Al-Risala · March 2022

روزہ اللہ کے لیے

Al-Risala, March 2022, pp. 4–5

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث قدسی میں روزہ کی اہمیت اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے ہر عمل میں اسپرٹ کنٹنٹ (spirit content) کے اعتبار سے 10 گنا سے 700 گنا تک اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن اللہ نے فرمایا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا (كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ، الحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعُمِائَةِ ضِعْفٍ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِلَّا الصَّوْمَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 1151۔

اس حدیث قدسی کو دوسرے قرآنی حوالوں کے ساتھ ملا کر غور کیا جائے تو یہ ٹیک اوے ملتا ہے— رمضان قرآن کا مہینہ ہے (2:185)۔ قرآن تدبر و تفکر کی کتاب (book of contemplation) ہے (39:29)۔ دوسرے الفاظ میں، رمضان اسپرپچول سرگرمیوں میں اضافہ کا مہینہ ہے۔

قرآن میں بسم اللہ کے بعد سب سے پہلی آیت یہ ہے: (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ) (1:2)۔ یعنی، سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ یہ آیت قرآن کا خلاصہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآنی ہدایت کی روشنی میں اللہ کی نعمتوں پر غور وفکر کرنا، اور زیادہ سے زیادہ کوشش کر کے اللہ کے شکر میں جینے والا بننا۔

اس لحاظ سے حدیث قدسی پر غور کیا جائے تو اس کا یہ مفہوم نکلتا ہے کہ رمضان غور وفکر کا مہینہ (month of contemplation) ہے۔ رمضان میں روزہ رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی فزیکل سرگرمی کو کم کرےاور انٹلیکچول سرگرمی کو بڑھائے۔ وہ اپنے خالق ومالک کے انعامات اور نشانیوں کے اندر غور وفکر میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارے۔

مثلاً یہ کہ غذا (food) انسانی زندگی کے لیے بنیادی جزء کی حیثیت رکھتی ہے۔ غذا انسان کے لیے مزید اضافہ کے ساتھ وہی حیثیت رکھتی ہے جو حیثیت مشین کے لیے ایندھن (fuel) کی ہے۔

کا مقصد یہ ہے کہ محدود اوقات میں اس پر پابندی لگا کر انسان کے اندر یہ احساس جگایا جائے کہ غذا انسان کے لیے کتنی اہم خدائی نعمت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان تیار شدہ ذہن رکھتا ہو تو اس کے لیے روزہ، نیوٹن کے ایپل شاک (apple shock) کی طرح، فاسٹنگ شاک (fasting shock) بنتا ہے، تا کہ انسان کی تھنکنگ فیکلٹی طاقتور انداز میں ٹرگر (trigger) ہو اور وہ اللہ رب العالمین کی نعمتوں کی دریافت نو (rediscovery) کرے اور اس کی معرفت میں جینے والا بن جائے۔

جب فاسٹنگ شاک سے ایک روزہ دار کا مائنڈ ٹرگر ہو گا تو وہ زیادہ گہرے انداز میں حقیقتوں پر غور کرنے لگے گا۔ وہ سوچے گا کہ میرے خالق کی کیسی عجیب رحمت ہے کہ اس نے میرے لیے پیشگی طور پر سولر سسٹم کی ایک دنیا بنائی۔ یہ دنیا پوری طرح میرے لیے ایک کسٹم میڈ دنیا تھی۔ پھر اس دنیا میں مجھ کورکھا۔ یہاں ایسا ہوا کہ میرے خالق نے میری ہر فطری ضرورت کو پیشگی طور پر جانا اور پیشگی طور پر اس کو میرے لیے زمین میں فراہم کر دیا۔

مثلاً یہاں زمین کے کرہ کے اندرونی حصہ میں تیل (oil) کا ذخیرہ بڑی تعداد میں رکھ دیا جو میری تمام سرگرمیوں کے لیے ایندھن کی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ پھر اس نے زمین کے اوپر میٹھے اور کھاری پانی کے چھوٹے بڑے رزروائر (reservoir) بنائے اور ان کو پانی سے بھر دیا۔ اس نے زمین کے اوپر نباتات اگائے اور ان کو آکسیجن کی پیداوار کے لیے ایک عظیم فیکٹری کا رول مقدر کر دیا۔ اسی طرح اس نے زمین کی اوپری سطح کو soil کی حیثیت سے ڈیولپ کیا اور اس پر میرے لیے ہر قسم کی حیات بخش غذائیں اگائیں، وغیرہ وغیرہ۔

روزہ دار کی اسپرٹ یہ ہوتی ہے کہ وہ روزہ رکھ کر اپنے آپ کو تیار (prepared) انسان بناتا ہے تا کہ وہ اللہ کی بے پایاں نعمتوں (blessings) کا شدت کے ساتھ احساس کر کے ان میں غرق اگر روزہ دار ایسا کرے تو اس کا روزہ اللہ کے لیے (for the sake of God) بن اور پھر وہ اس انعام کا مستحق بن جائے گا جس کو حدیث میں لامحدود اجر (unlimited reward) کہا گیا ہے۔

Printed page