Al-Risala · March 2022

کائناتِ معرفت کا خزانہ

Al-Risala, March 2022, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیا گیا ہے، وہ تدبر اور تفکر ہے۔ قرآن کے مطابق، ہماری گرد و پیش کی دنیا حقائق کا خزانہ ہے۔ اس میں غور وفکر کے ذریعہ آدمی زندگی کی حقیقتوں کو دریافت کر سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کی کچھ آیتیں یہ ہیں: اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ لَآیَاتِ لِأُولِی الْأَلْبَابِ۔ اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُونَ اللَّہَ قِیَامًا وَّقُعُودًا وَّعَلٰی جُنُوبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُونَ فِیْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (3:190-191)۔ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔

قرآن کی ان آیتوں میں جو بات کہی گئی ہے اس کو سائنس آف ٹروتھ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ کائنات کے سائنسی مطالعہ کا مقصد صرف ٹیکنیکل ترقی نہیں ہے۔ اس سے بڑھ کر اس کا ایک اور مقصد ہے، اور وہ ہے خالق کی تخلیقات میں خالق کو دریافت کرنا۔ تخلیقات کا گہرا مطالعہ کر کے زندگی کے راز کو معلوم کرنا۔ مادی کائنات کی تحقیق کر کے یہ جاننا کہ اس کے نقشہ کے مطابق، انسانی ترقی کا قانون کیا ہے۔

قرآن ( الملک، 67:3) بتاتا ہے کہ کائنات میں کوئی خلل (flaw) نہیں ۔ کائنات کا مطالعہ انسان کے لیے اس میں مددگار ہے کہ وہ اپنی زندگی کی تعمیر و تشکیل بھی کامیابی کے ساتھ انجام دے سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اپنی زندگی میں جو نقشہ مطلوب ہے وہ وہی ہے جو بقیہ کائنات میں بالفعل قائم ہے۔ چنانچہ آدمی جب کائنات کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ اس میں ایک طرف خالق کی تجلیات کو پالیتا ہے اور دوسری طرف اس کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کو اپنی زندگی کی کامیاب تعمیر کن خطوط پر کرنا چاہیے۔

Printed page