں میں اپنا راستہ نہ پا سکا ڈارون (1809-1882) کو یقین تھا کہ زندگی ایک ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ مکوڑے اپنے اعضا میں ترقیاتی تبدیلیاں کرتے کرتے بکری بن گئے اور بکری نے ترقی کر کے زرافہ کی صورت اختیار کر لی۔ پچھلے سو برس کے دوران یہ ایک مسلمہ سائنسی عقیدہ بن گیا تھا۔ مگر حالیہ مطالعہ نے اس عقیدہ کو علمی حیثیت سے متزلزل کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر معلوم ہوا ہے کہ زمین کی عمر اس اندازہ سے بہت کم ہے جو ارتقائی طور پر زندگی کی انواع کو وجود میں لانے کے لیے ضروری ہے۔ اب علمائے حیاتیات کا قیاس یہ ہو رہا ہے کہ زمین سے باہر کائنات کے کسی مقام پر انسان جیسی تہذیب موجود ہے اور اس نے بالقصد زندگی کا جراثیم (bacterium) اوپر سے زمین پر بھیجا مگر یہاں بھی ایک رکاوٹ درپیش ہے۔ کائناتی وقت اتنا کافی نہیں کہ اس کے اندر دو تہذیبیں ایک کے بعد ایک ترقی کر سکیں۔ ایک زمین پر۔ دوسری کسی اور سیارہ میں۔ گویا انسانی علم وہاں پہنچ گیا ہے جہاں اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ ایک قادر مطلق کے وجود کو تسلیم کرلے۔ زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی، اس کے بارے میں حال ہی میں ایک چونکا دینے والا نظریہ سامنے آیا ہے۔ اس نظریہ کو پیش کرنے والے دو ممتاز مالے کیولر بیالوجسٹ ہیں۔ ایک، نوبل انعام یافتہ فرانس کریک (Francis Crick) دوسرے لزلی آرگل (Leslie Orgel)۔ کے مطابق زمین پر زندگی کا آغاز نہ تو خود بخود ہوا اور نہ اس طرح کی کچھ ملین سال پہلے ایک ابتدائی مادہ سے ایک جسم حیوانی (organism) بنا اور اس سے تدریجی ارتقا کے ذریعے زندگی کی انواع وجود میں بلکہ زندگی ایک ایسے تجربے کا نتیجہ تھی جو کچھ غیر ارضی ہستیوں (Extraterrestrial Beings) نے کروڑوں سال پہلے پلان کیا تھا۔

کریک اور آرگل یہ فرض کرتے ہیں کہ ہمارے کہکشانی نظام کے دوسرے سیاروں میں ترقی

یافتہ تہذیبیں موجود ہیں۔ ان قیاس کے مطابق ، اسی قسم کے کسی سیارہ کے باشندوں نے کچھ ہزار ملین سال پہلے طے کیا کہ وہ اس بات کا تجربہ کریں کہ کیا ان کے پڑوسی سیاروں میں زندگی اپنے لیے نیا ماحول پیدا کرسکتی ہے ۔ چنانچہ انھوں نے ہماری کہکشاں کے کچھ سیاروں پر زندگی کے جراثیم اسی قدیم تجربہ کا نتیجہ ہماری موجودہ تہذیب ہے۔

انیسویں صدی میں ڈارون کے نظریہ کے بعد اہل مذاہب کا مخصوص تخلیق کا نظریہ علمائے سائنس کے درمیان ختم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد سائنس داں اس سوال کا جواب معلوم کرنے میں سرگرداں تھے کہ زندگی شروع کس طرح ہوئی۔ اس بحث کے دوران سویڈن کے کیمسٹ ارے نیس (Arrhenius) نے انیسویں صدی کے آخر میں یہ تخیل پیش کیا کہ کچھ بیکٹیریائی اجزاء کسی ایسے سیارہ سے زمین پر آگئے، جہاں پہلے سے زندگی موجود تھی، اور پھر تدریجی ارتقا کے ذریعہ اقسام حیاتیات کو وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ارے نیس نے اس طریق عمل کو’’پینس پرمیا‘‘ کا نام دیا۔ اس نظریہ کو اس تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ بیکٹیریا بین سیاراتی سفر میں خطرناک ریڈی ایشن (radiation) کے مقابلہ میں زندہ نہیں رہ سکتا ، لارڈ کلوین (Kelvin) نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا’’ہو سکتا ہے کہ بیکٹیریا کسی شہابئے سے چپک گیا ہو اور اس پر سوار ہو کر زمین پر آیا ہو ۔ اگرچہ یہ ممکن ہے کہ بیکٹیریائی اجزاء شہابئے پر سوار ہو کر ایک سیارہ سے دوسرے سیارہ کا سفر کریں، تاہم پینس پرمیا کا نظریہ کبھی سائنس دانوں کے لیے قابل قبول نہ ہو سکا تھا۔ اس نظریہ کا اساسی مقدمہ یہ ہے کہ زندگی اس سے پہلے کہیں موجود تھی، جب کہ اس نظریہ میں اس کا جواب نہیں ملتا کہ دوسرے سیارہ پر زندگی کیسے وجود میں آئی۔

کریک اور آرگل، یہ مانتے ہوئے کہ بیکٹیریائی اجزاء کی اتفاقی ہجرت ناممکن ہے۔ ہیں کہ اس وقت یہ قابل قیاس ہو جاتا ہے جب کہ یہ مانا جائے کہ بالقصد کسی نے زندگی کے جراثیم کو زمین پر بھیجا ہو۔ وہ اس عمل کو معین پنسپر میا (Directed Panspermia) کا نام دیتے ہیں۔ اس نئے نظریہ کے ثبوت میں کریک اور آرگل دو حیاتیاتی مسئلوں کا حوالہ دیتے ہیں۔

سے ایک جینیٹک کوڈ ہے۔ ہر ایک موجودہ زمانہ میں تسلیم کرتا ہے کہ زمین پر زندگی کی تمام قسموں کے لیے صرف ایک کوڈ ہے۔ کوئی حیاتیاتی عالم اس عالمگیریت کی توجیہ نہے کر سکتا کہ سب کے لیے ایک ہی کوڈ کیوں ہے۔ آرگل اور کر یک کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حیاتیات کا ایک ہی بیج تھا، جس سے زندگی شروع ہوئی، اس لیے فطری طور پر اس بیج کا جینیٹک کوڈ، جو کروڑوں سال پہلے کسی دوسرے سیارے کے باشندوں نے زمین پر بھیجا تھا، اپنا اعادہ ایک ہی جینیٹک کوڈ کی شکل میں کرتا رہا۔ دوسری چیز مولب ڈینم (Molybdenum) نامی دھات کا وہ رول ہے جو حیاتیاتی نظام میں پایا جاتا ہے۔ اکثر انزائم سسٹم اپنی کارکردگی کے لیے اس کے اور صرف اس کے محتاج مولب ڈینم اتنا غیر معمولی طور پر اہم ہونے کے باوجود زمین میں پائی جانے والی کل دھاتوں کا صرف 0.02 فی صد (دس ہزار میں دو) ہے۔ دوسری طرف بعض زیادہ مقدار میں پائی جانے والی دھاتیں مثلاً کرومیم اور نُکل، جو کہ اپنی خاصیت میں مولب ڈینم سے بہت مشابہ ہوتی ہیں اور زمینی دھاتوں کا 0.2 فی اور 3.16 فی صد ہیں، حیاتیاتی نظام میں بالکل ہی کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ کر یک اور آرگل کہتے ہیں کہ زمین کی جو کیمیائی ترکیب ہے وہ زمین پر وجود میں آنے والی زندگیوں کی بناوٹ میں منعکس ہونی چاہیے تھی۔ اور چونکہ ایسا نہیں ہے اس لیے ماننا پڑے گا کہ زندگی کچھ ملین سال پہلے زمین پر باہر سے بھیجی گئی۔

اگر معین پینس پرمیا کا نظریہ مان لیا جائے تو اس سے دو سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کائناتی وقت اتنا کافی ہے کہ اس کے اندر دو تہذیبیں ایک کے بعد ایک ترقی کر سکیں، ایک زمین پر اور دوسری کسی اور سیارہ میں۔ (2) کیا حیاتیاتی جرثومہ بین سیاراتی فاصلوں کو عبور کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ زندہ حالت میں پہنچایا جا سکتا ہے۔

کر یک اور آرگل کا خیال ہے کہ ان کا نظریہ قبولیت حاصل کرلے گا، اگر یہ ثابت ہو سکے کہ وہ عناصر جو زمینی زندگی کے اجزائے ترکیبی ہیں، وہ وہی ہیں جو بعض قسم کے ستاروں میں، ان کے قیاس کے مطابق کثرت سے پائے جاتے ہیں۔

Printed page