قرآن کا آسان ہونا
Al-Risala, March 2022, pp. 10–12
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کے اسلوب کے بارے میں ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ (54:17)۔ یعنی اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، تو کیا کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن وضوح (clarity) کی زبان میں ہے، قرآن باعتبار اسلوب ایسی زبان میں نہیں ہے، جس کا مفہوم سمجھنا انسان کے لیے مشکل ہو۔ ایک مثال یہ ہے کہ قرآن میں اللہ رب العالمین کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدُ یعنی کہو، اللہ ایک ہے۔ یہ وضوح کی ایک مثال ہے۔ یہ آیت کوئی شخص سنے تو وہ فوراً اس کا مطلب سمجھ لے گا۔
اس کے برعکس، اگر خدا کے بارے میں قرآن کی تعلیم تثلیث (trinity) کے تصور پر مبنی ہو تو سننے والے کو اس کا مطلب فوراً سمجھ میں نہیں آئے گا۔ مثلاً قرآن میں خدا کا تصور بتاتے ہوئے یہ کہا جائے کہ خدا کا تصور التثليث فی التوحید، والتوحيد في التثليث پر مبنی ہے ــ جس کو انگریزی زبان میں تھری ان ون، اینڈ ون ان تھری (three in one, and one in three) کہا جاتا ہے ــ تو اس کو سمجھنے کے لیے قرآن کے قاری کو ایک مدت تک غور کرنا پڑے گا۔
اسی طرح عباسی دور میں مسلمانوں کے درمیان میں جو علم کلام پیدا ہوا، وہ پورا کا پورا ایسی زبان میں ہے، جس کے اندر کوئی وضوح (clarity) نہیں۔ مثلاً اللہ کے تعلق سے علم کلام کا ایک جملہ یہ ہے: القَوْل بِوُجُوبِ وَجُودِ مَوْجُودٍ وجوده له لذاته غير مفتقر إلى ما يسند وجوده إليه (غاية المرام في علم الكلام للآمدی، صفحه 1)۔ یعنی اس کے وجود کے موجود ہونے کے وجود کا وجوب اس کی ذات ہے، کسی کی احتیاج کے بغیر، جس کی طرف اس کے وجود کا انحصار ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ قرآن کا متن جب تیسیر (وضوح) کی زبان میں ہے، تو آپ کو اس کی تفسیر بھی تیسیر (وضوح) کی زبان میں کرنا چاہیے۔ یہ بات صحیح نہ ہوگی کہ اصل کلام تو تیسیر کی زبان میں ہو، اور اس کی تفسیر عدم وضوح کی زبان میں لکھی جائے۔ وضوح (clarity) کی زبان سے مراد فطری اسلوب ہے، یعنی غیر پیچیدہ اسلوب یا مغلق اسلوب (complex style)۔
زندگی میں بار بار مسائل اور مصائب آتے ہیں۔ ایسا ہر مرد اور عورت کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اس سے کس طرح کامیابی کے ساتھ نپٹا جائے ۔ اس کا جواب قرآن کی سورہ البقرہ میں ملتا ہے : وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ. اَلَّذِيْنَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ (2:155-156) ۔ یعنی، اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے ۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ــ ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
مسائل اور مصائب کے وقت کوئی شخص ذہنی تناؤ کا شکار کیوں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اس کو ایک ایسی چیز سمجھتا ہے جس کو نہ ہونا چاہیے تھا۔ آدمی اگر یہ سمجھ لے کہ جو کچھ پیش آیا ہے وہ خود فطرت کے قانون کے تحت پیش آیا ہے تو وہ کبھی ذہنی تناؤ کا شکار نہ ہو۔ مثلاً اگر آندھی اور بارش آئے تو وہ بھی انسان کے لیے مسئلہ پیدا کرتی ہے۔ مگر آندھی اور بارش کے وقت آدمی ذہنی تناؤ کا شکار نہیں ہوتا۔ وہ اس کو فطرت کے قانون کے تحت ہونے والا ایک واقعہ سمجھتا ہے اور معتدل انداز میں اس کا سامنا کرتا ہے۔
یہی معاملہ زندگی کے مسائل اور مصائب کا بھی ہے۔ یہ چیزیں خالق کے تخلیقی منصوبہ کے تحت پیش وہ انسان کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ آدمی اگر پیش آنے والے مصائب کو اس حیثیت سے لے تو وہ کبھی ذہنی تناؤ کا شکار نہ ہو۔ مصائب یا مسائل کا سامنا کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ، صبر کا طریقہ، اور دوسرا بے صبری کا طریقہ ۔ بے صبری کا طریقہ، دوسرے لفظوں میں ، منفی رد عمل (negative reaction) کا طریقہ اس کے برعکس ، صبر کا طریقہ مثبت رد عمل (positive response) کا طریقہ ہے۔
ہمیشہ بے صبری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں صبر کا طریقہ آدمی کو ذہنی تناؤ کا شکار ہونے سے
اس دنیا میں ہر آدمی قانونِ خداوندی، بالفاظِ دیگر قانونِ فطرت کے تابع ہے۔ وہ اپنے آغاز میں بھی اسی قانون کے ماتحت ہے اور اپنے آخر میں بھی اسی قانون کے ماتحت۔ ایسی حالت میں حقیقت پسندی کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی مرد یا عورت جب بھی کسی مسئلہ سے دوچار ہو تو وہ معتدل انداز میں اس کا سامنا کرے۔ وہ اس کو اپنے حق میں خیر سمجھ کر اس کو قبول کرے۔ اس آیت میں مصیبتوں کا مقصد ابتلاء (وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ) بتایا گیا ہے۔ ابتلاء کے معنی امتحان یا آزمائش ہے۔ انسانی زندگی میں اس قسم کے امتحان کا مقصد یہ ہے کہ اس کو حوادث کے درمیان تربیت دے کر زیادہ بہتر انسان بنایا جائے۔ حوادث کسی آدمی کے لیے ترقی کا زینہ ہیں۔ ذریعہ آدمی کا ذہن بیدار ہوتا ہے۔ حوادث کے ذریعہ آدمی کے اندر پختگی (maturity) آتی ہے۔ حوادث آدمی کو متحرک کرنے کا ذریعہ ہیں۔ حوادث آدمی کے لیے زندگی کے سفر میں مہمیز کا کام حوادث کے بغیر آدمی نامکمل ہے۔ یہ حوادث ہی ہیں جو آدمی کی شخصیت کو مکمل شخصیت
اس سے معلوم ہوا کہ حوادث کا صحیح مقابلہ یہ نہیں ہے کہ اپنے ذہنی عمل کو دبانے (suppress) کی کوشش کی جائے۔ بہت سے لوگ یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ یا شراب کے ذریعہ اس کو بھلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ مخصوص ورزشوں کے ذریعہ اپنے اندر ذہنی عمل کو معطل کر دینا چاہتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی سے فرار (escape) کا کوئی طریقہ تلاش کرتے ہیں۔ میڈیٹیشن (meditation) کے ذریعہ اپنے ذہن کو ایک ایسی حالت میں لے جاتے ہیں جس کو ذہنی تخدیر(intellectual (intellectual anaesthesia) کہا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے تمام طریقے فطرت کے خلاف ہیں اور جو چیز فطرت کے خلاف ہو وہ کبھی انسان کے لیے مفید نہیں ہوسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی پریشانی کا حل ذہنی عمل کو دبانا نہیں ہے بلکہ اس کو مینج (manage) کرنا ہے۔