انسانی علم کی محدودیت
Al-Risala, March 2022, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
سورہ بنی اسرائیل میں کچھ لوگوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ایک فطری انسانی حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کا متعلقہ بیان یہ ہے : وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا (17:85)۔ یعنی، اور وہ تم سے روح کے متعلق کہو کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے۔ اور تم کو صرف علم قلیل دیا گیا ہے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنی محدودیت (limitations) کی بنا پر علم کلی تک نہیں پہنچ سکتا۔ علم کلی بطور واقعہ موجود ہے۔ مگر انسان کی ذاتی محدودیت کی بنا پر وہاں تک اس کی رسائی ممکن نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ حقیقت پسندی سے کام لے۔ وہ جزئی علم کی بنیاد پر کلی علم کے بارے میں استنباط کرے۔ اگر انسان نے یہ اصرار کیا کہ ہر چیز کو براہ راست میرے مشاہدہ میں آنا چاہیے تو وہ صرف کنفیوژن کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ کیوں کہ کلی حقیقت کا بطور مشاہدہ علم میں آنا اس دنیا میں ممکن ہی نہیں۔
یہ ایک اہم تعلیم ہے۔ یہی واحد چیز ہے جو آدمی کو کنفیوژن سے بچانے والی ہے۔ جو لوگ یہ چاہیں کہ ہر چیز ان کے براہ راست مشاہدہ میں آئے، اسی وقت وہ اس کو مانیں گے تو ایسے لوگ ہمیشہ بے یقینی کا شکار رہیں گے۔ اس دنیا میں یقین کے درجہ تک پہنچنا صرف اس انسان کے لیے ممکن ہے جو حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے ایسا کرے۔ یعنی وہ جزئی علم تک براہ راست رسائی حاصل کرنے کے بعد یہ اعتراف کرلے کہ اس کے بعد براہ راست علم کی حد ختم ہوگئی اور بالواسطہ علم کی یہی واحد طریقہ ہے جو کسی آدمی کو یقین کا درجہ عطا کر سکتا ہے۔ یہ عین وہی اصول ہے جس کو موجودہ سائنس میں اب ایک حقیقت کے طور پر مان لیا گیا اب اہل علم کے درمیان یہ ایک مسلمہ اصول بن چکا ہے کہ سائنس ہم کو سچائی کا صرف ایک حصہ عطا کرتی ہے:
Science gives us but a partial knowledge of reality.