مشورہ مفید ہے
Al-Risala, March 2022, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں اہل ایمان کو جو تعلیمات دی گئی ہیں ان میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو مشورہ کہا قرآن میں اہل حق کی جن صفات کو اختیار کرنے پر ابھارا گیا ہے، ان میں سے ایک صفت چنانچہ ارشاد ہوا ہے : وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:38) یعنی، اور وہ اپنا کام آپس کے مشورہ سے کرتے ہیں۔ مشورہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی معاملہ میں حل تلاش کرنے کے کام کو اجتماعی کام بنا دیا جائے ۔ اپنے تجربہ کے ساتھ دوسروں کے تجربات کو اس میں شامل کر لیا جائے۔ مشورہ کا مطلب گویا انفرادی عقل کو اجتماعی عقل بنا دینا ہے۔ مشورہ ایک دوطرفہ عمل ہے۔
زندگی کے بارے میں خالق کی اسکیم (scheme of things) یہ ہے کہ ہر فرد کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی شخصیت کا ارتقا کر کے اپنے آپ کو جنتی انسان بنائے۔ اسی نشانے کی بنا پر اسلام میں یہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے کہ سماجی معاملات کو شوری کے اصول پر مبنی قرار دیا گیا، یعنی سماجی حقائق (social realities) کی بنیاد پر۔
مشورہ میں یہ ہوتا ہے کہ کئی آدمی کسی موضوع پر ڈسکشن کرتے ہیں۔ اس طرح کے ڈسکشن کے فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ معاملہ کے نئے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ مشورہ اگر کھلے ذہن کے ساتھ کیا جائے اور تنقید اور تعریف کے جذبہ سے بلند ہو کر اس کو سنا جائے تو مشورہ کی اہمیت بہت بڑھ مشورہ میں جو فائدے ہیں ان کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ لوگ تحفظ ذہنی کے ساتھ نہ بولیں بلکہ وہ جو کچھ کہیں کھلے ذہن کے ساتھ کہیں اور سننے والے بھی اس کو کھلے ذہن کے ساتھ سنیں۔ یہ سب مشورہ کے آداب ہیں۔ جس مشورہ میں ان آداب کو ملحوظ رکھا جائے وہ مشورہ بے حد بابرکت بن جاتا ہے۔ مشورہ کو اگر حسن نیت کے ساتھ کیا جائے تو وہ ایک عبادت ہے۔ سادہ بات نہیں۔ مشورہ دین اور دنیا دونوں میں فائدہ ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ اپنے اصحاب کے ساتھ کھلے دل سے مشورہ کرتے تھے اور لوگ کسی پابندی کے بغیر اپنی رائے دیتے تھے (سیرت ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ 192 )۔