Al-Risala · March 2022

حالات یکساں نہیں رہتے

Al-Risala, March 2022, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

سورہ آل عمران میں ایک صورت حال پر تبصرہ ہے۔ پیغمبر اسلام کے ساتھیوں کو بدر کے مقابلہ میں اپنے مخالفین پر فتح حاصل ہوئی تھی۔ اس کے بعد احد میں انہیں اپنے مخالفین سے شکست ہوگئی۔ پر تبصرہ کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اِنۡ یَّمۡسَسۡکُمۡ قَرۡحٌ فَقَدۡ مَسَّ الۡقَوۡمَ قَرۡحٌ مِّثۡلُہٗ وَ تِلۡکَ الۡاَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیۡنَ النَّاسِ (3:140)۔ یعنی، اگر تم کو کوئی زخم پہنچا ہے تو دشمن کو بھی ویساہی زخم پہنچ چکا اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔

قرآن کی اس آیت میں قوموں کے بارے میں ایک تاریخی قانون کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی قوم ہمیشہ غالب رہے یا ہمیشہ فتح حاصل کرتی رہے ۔ پر حالات ہمیشہ کسی ایک قوم کے موافق نہیں ہوتے۔ حالات کا فیصلہ کبھی ایک گروہ کے حق میں ہوتا ہے اور کبھی دوسرے گروہ کے حق میں۔ ایسی حالت میں لوگوں کو چاہیے کہ وہ تاریخ کے فیصلے کو قبول وہ شکایت اور احتجاج کے بجائے از سر نو اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کو مسابقت کے اصول پر بنایا گیا ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان مقابلہ جاری رہتا ہے۔ اس مقابلہ میں کبھی ایک گروہ کو جیت حاصل ہوتی ہے اور کبھی دوسرے گروہ کو۔ مقابلہ آرائی کا یہ ماحول قوموں کو مسلسل طور پر بیدار رکھتا اس کی وجہ سے ترقی کا عمل برابر جاری رہتا ہے۔

ایسی حالت میں حقیقت پسندی یہ ہے کہ ہارنے والے اور جیتنے والے دونوں اپنی ہار اور جیت کو وقتی سمجھیں ۔ نہ ہارنے والا پست ہمت ہو اور نہ جیتنے والا فخر و ناز کی نفسیات میں مبتلا ہو جائے ۔ معاملہ میں معتدل رویہ پر قائم رہنا گویا قدرت کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہے۔ اس کے برعکس ، معتدل رویہ سے ہٹنا گویا قدرت کے فیصلہ پر راضی نہ ہونا ہے۔ مگر جو لوگ اس معاملہ میں قدرت کے فیصلہ پر راضی نہ ہوں وہ خود اپنا ہی نقصان کریں گے ، نہ کہ کسی اور کا۔

یہ معاملہ پوری طرح فطرت کے قانون کا معاملہ ہے۔ وہ کسی کے لیے اور کسی کی وجہ سے بدلنے والا نہیں۔ ایسی حالت میں کوئی فریق اگر اس کو قبول نہ کرے تو اس کا یہ عدم قبول ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص یہ کہے مجھے پھول کے ساتھ کا نٹا مطلوب نہیں یا کوئی شخص اس بات پر احتجاجی مہم چلائے کہ دنیا کے نظام کو اس طرح بدل جانا چاہیے کہ یہاں صرف میرے لیے موافق موسم ہو، اور جو موسم میرے خلاف ہو وہ کبھی زمین پر نہ آئے۔

عالمی نظام کے بارے میں اس قسم کی شکایت واحتجاج جتنی بے معنی ہے اتنا ہی بے معنی وہ شکایت و احتجا ج بھی ہے جو سیاسی تبدیلی یا قوموں کے عروج و زوال پر کی جائے۔ رمضان کا روزہ رمضان کا روزہ اس کے لیے روزہ ہے جو اس سے پہلے’’ روزہ‘‘ کی حقیقت سے آشنا رہا ہو، اور اس کے بعد بھی روزے کی اسپرٹ اس کے اوپر طاری رہے۔ باقی جو لوگ روزہ کو صرف بھوک پیاس سمجھتے ہیں ان کا روزہ بھی بس تیس دن کی بھوک پیاس ہے، اس سے زیادہ ان کے روزے کی کوئی حقیقت نہیں۔ روزہ دار سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ناجائز چیزوں سے ہمیشہ کے لیے روزہ رکھ لے ۔ رمضان اسی قسم کی روزہ دارانہ زندگی کی ایک خصوصی

اہلِ ایمان کو اس دنیا میں طرح طرح کے’’ روزوں‘‘ کا سامنا کرنا ہے۔ خواہشات پر کنٹرول کی ضرورت ہے، کہیں ضروریات کو محدود کرنے کا سوال ہے، کہیں آرزوؤں کو قربان کرنے کا مسئلہ ہے۔ غرض اس دنیا کی امتحان گاہ سے صحیح سلامت گزرنے کے لیے بہت سی چیزوں کو چھوڑنا ہے۔ ایک مہینہ کا روزہ اسی بات کی تربیت ہے کہ انسان سال بھر ممنوعات سے کیسے’’ روزہ‘‘ رکھے۔ حقیقت یہ ہے کہ روزہ کا مطلب اللہ کے لیے خواہشوں پر روک لگانا ہے۔ خواہ روک لگانے کی فہرست کھانے پینے جیسی چیزوں تک پہنچ جائے۔

Printed page