طلاق کا مسئلہ
Al-Risala, January 2022, pp. 8–12
By Maulana Wahiduddin Khan
طلاق (divorce) کیا ہے۔ طلاق کا مطلب یہ ہے کہ ایک با اختیار ادارہ کی طرف سے نکاح کے رشتے کو ختم کرنا:
The legal dissolution of a marriage by a court or other نکاح صرف ایک مرد اور ایک عورت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ نکاح قانون فطرت کا معاملہ ایک مرد اور ایک عورت جب نکاح کے ذریعہ آپس میں رشتہ قائم کرتے ہیں تو وہ فطرت کے ایک قانون کو اپنے اوپر منطبق (apply) کرتے ہیں۔ فطرت کے جو قوانین ہیں، وہ سب کے سب بلا استثنا زندگی کے محکم اصول پر قائم ہیں۔ نکاح کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت اور ایک مرد باہمی طور پر ایک دوسرے کے پارٹنر بنیں، اور کاگ وہیل (cogwheel) کی مانند ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہوئے خالق کے نقشہ تخلیق (creation plan) کی تکمیل کریں۔ اس اعتبار سے طلاق خالق کے نقشہ تخلیق کا حصہ نہیں۔ وہ انسان کے غلط استعمال آزادی (misuse of freedom) کا حصہ ہے۔ طلاق کسی انسان کے لیے ایک جذباتی ظاہرہ (emotional phenomenon) ہے۔ وہ انسان کی حقیقی ضرورت (real need) کا حصہ یہی وجہ ہے کہ طلاق کا ایک ٹائم باؤنڈ منضبط طریقہ (prescribed method) مقرر کیا گیا ہے، جو تین مہینہ کے پر اسس میں مکمل ہوتا ہے۔ جذباتی ارادہ ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ طلاق کا ایک طویل کورس بنا دیا گیا ہے۔ تاکہ آدمی اپنے ارادے پر از سر نو غور (rethinking) کرے، اور جذباتی فیصلہ کے بجائے سوچے سمجھے فیصلہ کو اختیار کرے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ طلاق کا ارادہ ایک جذباتی ارادہ ہے۔ آدمی کو اگر سوچنے کا وقفہ دیا جائے تو زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ اپنی رائے پر نظر ثانی کرے گا، اور نکاح کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کرے گا۔ میں ذاتی طور پر ایسے واقعات کو جانتا ہوں جب کہ ایک انسان نے نکاح کے بعد جذباتی طور پر طلاق کا ارادہ کیا۔ لیکن ایسے اسباب پیش آئے کہ وہ فوری طور پر طلاق نہ دے سکا، بلکہ اپنے ارادے
پر قصد یا حالات کے دباؤ کے تحت نظر ثانی کی۔ اس کے بعد اس کا ارادہ بدلا، اور اس نے منکوحہ عورت کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا نتیجہ حیرت انگیز تھا۔ وہ یہ کہ مرد نے عورت کی خصوصیات کو دوبارہ دریافت (rediscover) کیا، اور پھر ان خصوصیات کو استعمال (utilize) اس کے بعد دونوں کاگ ویل (cogwheel) کی طرح مل کر کام کرنے لگے، اور انھوں نے غیر متوقع طور پر بڑی کامیابی حاصل کی۔
اصل یہ ہے کہ لوگ عام طور پر شادی شدہ عورت کو اپنے لیے صرف ہوم پارٹنر (home partner) سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ فطرت کے قانون کے مطابق، عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے لائف پارٹنرز ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے فطرت کی طرف سے دیے ہوئے انٹلیکچول پارٹنر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں، اور دونوں مل کر ایک دوسرے کے لیے تکملہ (counterpart) بن جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایک طرف قرآن میں طلاق کا ایک مقررہ طریقہ (prescribed course) ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: اَلطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ (2:229) ۔ طلاق دو بار ہے، پھر یا تو قاعدہ کے مطابق رکھ لینا ہے یا خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کر دینا۔ دوسری طرف حدیث میں طلاق کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: أبغض الحلال إلى الله الطلاق ( سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 2018) ۔ یعنی خالق کے نزدیک طلاق انتہائی حد تک ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص طلاق پر اصرار کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ مقرر کورس کے مطابقان تین مہینوں تک جذبات سے کام لینے کے بجائے خوب سوچے، اور پھر تیسرے مہینے میں عدت کے اختتام پر طلاق کی تکمیل کرے۔ ایسا انسان کو یہ موقع دینے کے لیے کیا گیا کہ وہ آخری حد تک سوچے، اور طلاق صرف اس وقت دے، جب کہ طلاق اس کے لیے سوچے سمجھے فیصلے کے تحت ایک ناگزیر ضرورت بن جائے۔ فطرت کے مطابق ، نہ کہ خواہش کے مطابق، اس کے لیے کوئی دوسرا آپشن سرے سے موجود ہی نہ ہو۔
موجودہ زمانے میں طلاق کو لے کر ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ وہ ہے تین طلاق کا مسئلہ۔
تین طلاق کا طریقہ بدعت کا طریقہ ہے جو بعد کے زمانے میں پیدا ہوا۔ ابتدائی دور کا مسلم معاشرہ اس مبتدعانہ طریقہ سے پاک تھا۔ تین طلاق کا مسئلہ کیسے پیدا ہوا۔ اس معاملے میں عبداللہ ابن عباس کی ایک روایت ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ، طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ كَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ، فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ، فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ ( صحیح مسلم ، حدیث نمبر (1472) ۔ اس معاملے میں دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: وَكَانَ عُمَرُ إِذَا أُتِيَ بِرَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا أَوْجَعَ ظَهْرَهُ ( سنن سعید بن منصور، حدیث نمبر 1073 )۔ یعنی عبداللہ ابن عباس کہتے ہیں کہ طلاق کا معاملہ رسول اللہ کے عہد میں اور ابوبکر کے عہد میں اور عمر کے ابتدائی دوسالوں میں یہ تھا کہ تین طلاق ایک تھی۔ تو عمر بن الخطاب نے کہا کہ لوگ اس معاملے میں جلد بازی سے کام لے رہے ہیں، جس میں ان کے لیے جلد بازی نہیں تھی، تو میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کے لیے ایک حکم جاری کر دوں۔ چنانچہ انھوں نے حکم جاری کیا۔ کے مطابق، اس حکم کا ایک جزء یہ بھی تھا کہ : عمر کے پاس جب ایسا آدمی لایا جاتا جس نے اپنی عورت کو ( بیک وقت ) تین طلاق دی ہو تو عمر اس کی پیٹھ پر کوڑے مارتے تھے۔
خلیفہ ثانی عمر فاروق نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو تین واقع کرنے کا جو عمل کیا ، اس کی حیثیت حکم حاكم (executive order) کی تھی۔ اس کی حیثیت شریعت میں کسی تبدیلی کی نہ تھی۔ ایک امر واقعہ ہے کہ حکم حاکم ہمیشہ وقتی ہوتا ہے۔ وہ محدود زمانے کے لیے ہوتا ہے ، نہ کہ اللہ کے حکم کی طرح قیامت تک کے لیے ایک ابدی حکم ۔ لیکن بعد کے علما نے حاکم کے اجتہادی حکم کو عملاً امر شرعی کا درجہ دے دیا۔ وہ خلیفہ عمر کے اسی عمل پر فتوی دینے لگے ، جب کہ خلیفہ عمر کا ہرگز یہ منشا نہ بعد کے علما کو یہ حق نہ تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم کو شرعی حکم کی طرح عام حکم کر دیں۔ اسی لیے عمر فاروق کے حکم کو عام کرنے کے باوجود ان کے لیے یہ ممکن نہ ہوا کہ وہ خطا کار کے پیٹھ پر کوڑے ماریں ، اور اس کے بعد تین طلاق کو شرعی طور پر واقع کرنے کا فتوی دیں۔ کیوں کہ کوڑ امارنے کا حق مسلمہ طور پر صرف حاکم کو ہے ، کسی اور کو ہر گز نہیں۔ جب علما کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ خطا کار کو کوڑے
ماریں تو ان کو یہ بھی حق نہیں تھا کہ وہ خلیفہ کے حکم کو عام کریں، اور عام کرکے تین طلاق کو واقع کرنے کا طریقہ اختیار کریں۔ بعد کے علما کا یہی وہ اجتہادی طریقہ ہے، جس سے تین طلاق (triple talaq) کا موجودہ مسئلہ پیدا ہوا۔
معروف عالم ابن تیمیہ (728-661ھ) نے علما کی اس غلطی کو جانا اور انھوں نے اس کے خلاف فتویٰ دیا۔ انھوں نے کہا: إن طلقها ثلاثا في طهر واحد بكلمة واحدة أو كلمات... أنه محرم ولا يلزم منه إلا طلقة واحدة... فإن كل طلاق شرعه الله في القرآن في المدخول بها إنما هو الطلاق الرجعي؛ لم يشرع الله لأحد أن يطلق الثلاث جميعا (مجموع الفتاوی، 9/ 33-8)۔ یعنی اگر کسی نے ایک طہر میں تین طلاق دی، ایک ہی کلمہ میں یا ایک سے زیادہ کلمات میں... تو یہ حرام ہے، اور اس سے صرف ایک طلاق لازم آتی ہے... کیوں کہ ہر وہ طلاق جس کو اللہ نے قرآن میں مدخول بہا کے لیے مشروع کیا ہے، وہ طلاق رجعی ہے، اللہ نے کسی کے لیے ایک ساتھ تین طلاق کو مشروع نہیں کیا۔
مگر ابن تیمیہ کے بعد سلفی علما کے سوا دوسرے علما نے ابن تیمیہ کے اس فتویٰ کو عملاً تسلیم نہیں وہ بدستور اپنی سابق روش پر قائم رہے۔ اس معاملے میں بعد کے علما کی روش ایک غلط فہمی پر قائم انھوں نے غلط طور پر قدیم علما کی روش کو اجماع امت کا مسئلہ بنا لیا۔ حالاں کہ ہر گز وہ اجماع امت کا مسئلہ نہ تھا۔ یہ بلاشبہ ایک غلط فہمی کا معاملہ تھا۔ خلیفہ عمر فاروق کے بعد آنے والے علما نے یہ غلطی کی کہ انھوں نے حکم حاكم (executive order) کو امر شرعی کا درجہ دے دیا۔ مزید غلطی یہ ہوئی کہ غلط فہمی پر مبنی علما کے اس عمل کو اجماع امت کا درجہ دے دیا گیا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک غلطی پر دوسری غلطی کا اضافہ تھا۔ یعنی پہلے مرحلہ میں حکم حاكم کو امر شرعی کا درجہ دینا، اور پھر غلط فہمی پر مبنی علما کے اس عمل کو اجماع امت سمجھ لینا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں صحیح موقف کیا ہے۔ صحیح موقف یہ ہے کہ اس معاملے میں ماضی کی غلطی کی تصحیح کی جائے، اور وہ یہ ہے کہ خلیفہ کے عمل کو حکم حاكم (executive order) کا درجہ دیا جائے، نہ کہ حکم شریعت کا درجہ۔ دوسری بات یہ ہے کہ بعد کے علما نے جب خلیفہ عمر کے عمل کی
بنیاد پر فتویٰ دینا شروع کر دیا تو یہ فتویٰ ناقص فتویٰ کی حیثیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ ان علما نے طلاق ثلاثہ کو واقع کرنے کا فتویٰ تو دیا، جب کہ اس کے لازمی جزء، یعنی کوڑا مارنےکو چھوڑ دیا۔ اس طرح اس مسلک کی کوئی بنیاد نہ تھی۔ یہ مسلک نہ تو ابتدائی دور پر قائم تھا، اور نہ خلیفہ عمر کے مسلک پر۔ اس کا جواز نہ تو دور اول کے عمل پر قائم تھا، اور نہ خلیفہ عمر کے حکم حاكم کے عمل پر۔ اب ضرورت ہے کہ امام ابن تیمیہ کے فتویٰ کو اس معاملے میں دوسرے علما بھی درست مسلک کے طور پر اختیار کر لیں، جس طرح سلفی علما نے اس کو اختیار کر لیا ہے۔ یعنی طلاق ثلاثہ کو غضب پر محمول کرنا، اور اس کو ایک طلاق کا درجہ دینا۔ انسانی علم، خدائی علم لاش نس (Loch Ness) اسکاٹ لینڈ کی ایک بڑی جھیل ہے۔ 1975 میں ایک امریکی قانون داں نے زمیں دوز کیمرے کے ذریعے اس جھیل کے اندرونی فوٹو لیے۔ ان فوٹوؤں میں جھیل کے اندر کے کچھ مناظر دکھائی دیتے تھے۔ یہ مناظر بادل کے دھبوں کی شکل میں تھے۔ دھبوں کا مطالعہ شروع کیا گیا۔ یہاں تک کہ ان دھبوں پر قیاس کا اضافہ کر کے سمجھ لیا گیا کہ یہ زندہ جانوروں کی تصویریں ہیں۔ کہا گیا کہ اسکاٹ لینڈ کی اس جھیل کے اندر انتہائی قدیم زمانے کے بعض بہت بڑے بڑے جانور موجود ہیں، جو نظریہ ارتقا کے مطابق قدیم زمانے میں افراط کے ساتھ زمین پر پائے جاتے تھے۔ اس قیاس پر ماہرین کو اتنا یقین تھا کہ اس کا ایک مفروضہ نام پلی ساسور (Plesiosaurs) رکھ دیا گیا۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ یہ مفروضہ بالکل غلط تھا۔ یہ دھبے چٹانوں کے تھے، نہ کہ زندہ جانوروں کے۔
انسانی علم میں ہمیشہ اس قسم کی غلطیوں کا انکشاف ہوتا رہا ہے، پہلے بھی اور آج بھی۔ میں آج تک اس قسم کی کسی غلطی کا انکشاف نہ ہوسکا۔ حالاں کہ قرآن ہر قسم کے موضوعات کو ٹچ (touch) کرتا ہے۔ یہی ایک واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ قرآن خدا کا کلام ہے، وہ کوئی انسانی کلام نہیں۔ اگر وہ انسانی کلام ہوتا تو یقیناً اس کے اندر بھی وہی کمیاں پائی جاتیں جو تمام انسانوں کے کلام میں بلا استثنا پائی جاتی ہیں۔