صبرمنسوخ نہیں
Al-Risala, May 2023, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک فلسطینی نوجوان سے ملاقات ہوئی ۔ گفتگو کے دوران میں نے دین میں صبر کی اہمیت کا ذکر کیا اور صبر سے متعلق قرآن کی آیتیں ان کے سامنے پیش کیں ۔ انھوں نے فوراً کہا: صبر کی آیتیں تو مکی دور میں اتری تھیں۔ ہجرت کے بعد صبر کا حکم منسوخ کر دیا گیا اور جہاد و قتال کی آیتیں اتاری گئیں۔ دور صبر میں نہیں ہیں، اب ہم دور جہاد میں ہیں۔ اب ہمارے تمام معاملات جہاد کے ذریعہ درست ہوں گے اور یہی کام ہمیں کرنا ہے۔
یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے، جس میں بے شمار لوگ مبتلا ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر ایک ابدی حکم اس کا تعلق ہر دور اور ہر زمانہ سے ہے۔ صبر تمام دینی اعمال کا خلاصہ ہے۔ آدمی کوئی دینی عمل صحیح طور پر اسی وقت کر سکتا ہے جب کہ اس کے اندر صبر کا مادہ ہو۔ جس آدمی سے صبر رخصت ہو جائے، وہ کوئی بھی دینی کام صحیح ڈھنگ سے انجام نہیں دے سکتا، خواہ وہ کلمہ توحید پر استقامت کا معاملہ ہو یا میدان مقابلہ میں شجاعت کا معاملہ، یا اور کوئی معاملہ۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے، اور علی الاطلاق طور پر اس کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن میں صبر کا مادہ ایک سو سے زیادہ بار استعمال کیا گیا ہے۔ سورہ البقرہ ایک مدنی سورت ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ تم لوگ صبر اور نماز سے مدد لو، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے: اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ (2:153)۔ حدیث میں صبر کی بہت زیادہ فضیلت آئی ہے اور مختلف پہلوؤں سے اس کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے صبر سے زیادہ اچھا اور بڑا عطیہ کسی شخص کو نہیں دیا: وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِنْ عَطَاءٍ أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ (سنن ابی داؤد، حدیث
صبر کے لغوی معنی رکنے کے ہیں۔ امام راغب نے صبر کی حقیقت ان لفظوں میں بیان کی ہے: الصَّبْرُ حَبْسُ النَّفْسِ عَلَى مَا يَقْتَضِيهِ الْعَقْلُ (المفردات للراغب الاصفهانی، صفحه 474)۔
اس چیز سے نفس کو روکنے کا نام ہے جس کا عقل تقاضا کرے۔ عربی میں کہا جاتا ہے: صَبَرْتُ نَفْسِی عَلَى ذلِكَ الْأَمْرِ، أَيْ حَبَسْتُهَا (مقاییس اللغۃ، جلد 3، صفحہ (329)۔ یعنی، میں نے اپنے نفس کو فلاں چیز سے روک دیا۔
موجودہ دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں موافق پہلوؤں کے ساتھ ناموافق پہلو بھی موجود ہیں۔ ہے کہ یہاں کسی کام کو کامیابی کے ساتھ انجام دینے کے لیے صبر لازمی طور پر ضروری ہے۔ خواہش کو دبا کر اپنی عقل کو رہنما بنانا پڑتا ہے۔ یہاں ایک چیز کو لینے کے لیے دوسری چیز کو چھوڑنا یہاں آج پر توجہ دینے کے لیے کل کو مستقبل کے خانہ میں ڈالنا پڑتا ہے۔ مزاج باتوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھنا پڑتا ہے۔ یہاں رد عمل کی نفسیات سے آزاد رہ کر مثبت سوچ کے تحت اپنا منصوبہ بنانا پڑتا ہے۔ ان تمام چیزوں کا تعلق صبر سے ہے۔ وجہ ہے کہ اس دنیا میں صبر کے بغیر کبھی کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوتی۔
دنیوی کاموں کی طرح، دینی کام کے لیے بھی صبر لازمی طور پر ضروری ہے۔ جس زمین پر اور جس انسانی ماحول میں ایک دنیا دار کام کرتا ہے، اسی زمین پر اور اسی انسانی ماحول میں دیندار بھی اپنا عمل اس لیے یہاں دینی مقصد کو پانے کے لیے بھی صبر کا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ کے بغیر کوئی بھی دینی کام نتیجہ خیز طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔
اسلام کی تاریخ وسیع تقسیم کے مطابق، تین قسم کے حالات سے گزری ہے ۔ دعوتی دور کی معیاری مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا 23 سالہ زمانہ ہے۔ یہی وہ زمانہ ہے جس کے مطالعہ سے دعوت کے آداب اور اس کے طریقے صحیح طور پر معلوم کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد خلافت کا زمانہ آتا ہے، جو گویا صحیح معنی میں نائبین رسول کا زمانہ ہے۔ یہ زمانہ حضرت ابو بکر بن ابی قحافہ سے شروع ہوتا ہے اور حضرت علی ابن ابی طالب پر ختم ہوتا ہے۔ اس کے بعد، مورخین اسلام کے مطابق، ملوکیت کا دور ہے۔ زمانہ حضرت امیر معاویہ سے شروع ہوا اور آج تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔ ان تینوں دوروں میں جو اسلامی کردار مطلوب ہے، اس پر قائم ہونے کے لیے یکساں طور پر صبر کی اہمیت ہے۔