Al-Risala · January 2022

نکاح خیر کا دروازہ

Al-Risala, January 2022, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي (جامع الترمذي، حديث نمبر یعنی عائشہ روایت کرتی ہیں کہ آپ نے کہا: تم میں سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے اچھا ہو اور میں تم میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے اچھا ہوں۔

اصل یہ ہے کہ ایک مرد وعورت جب نکاح کے تعلق میں اکٹھا ہوتے ہیں تو یہ ان کے لیے زندگی کا بھر پور تجربہ ہوتا ہے۔ اس تعلق کے ذریعے ان کو ہر صبح وشام طرح طرح کے تجربے پیش کبھی اچھے اور کبھی بظاہر برے۔ اُن کو کبھی خوش گوار تجربہ پیش آتا ہے اور کبھی ناخوشگوار کسی معاملہ میں اُن کے اندر نفرت کے جذبات بھڑکتے ہیں اور کبھی محبت کے جذبات۔ خوشی سے دوچار ہوتے ہیں اور کبھی ناخوشی سے۔ کبھی اُن کی انا کو تسکین ملتی ہے اور کبھی اُن کی انا پر چوٹ لگتی ہے۔ کبھی وہ اعتراف کی صورت حال میں ہوتے ہیں اور کبھی بے اعترافی کی صورت حال کبھی حقوق کی ادائیگی کا موقع ہوتا ہے اور کبھی حقوق کے انکار کا موقع، وغیرہ۔ گھر کے اندر پیش آنے والی یہ مختلف حالتیں ہر عورت اور ہر مرد کے لیے اپنی تیاری کے کیوں کہ موجودہ دنیا کی زندگی امتحان کی زندگی ہے۔ ایک طرح کی زندگی انسان کو جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور دوسری طرح کی زندگی اُس کو جہنم کا مستحق بنا دیتی ہے۔ زندگی کی اس امتحانی نوعیت کا تعلق گھر کے اندر کے معاملات سے بھی ہے، اور گھر کے باہر کے معاملات سے بھی۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ان تجربات کو سبق کے خانے میں ڈالے۔ ان تجربات کے ذریعے وہ ہمیشہ خیر کا پہلو تلاش کرے۔ ان تجربات کو وہ ہمیشہ وسیع تر معنی میں لے۔ ایک گھر یلو تجربے کو وسیع تر معنی میں زندگی کے تجربے کے طور پر دیکھے۔ وہ ہر تجربے میں خیر کا پہلو تلاش کرے۔ اگر وہ ایسا کرے تو نکاح کا تجربہ اس کے لیے پوری زندگی کی اصلاح کا تجربہ بن جائے گا۔

Printed page