Al-Risala · January 2022

تزئین یا ڈسٹریکشن

Al-Risala, January 2022, pp. 43–46

By Maulana Wahiduddin Khan

ایسا کیوں ہوا کہ امت کا فوکس اصل پہلو سے ہٹ گیا۔ اس کو سمجھنے کے لیے ابلیس کے کیس کو سمجھنا ہوگا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے جب پہلے انسان، آدم کو پیدا کیا، اور اس وقت کی موجود مخلوق فرشتے اور ابلیس کے سامنے اس کو پیش کیا تو شیطان نے ناراضگی کے ساتھ کہا تھا: رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (15:39)۔ یعنی ابلیس نے کہا، اے میرے رب، جیسا تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے اسی طرح میں زمین میں ان کے لیے تزئین کر دوں گا اور سب کو گمراہ کروں گا۔

تزئین شیطان کی سب سے خطرناک چال ہے۔ اس آیت میں تزئین کا مطلب کچھ مفسرین نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: لأشغلنهم بزينة الدنيا عن فعل الطاعة (تفسیر الماوردی، جلد 3، صفحہ 160)۔ یعنی میں ضرور ان کو اطاعت کے عمل سے ہٹا کر دنیا کے فریب میں مشغول لأزَيّنَنّ لهم الباطل حتى يقعوا فيه (زاد المسیر لابن الجوزی، جلد 2، صفحہ 534)۔ یعنی میں ان کے لیے بے نتیجہ باتوں کو مزین کروں گا، یہاں تک کہ وہ اس کا شکار ہو جائیں گے۔ تفسیری اقوال کی روشنی میں شیطان کا کام کیا ہوسکتا ہے ۔ شیطان کی چالوں میں ایک چال ہے تصغیر العظیم

اور تکبیر الصغیر (بڑے کو چھوٹا کرنا، اور چھوٹے کو بڑا)۔ غیر حقیقی باتوں کو حقیقی بنا کر پیش کرنا۔ باتوں کو متعلق اور امپارٹنٹ بناکر پیش کرنا، اور متعلق یا امپارٹنٹ باتوں کو غیر متعلق بنا کر پیش کرنا، وغیرہ۔ نیا دور مواقع کے انفجار (opportunity explosion) کا دور ہے۔ لیکن قانون فطرت کے مطابق، اس دور میں بھی وہی کامیاب ہو سکتا ہے، جو مسائل کو اگنور کرکے مواقع کو اویل کرنے کی حکیمانہ پلاننگ کرے۔ مسائل کو اگنور نہ کرنا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ شکایتی ذہن کے ساتھ زندگی مغربی قوم سے شکایت، ہندوؤں سے شکایت، پڑوسیوں سے شکایت، آفس کے ساتھیوں سے شکایت، ان زمانی تبدیلیوں سے شکایت جو آپ کی سماجی روایت کے خلاف ہوں، وغیرہ۔ اس کے برعکس، مواقع کو اویل کرنا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ مسائل کے باوجود یہ دیکھیں کہ اس میں کوئی ایسا موقع ہے، جس کو اویل کرکے کامیابی کا راستہ اختیار کیا جاسکے۔ اس کا عملی نمونہ حضرت عمر کے یہاں ملتا ہے۔ ایک مرتبہ صحابی رسول حذیفہ نے خلیفہ ثانی عمر فاروق سے کہا: إِنَّكَ تَسْتَعِينُ بِالرَّجُلِ الَّذِي فِيهِ وَبَعْضُهُمْ يرويه بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ فَقَالَ عمر: إِنِّي أستعمله لِأَسْتَعِين بقوته ثمَّ أَكون على قفانه ( غريب الحديث للقاسم بن سلام، جلد 3، صفحه 239) ۔ تم ایسے آدمی سے مدد طلب کرتے ہو، جو فاجر ہے۔ عمر نے کہا: میں اس کو عامل بناتا ہوں تاکہ اس کی قوت سے مدد حاصل کروں، پھر میں اس کی نگرانی کر رہا ہوں (تاکہ وہ کوئی غلطی نہ کریں)۔ یہی ہے مسائل کو اگنور کر کے مواقع کو اویل کرنا۔ یعنی ایک انسان کے اندر برائی ہے، اس کے ساتھ اس میں انتظامی صلاحیت بھی ہے تو حضرت عمر نے ایسے انسان کی برائی کو نظر انداز کیا، اور اس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھایا۔ ایسا رسول اللہ کی تربیت کا نتیجہ تھا۔ آپ نے بھی ہجرت مدینہ کے موقع پر ایک مشرک عبد اللہ بن اریقط کو اپنا رہنما بنایا تھا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 488)۔ مگر موجودہ زمانے کے مسلمان آن او بلڈ آپرچونٹی (unavailed opportunity) کا کیس بن گئے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب نے جو سائنسی ڈسکوری کی ہے، اس سے نہ صرف فیزیکل (جیسے پرنٹنگ پریس، کمپیوٹر، انٹرنیٹ وغیرہ کی) سطح پر خدا کے دین کو مدد ملی ہے۔

سطح پر بھی معرفت کی لامحدود ڈسکور ہوگی ہے۔ جیسے کائنات کی وسعت، انسانی جسم کی بناوٹ کا مطالعہ، کوانٹم فزکس، وغیرہ۔ یہ ڈسکوریز لامحدود سطح پر انسان کے لیے معرفت کا سامان مہیا کرتی ہیں۔ سے نہ صرف مادی سطح پر انسان کو مدد ملی، بلکہ معنوی سطح پر بھی انسان کے لیے انٹلیکچول ڈیولپمنٹ کا سامان فراہم ہوا ہے۔

یہ سائنسی ڈسکوری مغربی اقوام کے ذریعے ظہور میں آئی۔ لیکن موجودہ دور کے تمام مسلم لیڈر سیاسی میدان میں مغلوبیت کی وجہ سے ان سے دشمنی کرنے لگے۔ حالاں کہ سیاسی میدان ایک محدود میدان تھا، جب کہ خدا کی معرفت اور دین کی تائید کا میدان ایک لامحدود میدان تھا۔ لیکن شیطان نے بذریعہ تزئین یہ کیا کہ مسلم لیڈروں کے سامنے سیاسی معاملے کو عظیم بنا کر پیش کیا، اور خدا کی معرفت اور دعوت کے میدان کو غیر حقیقی بنا کر پیش کیا۔ چنانچہ مسلم دنیا سترھویں صدی سے لے کر اب تک اسی تزئین میں پھنسی ہوئی ہے، اور اس سے باہر نہیں نکل پائی ہے۔

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: اِنَّ اللَّهَ لَيُؤَيِّدُ هٰذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ یعنی بے شک اللہ تعالیٰ فاجر انسان کے ذریعے اس دین کی تائید ایک اور روایت میں اس کو ”غیر اہل دین“ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْإِسْلَامَ بِرِجَالِ مَا ھُمْ مِنْ أَھْلِہ (المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ بے شک اللہ تعالیٰ اس دین کی تائید ان لوگوں کے ذریعے کرے گا جو غیر اہل دین ہوں گے۔ یہ بہت اہم پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں، جب کہ اسلام اجنبی بن جائے گا، اس وقت یہی بے دین اور غیر اہل دین، خدائی دین کے مددگار ثابت ہوں گے، خواہ بالواسطہ انداز میں ہو یا بلا واسطہ انداز میں۔ یہی لوگ ہوں گے جن کے ذریعے اسلام کا کلمہ روئے زمین کے ہر چھوٹے بڑے گھر میں داخل ہوگا۔ غالباً اسی حقیقت کی طرف رسول اللہ نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے: قِوَامُ أُمَّتِي بِشِرارِها (مسند احمد، حدیث نمبر 21985)۔ یعنی میری امت کا معاملہ اس کے برے لوگوں کے ذریعے درست رہے گا۔

ان تمام آیات و احادیث کو آج کے ریفرنس میں دیکھا جائے تو موجودہ دور کے اعتبار سے ان کا مطلب ایک جملے میں یہ ہوگا کہ سیاسی مسائل کو نظر انداز کرو، اور مواقع کو اویل کرو: ignore the political problems, avail the opportunities قدیم زمانے کی طرح موجودہ زمانے میں بھی مسائل ہیں۔ کوئی زمانہ مسائل سے خالی نہیں ہوتا ہے، خواہ وہ ماضی ہو یا حال یا مستقبل ۔ یہ قانون فطرت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی مسائل تھے۔ مگر آپ نے مسائل سے ٹکرا کر اسٹیٹس کو (status quo) کو بدلنے کے بجائے مسائل کے درمیان موجود مواقع کو دعوتی مشن کے لیے اویل کیا۔ کیوں کہ اسٹیٹس کو کو بدلنا گریٹر ایول (greater evil) ہے، اسٹیٹس کو کو اگنور کر کے اپنا مشن شروع کرنا لیسرايول (lesser evil) ہے۔ پیغمبر اسلام نے یہی کیا۔ مثلاً یہ کہ جب آپ نے دعوتی کام شروع کیا تو کعبہ میں بت تھے، مگر آپ نے ان کو نظر انداز کیا، اور بت کے لیے آنے والوں کو پر امن انداز میں توحید کا پیغام پہنچایا۔ چنانچہ یہی لوگ شرک کو چھوڑ کر ایک دن آپ کے ساتھی بن گئے۔ یہی تاریخ آج بھی دہرائی جاسکتی ہے۔

اس دنیا میں معیاری فرد کا بننا ممکن ہے، لیکن معیاری سماج کا وجود میں آنا ممکن نہیں۔ اپنے ذاتی فیصلے کے تحت، اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا ہے۔ ایک انسان کے بننے کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کے اندر انفرادی قوتِ ارادی (will power) پیدا ہو جائے، لیکن پورے سماج کے ساتھ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ قوتِ ارادی ایک فرد کے اندر ہوتی ہے، پورے سماج کے اندر اجتماعی قوت ارادی (collective will) صرف ایک خیالی تصور ہے، عملی طور پر اس کا کوئی وجود نہیں۔ وجہ ہے کہ تاریخ میں بار بار ایسے افراد پیدا ہوئے جو اپنی ذات کے اعتبار سے معیاری کردار کے حامل تھے، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پورا سماج، یا پورا اجتماعی نظام اپنے کردار کے اعتبار سے، معیاری سماج یا معیاری نظام بن جائے۔ خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیں۔

Printed page