Al-Risala · January 2022

قیامت کی طرف

Al-Risala, January 2022, pp. 47–51

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کو زندگی گزارنے کے لیے بہت سی چیزوں کی ضرورت ہوتی مثلاً پانی اور روشنی اور آکسیجن، وغیرہ۔ اس طرح کے بے شمار آئٹم ہیں جو انسان کی بقاء حیات کے لیے لازمی طور پر ضروری ہیں۔ یہ سامان حیات ہماری دنیا میں وافر طور پر بغیر مانگے ہوئے موجود اسباب حیات کے اس مجموعہ کو لائف سپورٹ سسٹم (life-support system) کہا جا سکتا یہ لائف سپورٹ سسٹم اتنا مکمل ہے کہ وہ انسان کی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کو نہایت اعلیٰ صورت میں پورا کر رہا ہے۔ زمین سے لے کر سورج تک پوری دنیا استثنائی طور پر انسان کی خدمت میں لگی انسان کو اس کی کوئی قیمت ادا کرنی نہیں پڑتی ہے۔

مگر اکیسویں صدی کے آغاز میں ایک ناپسندیدہ ظاہرہ پیدا ہوا جس کو گلوبل وارمنگ کہا جاتا گلوبل وارمنگ دوسرے الفاظ میں، زمین کے لائف سپورٹ سسٹم کے خاتمہ کی شروعات ہے۔ انڈسٹریل سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے پلوشن نے سیارہ زمین پر ایسے حالات پیدا کیے، جب کہ یہ دنیا انسان کے لیے قابل رہائش (habitable) ہی نہیں رہے گی۔ موجودہ زمانے میں گلوبل وارمنگ کے بارے میں مسلسل خبریں آرہی ہیں جو قیامت کی پیشین گوئی (prediction) کی تصدیق کرنے والی ہیں۔ ستمبر 2021 میں، بی بی سی انگریزی میں مسلسل ایک نیوز آرہی ہے، ایک دن یہ نیوز حسب ذیل عنوان سے نقل کی گئی تھی:

Volcano on Canary Island La Palma erupts, spewing ash and lava into national park دوسری نیوز ویب سائٹس نے ان الفاظ میں لاپالما کی تباہی کی خبر دی ہے: La Palma Volcano Reaches Atlantic Ocean, Leaves Trail of Destruction Behind. (New18)

Bright lava flows, smoke pour from La Palma volcano eruption. (Sky News)

ان تمام نیوز کا خلاصہ یہ ہے کہ اسپین کے جزیرہ لا پالما میں کمبری ویجا (Cumbre the

(Vieja) نامی آتش فشاں سے راکھ، دھوئیں۔ اور لاوا کے نکلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انتہائی گرم لاوے نے مکانات اور جنگلاتی علاقے کو جلا ڈالا ہے۔ اندازے کے مطابق، لاوے کے راستے میں آنے والے 1200 سے زیادہ گھر تباہ ہو چکے ہیں، اور 6 ہزار سے زیادہ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ لا پالما میں آتش فشاں سے لاوے (volcanic lava) کا اخراج 19 ستمبر سے شروع ہوا تھا۔ دھماکے سے قبل 4.2 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ ہزاروں چھوٹے زلزلے کے ایک ہفتے کے بعد کمبری ویجا آتش فشاں پہاڑ سے سیاہ اور سفید دھواں کے بڑے بڑے بادل نکلے۔ اس سے اب تک180 ہیکٹرز کا علاقہ جل کر خاکستر ہو چکا ہے۔ کئی علاقوں پر سیاہ راکھ کی موٹی تہیں جم چکی ہیں۔ پگھلے ہوئے لاوا کا تقریبا 6 میٹر (20 فٹ) اونچا نہ رکنے والا بہاؤ سمندر کی طرف جا رہا ہے۔ ماہرین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ ممکنہ طور پر سترہ سے بیس ملین کیوبک میٹر لاوا سمندر تک پہنچے گا۔ جب لاوا سمندر میں گرے گا تو پانی کے ملاپ سے شور بلند ہونے کے ساتھ ساتھ فضا میں انتہائی زہریلی اور تیزابی گیسیں بلند ہوں گی۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس سے زمین میں مزید نئی دراڑیں ابھر سکتی ہیں۔

اس قسم کی صورت حال زمین کے اوپر ہر قسم کی زندگیوں (ecology) کے لیے سنگین خطرہ پیدا کرتی جا رہی ہے۔ تمام انسانی کوششوں کے باوجود کوئی بھی انسانی تدبیر گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی ہے۔ زمین کے ایکولوجیکل سسٹم کی صورت حال دن بدن پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، فضائی آلودگی سے ہونے والے نقصان کا جو اندازہ ماضی میں کیا گیا تھا، اب اس سے کہیں زیادہ نقصان کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ بالواسطہ یا براہ راست طور پر اس کا اثر تمام انسانی آبادیوں تک پہنچ رہا ہے۔ میڈیا میں مسلسل یہ خبریں آ رہی ہیں کہ تمام دنیا کے سائنس دانوں نے گہری ریسرچ کے بعد یہ پایا ہے کہ ہماری زمین میں موسمیاتی تبدیلی (climatic change) اس خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے کہ اب وہ ناقابل تبدیل (irreversible) ہو چکی ہے۔ ایکولوجی کا معاملہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کو روک بھی دیں تب بھی صرف قدرتی عمل (natural processes) سے ہوا میں کافی زیادہ قدرتی کاربونک ایروسول (carbonic aerosol) یعنی مائیکرو اسکوپک لیکوئڈ

ڈراپ لیٹس (Microscopic Liquid Droplets) بنتی ہیں، جن سے انسانی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

گلوبل وارمنگ اور اس کے متعلق پہلوؤں پر موجودہ زمانے میں وسیع پیمانے پر مطالعہ کیا جا رہا ہے۔ اس مطالعے کا ایک حصہ یہ ہے کہ زمین کے نارتھ پول اور ساؤتھ پول میں پہاڑ کی مانند برف کے بڑے بڑے تودے (glaciers) ہیں۔ ان تودوں کے نیچے بڑے بڑے آتش فشاں پہاڑ (volcanoes) چھپے ہوئے ہیں۔ یہ آتش فشاں محصور توانائی (pent-up energy) کے بھاری ذخیرے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے اوپر برف کے تودے گویا کہ بڑے بڑے فطری ڈھکن تھے جو اس آتش فشاں کو پھٹ کر باہر آنے سے روکے ہوئے تھے۔ گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں نارتھ پول اور ساؤتھ پول کے یہ برفانی ڈھکن تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اس طرح شدید طور پر یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ نارتھ پول اور ساؤتھ پول کا برفانی ڈھکن بہت جلد پگھل کر ختم ہو جائے اور ان کے اندر چھپا ہوا آتش فشاں پھٹ کر آگ اور لاوا (lava) کی صورت میں باہر آ جائے۔ مثلاً لا پالما کا لاوا بحر اٹلانٹک تک پہنچا تو وہاں لاوا کے پانی میں ملنے سے دھماکے شروع ہو گئے ہیں، اور زہریلی گیس کے بادل فضا میں پھیل رہے ہیں۔ لاوا کا مطالعہ کرنے والے سائنسدانوں نے اسے 1000 ڈگری سینٹی گریڈ (1,800 ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ) پر ناپا۔ اس وقت یہ آتش فشاں ایک دن میں 8,000 سے 10,500 ٹن سلفر ڈائی آکسائیڈ پیدا کر رہا ہے۔ سلفر ڈائی آکسائیڈ صحت عامہ کے لیے بہت ہی سنگین مسئلہ ہے۔ یہ تیزابی بارش اور فضائی آلودگی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ سب وہ چیزیںہے، جن کو لائف سپورٹ سسٹم کے خاتمہ کی طرف سفر کہا جا سکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کے تعلق سے مختلف پیشین گوئیاں کی ہیں۔ کلائمیٹ کی تبدیلی کے تعلق سے چند یہ ہیں: دخان (اسمگ)، زمین کا دھنسنا یا لینڈ سلائڈ، سورج کا مغرب (مخالف سمت) سے نکلنا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2901)، زلزلوں کی کثرت (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7121)، وغیرہ۔ حالات بتاتے ہیں کہ ان باتوں کی ابتدا ہو چکی ہے۔ نیوز کے مطابق، ایک مقامی باشندے نے لا پالما کی تباہی کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ہر چیز تباہ و برباد ہو گئی: Everything is destroyed

زمین کے ایک چھوٹے حصے میں ہونے والی فطری تباہی (calamity) گویا اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ ایک دن آنے والا ہے، جب کہ زمین مکمل طور پر ڈسٹرائے (destroy) کر دی جائے۔ تباہی کے یہ چھوٹے چھوٹے فطری واقعات گویا موجودہ دنیا کے خاتمے کے آغاز کا اعلان یعنی بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے، جب کہ موجودہ دنیا کا خاتمہ ہو جائے اور ایک نئی دنیا بنے، جہاں خدا کا عدل قائم ہو۔ جہاں نیک لوگوں کو جنت میں داخلہ ملے، اور برے لوگوں کو کائناتی کوڑے خانے میں ڈال دیا جائے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ ہر زندہ عورت اور مرد اس آنے والے انصاف کے دن (Day of Judgement) کے لیے تیاری کرے، جو بہر حال آ کر رہے گا اور جو آنے کے بعد پھر واپس جانے والا نہیں۔

قرآن کے مطابق، بڑا عذاب (العذاب الاکبر) وہ ہے جو قیامت کے وقت صور اسرافیل کے بعد آئے گا، لیکن اس سے پہلے چھوٹے چھوٹے علامتی عذاب (العذاب الادنی) آئیں گے، تاکہ لوگ متنبہ ہو کر اپنی اصلاح کر لیں (السجدة، 31:21)۔ گلوبل وارمنگ، میٹھے پانی کی قلت، زلزلوں کی کثرت، آتش فشاں کا کثرت سے پھٹنا، سمندری طوفان، اور سیلاب وغیرہ، اسی قسم کے چھوٹے عذاب ہیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ انسان متنبہ ہو، اس سے پہلے کہ وہ وقت آجائے جب کہ متنبہ ہونا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔

حدیث کے مطابق، انسان کے لیے توبہ (repentance) کا موقع اس وقت تک ہے، جب تک سورج مشرق سے طلوع ہو رہا ہے۔ جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو انسان کے لیے توبہ کا موقع ختم ہو جائے گا (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر (4070) - اللہ رب العالمین کا حالت غیب میں ہونا امتحان (test) کی مصلحت کی بنا پر ہے۔ سورج کا مغرب سے نکلنا، گویا خدا کے حالت شہود میں آنے کے پراسس کا آغاز ہوگا، اور قیامت اس پراسس کا کلمینیشن ۔ یہی وہ دن ہوگا، جب کہ خدا غیب سے نکل کر ظاہر ہو جائے گا، اور ہر ایک کو اس کے اچھے اور برے عمل کے اعتبار سے اچھا یا برا بدلہ دے گا۔ لیکن توبہ کا موقع ابھی ختم نہیں ہوا ہے، وہ اب بھی انسان کے پاس موجود ہے۔ سے جلد اپنے آپ کو ایک سچا انسان بنائے، اور خدا کے منصوبہ تخلیق کو جان کر اس کے مطابق زندگی کا سفر شروع کرے ۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)

دعوت اور معرفت عصرِ حاضر میں مسلمانوں کی دعوتِ ذمہ داری مولانا وحید الدین خان معرفتِ ربانی کا ایک علمی اور فکری مطالعہ مولانا وحید الدین خان ربانی اصولوں پر انسانی شخصیت کی تعمیر مولانا وحید الدین خان اپنے آپ کو پہچان مولانا وحید الدین خان مولانا وحید الدین خان مولانا وحید الدین خان دعوتی اور تعارفی مضامین مولانا وحید الدین خان اسلام کا تعارف مولانا وحید الدین خان مولانا وحید الدین خان حیاتِ بشری کا ربانی طریقہ مولانا وحید الدین خان ذکر و دعا کے ربانی اصول مولانا وحید الدین خان خدا کی شعوری دریافت کے رہنما اصول مولانا وحید الدین خان مولانا وحید الدین خان تعبیر کی غلطی اسلام کی سیاسی تعبیر کا علمی اور فکری جائزہ مولانا وحید الدین خان مولانا وحید الدین خان مولانا وحید الدین خان زندگی غفلت کا کارخانہ نہیں، زندگی ہوشیاری کا امتحان ہے۔

Printed page