کامیاب قیادت کا راز
Al-Risala, March 2022, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
سورہ السجدہ میں ایک گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جس کو خدا نے لیڈر شپ عطا کی۔ وہ اس سرفرازی کے مستحق کیسے قرار پائے اس کا راز صبر تھا۔ قرآن کی مذکورہ آیت یہ ہے: ﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ﴾ (32:24)۔ یعنی، اور ہم نے ان میں پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے جب کہ انہوں نے صبر کیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کامیاب قیادت کا راز صبر ہے۔ صبر کسی آدمی کو سوچ اور کردار کے اعتبار سے دوسروں سے بلند کرتا ہے، اور بلند سوچ اور بلند کردار ہی وہ صفتیں ہیں جو کسی آدمی کو دوسروں کے اوپر سرداری کا مقام دیتی ہیں۔ صبر آدمی کو حوصلہ مند بناتا ہے۔ صبر قائدانہ زندگی کی لازمی ضرورت صبر کے بغیر کوئی شخص لیڈر شپ کا رول کامیابی کے ساتھ انجام نہیں دے سکتا۔ کامیاب لیڈر وہ ہے، جو نفس کی خواہشوں کے مقابلے میں صبر کرے، ناخوش گوار تجربات پیش آنے پر جذبات سے کام لینے کے بجائے صبر کرے اور درست فیصلہ کو اپنائے، وہ محرومی کے واقعات کو ایگو کا مسئلہ بنانے کے بجائے صبر کے ساتھ دانش مندانہ انداز میں اپنا منصوبہ بنائے، مصیبتوں کا موقع آئے تو پریشان ہونے کے بجائے صبر کر کے اس کا حل تلاش کرے، وغیرہ۔ قوم کو کامیابی کے راستے پر چلانے کے لیے صبر و تحمل کی لازمی طور پر ضرورت ہے۔
لوگ اسی شخص یا گروہ کو اپنا امام تسلیم کرتے ہیں جو انہیں اپنے سے بلند دکھائی دے۔ وقت اصول کے لیے جئے، جب کہ لوگ مفاد کے لیے جیتے ہیں۔ جو اس وقت انصاف کی حمایت کرے جب کہ لوگ قوم کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ جو اس وقت برداشت کرے جب کہ لوگ انتقام لیتے ہیں۔ جو اس وقت اپنے کو محرومی پر راضی کرلے جب کہ لوگ پانے کے لیے دوڑتے جو اس وقت حق کے لیے قربان ہو جائے جب کہ لوگ صرف اپنی ذات کے لیے قربان ہونا یہی صبر ہے اور جو لوگ اس صبر کا ثبوت دیں وہی قوموں کے امام بنتے ہیں۔