خواہش کے خلاف
Al-Risala, March 2022, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
سورہ النساء میں اس پر زور دیا گیا ہے کہ شوہر اور بیوی میں اگر اختلاف ہو جائے اور وہ ایک دوسرے کو نا پسند کرنے لگیں تو دونوں کو ٹکراؤ کے بجائے موافقت کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اس سلسلہ میں کہا گیا ہے: فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا یعنی، اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تم کو پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں تمہارے لیے بہت بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔
میاں اور بیوی کے تعلقات میں جب بھی اختلاف پیدا ہوتا ہے تو اس کا سبب یہ ہوتا ہے کہ ہر ایک دوسرے کے ناپسندیدہ پہلو کو مبالغہ آمیز انداز میں دیکھنے لگتا ہے۔ حالانکہ اسی وقت اس کے اندر کسی اور اعتبار سے پسندیدہ پہلو موجود ہوتا ہے۔ مگر غصہ کی وجہ سے دونوں پسندیدہ پہلو کو دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی آدمی صرف برا نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کی زندگی کا کوئی مثبت پہلو ہوتا ہے اور کوئی منفی پہلو۔ اگر منفی پہلو کو نظر انداز کر کے معاملہ کیا جائے تو اس کے زبردست فائدے دونوں فریق کو حاصل ہوں گے۔
ازدواجی زندگی میں جب ایک مرد اور عورت دونوں اپنے آپ کو شامل کرتے ہیں تو یہ دونوں کے لیے سب سے زیادہ قریبی تعلق کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس قسم کا قریبی تعلق بے حد مفید ہے۔ اسی کے ساتھ اس قسم کے قریبی تعلق میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان فرق کی بنا پر اختلافات پیدا ہو جائیں اور پھر کسی ایک فرق کی بنا پر دونوں ایک دوسرے کو مطلوب سے کم سمجھنے مگر یہ سر تا سر نادانی ہے۔ عقلمندی یہ ہے کہ قریبی تعلق کے تعمیری پہلوؤں کو دھیان میں رکھا جائے اور ان سے بھر پور طور پر فائدہ اٹھایا جائے۔ جہاں تک ناپسندیدہ پہلوؤں کی بات ہے تو اس معاملہ میں حقیقت پسندانہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے اس کو نظر انداز کر دینا چاہیے، یہی مرد کو بھی کرنا ہے اور یہی عورت کو بھی۔ کسی خاندان یا معاشرہ کی ترقی و استحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کو بروئے کار آنے کا موقع دیں۔