Al-Risala · January 2023

تزکیہ نفس

Al-Risala, January 2023, pp. 16–25

By Maulana Wahiduddin Khan

2001 میں الرسالہ مشن ایک نئے دور میں داخل ہوا۔ ہوا یہ کہ میں نے جنوری 2001 میں اپنے کچھ ساتھیوں کو لے کر سنٹر فار پیس اینڈ اسپرپچولٹی انٹرنیشنل (CPS International) قائم اس ادارے کا خاص مقصد خدائی تعلیمات کے مطابق ، امن اور اسپرپچولٹی کو فروغ دینا ہے۔ اس مقصد کے لیے تعلیم یافتہ افراد کو تیار کیا جا رہا ہے تا کہ یہ تربیت یافتہ افراد سوسائٹی کے مختلف طبقات تک پہنچیں اور اس طرح کسی بڑے فکری انقلاب کا باعث بنیں۔ اس کے لیے CPS کے تحت دہلی میں اسپرپچول کلاس قائم کیا گیا جو خدا کے فضل سے غیر متوقع حد تک کامیاب رہا۔ اسپرپچول کلاس کے دوران جو تجربات پیش آئے اس سے سمجھ میں آیا کہ تزکیہ کیا ہے۔

جب لوگ اس ویکلی کلاس میں آئے تو مجھ سے گفتگو کے دوران یہ معلوم ہوا کہ ہر آدمی ایک کنڈیشنڈ مائنڈ (conditioned mind) ہے اور وہ اسی میں جی رہا ہے۔ ہر آدمی اپنے گھر ، اپنے ماحول اور لوگوں سے میل جول کے دوران جو کچھ دیکھتا اور سنتا ہے اس سے مسلسل طور پر اس کا ذہن متاثر ہوتا رہتا ہے۔ جب انسان پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی فطری حالت پر ہوتا ہے۔ لیکن دھیرے دھیرے وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جو مکمل طور پر ایک کنڈیشنڈ انسان ہو۔ اب ضرورت ہوتی ہے کہ اس پر فکری ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کا عمل کیا جائے۔ تا کہ انسان دوبارہ اپنی فطری حالت کی طرف لوٹ سکے۔

تزکیہ دراصل اسی ذہنی ڈی کنڈیشننگ کا نام ہے۔ تزکیہ کے لفظی معنی ہیں : پاک کرنا (to روایتی طور پر اس کو تزکیہ قلب کے معنی میں لیا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد تزکیہ ذہن ہے۔ آدمی کا ذہن ہی اس کے تمام افعال کا مرکز ہے۔ ذہنی سطح پر بگڑی ہوئی سوچ کو دوبارہ صحیح سوچ بنانا ، اسی کا نام تزکیہ ہے اور اسی کے ذریعے فکری اور عملی اعتبار سے وہ شخصیت بنتی ہے جس کو روحانی شخصیت یا ربانی شخصیت کہا جاتا ہے۔

میرا تجربہ ہے کہ لوگ عام طور پر کنفیوژن (confusion) میں جیتے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب ہماری اسپرچول کلاس میں آئے۔ وہ ایک انٹرنیشنل امریکن کمپنی میں مینجر ہیں۔ یہاں، امریکی اصول کے مطابق، ہایراینڈفائر(hire (hire and fire) کا اصول رائج ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں مسلسل تناؤ میں رہتا ہوں ۔ ہر وقت جاب کھونے کا اندیشہ (fear of losing job) میرے دماغ پر چھایا میں نے نصیحت کے طور پر ان کی ڈائری میں یہ الفاظ لکھے:

One can take away your job. But no one has the power to take away your destiny. تزکیہ کو عام طور پر تزکیہ قلب کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے اور روایتی تصور کے مطابق، تزکیہ قلب کا ذریعہ صوفیانہ اور ادووظائف ہیں۔ جب کوئی شخص ان اور ادووظائف میں زیادہ مشغول ہوتا ہے تو اس کے دل میں ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے، اسی کیفیت کو عام طور پر تزکیہ سمجھا جاتا ہے۔ نزدیک یہ ایک بے اصل بات ہے۔ یہ قلبی کیفیت جو پیدا ہوتی ہے وہ دراصل وجد (ecstacy) اور وجد کا کوئی بھی تعلق تزکیۂ روحانی سے نہیں۔

اصل یہ ہے کہ اس معاملے میں انسانی فکر کے دو دور ہیں: قبل سائنس دور، اور بعد سائنس دور۔ قبل سائنس دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ قلب جذباتِ انسانی کا مرکز ہے۔ اس لیے صوفیا نے تزکیۂ روحانی کے لیے قلب کو مرکز بنایا۔ اور سالکین طریقت کے لیے مبنی بر قلب وظائف تجویز کیے۔ ان وظائف میں اشتغال سے چوں کہ سالکین کو وجد کی سی ایک کیفیت محسوس ہوتی تھی۔ ان لوگوں نے اسی وجد کو غلط طور پر معرفت سمجھ لیا، حالاں کہ معرفت ایک شعوری حالت ہے، جب کہ وجد صرف ایک مجہول احساس کا نام ہے۔ اس غلط فہمی کی بنا پر سمجھ لیا گیا کہ یہ طریقہ حصول تزکیہ کے لیے مفید ہے۔ وجد کی کیفیت سرتا سر ایک غیر متعلق کیفیت ہے جو ہندو طریقے پر میڈیٹیشن (meditation) کے ذریعے بھی حاصل ہوتی ہے۔

بعد سائنس دور میں یہ نظریہ متروک ہو چکا ہے۔ اب انسان کے علم میں یہ بات آچکی ہے کہ فکر وجذبات اور احساس کا مرکز تمام تر ذہن (mind) ہے۔ اس لیے تزکیہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ذہن کی تظہیری اصلاح کی جائے۔ یہی تزکیہ کا اصل طریقہ ہے۔ حضرت ابوذر غفاری کہتے ہیں کہ کوئی

چڑیا بھی اگر فضا میں اپنے پروں کو پھڑ پھڑاتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دلاتے تھے ( وَمَا يَقْلِبُ طَائِرٌ جَنَاحَيْهِ فِي السَّمَاءِ، إِلَّا ذَكَرَنَا مِنْهُ عِلْمًا ) الزہد لوکیع بن الجراح، حدیث نمبر 522۔ علم یعنی معرفت و حکمت کا کوئی سبق سکھاتے تھے۔

اسپرچول کلاس میں اسی طریق تزکیہ کو اختیار کیا گیا ہے۔ ایک صوفی سے پوچھا گیا کہ تصوف کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تصوف کا مطلب تصور ہے۔ میرے نزدیک ، قرآن کے الفاظ میں، اس کا جواب یہ ہے کہ تصوف کا مطلب تو سم (الحجر ، 15:75) ہے۔ تو سم کا مطلب ہے ــ مادی تجربات کو معرفت میں ڈھال لینا:

converting material events into spiritual experience روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ معرفت کا ذریعہ صحبت ہے۔ یعنی کسی بزرگ کے پاس بیٹھنے سے پر اسرار طور پر آدمی کے اندر ربانی معرفت پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا کہ حصول معرفت کا ذریعہ صرف کسی بزرگ کی صحبت ہے، نہ کہ تدبر و تفکر اور ذاتی محنت۔ یہ نظریہ مزاج اسلام کے خلاف ہے۔ اسلام کے مطابق ، ہر آدمی اس دنیا میں حالت امتحان میں ہے۔ اس دنیا کے لیے خدائی قانون یہ ہے : لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (53:39) ــ یعنی ، انسان کے لیے وہی ہے جو اس نے کمایا۔ حالت میں یہ ماننا کہ ذاتی عمل کے بغیر صرف کسی کی صحبت سے روحانیت یا ربانیت حاصل ہو سکتی ہے ، ایک متضاد نظریہ ہے۔ کیوں کہ یہ نظریہ اس حکمت کی نفی کر رہا ہے جس کو امتحان کہا جاتا ہے۔ قرآن ( 3:79) میں ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو، ربانی بنو (كُونُوا رَبَّانِيِّينَ ) ۔ ربّی کے لفظی معنی ہیں : رب والا۔ ربانی اسی کا مبالغہ ہے۔ یعنی بہت زیادہ رب والا۔ ربّی یا ربانی کو دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سے مراد ہے: خدا رخی سوچ (God-oriented thinking) یا خدا رخی زندگی (God-oriented life) ۔ یعنی انسان کی وہ حالت جب کہ اس کی سوچ کا مرکز خدا بن جائے ، جب کہ اس کے جذبات و احساسات پر تمام تر خدا کا غلبہ ہو جائے ، جب کہ خدا کی یاد اس کی ہستی میں پوری طرح سما جائے۔

یہی وہ چیز ہے جس کو روحانیت (spirituality) کہا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے

اکثر شعبوں کی طرح، روحانیت کے دو دور ہیں۔ قبل سائنس دور (pre-scientific era) اور بعد سائنس دور (post-scientific era)۔ قبل سائنس دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جذبات و احساسات کا مرکز قلب (heart) ہے۔ چنانچہ اس زمانے میں روحانیت کے حصول کا ذریعہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ قلب پر فوکس ڈال کر اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ سادھوں کا میڈیٹیشن (meditation) اور صوفیوں کا مراقبہ اسی طرز فکر کا نتیجہ ہے۔

مگر بعد سائنس دور میں یہ نظریہ بے بنیاد ثابت ہو گیا۔ اب متفقہ طور پر یہ مان لیا گیا ہے کہ قلب صرف گردش خون (circulation of blood) کا ذریعہ ہے۔ سوچ اور احساسات کا مرکز تمام تر انسان کا دماغ ہے۔ سرجری کی ترقی کے بعد یہ کیا گیا کہ آپریشن کر کے انسان کے قلب کو اس کے سینے سے نکال لیا گیا اور اس کی جگہ مکمل مصنوعی قلب (total artificial heart) لگا دیا گیا جو اب اصل قلب کی جگہ پورے جسم کو خون پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ مثلاً بی سی اردو کی ویب سائٹ پر 2 فروری 2018 کو ایک رپورٹ شائع ہوئی، جس میں برٹش خاتون مسلوا حسین (Selwa Hussain) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ جب مسلوا حسین کا فطری قلب ایک نامعلوم بیماری کی وجہ سے قابل استعمال نہیں رہا تو ان کو 2017 میں مکمل مصنوعی قلب لگایا گیا ہے۔ یعنی مشینی قلب، جو ایک بیک پیک (backpack) کے ذریعہ ہر وقت ان کے ساتھ رہتا ہے۔ مشینی قلب کے ساتھ وہ شعوری اعتبار سے ایک نارمل زندگی گزار رہی ہیں (Link: shorturl.at/lqJ89)۔ میڈیکل ایکسپریس ڈاٹ کام پر شائع شدہ رپورٹ کے مطابق، امریکا میں ایک خاتون کا فطری قلب جب ناکارہ ہو گیا تو اس کی جگہ ایک مکمل مصنوعی قلب لگایا گیا ہے (Link: shorturl.at/bju35)۔ ان دونوں میڈیکل خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپریشن کے بعد انسان کا سینہ فطری قلب سے بالکل خالی ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود اس کی سوچ اور اس کے احساسات ٹھیک ویسے ہی باقی رہے جیسا کہ وہ اس وقت تھے جب کہ فطری قلب اس کے سینے میں موجود تھا۔ اس طرح کے آپریشن کے بعد یہ ثابت ہوا کہ فکر اور احساس کا مرکز مکمل طور پر دماغ ہے، نہ کہ قلب۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں بھی قلب کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے گویا کہ دماغ کے

علاوہ قلب بھی سوچ اور جذبات کا مرکز ہے۔ مگر یہ بات درست نہیں۔ قرآن میں ایسے مواقع پر قلب کا ذکر اس کے ادبی استعمال کے اعتبار سے ہے، نہ کہ اس کے سائنسی مفہوم کے اعتبار سے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ قرآن میں سوچ کے عمل کے لیے صرف قلب کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے بلکہ عقل اور لب کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ یہ دونوں الفاظ قرآن میں تقریباً 65 بار استعمال ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں جو بالواسطہ طور پر دماغی عمل سے تعلق رکھتے ہیں۔ توسم اور تفکر، وغیرہ۔ اس کے علاوہ قرآن میں جس مفہوم کے لیے قلب کا لفظ آیا ہے ٹھیک اسی مفہوم کے لیے متعدد آیتوں میں سمع اور بصر کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ مثلاً: لَّهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا (7:179)۔ یعنی، ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ اگر اس طرح کی آیتوں کی بنیاد پر یہ مانا جائے کہ سوچ کے عمل کا تعلق قلب سے ہے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ آنکھ اور کان کا تعلق بھی سوچ سے ہے۔ کیوں کہ ان آیتوں میں دیکھنے اور سننے کے جس عمل کا ذکر ہے اس سے مراد سادہ طور پر کیمرہ یا ٹیپ ریکارڈ کی طرح دیکھنا اور سننا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ دیکھنا اور سننا ہے جس میں سوچ بھی شامل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں جہاں عقل اور لب کا حوالہ ہے وہاں اس سے براہ راست دماغی عمل مراد ہے اور جہاں آنکھ، کان اور دل کے الفاظ آئے ہیں وہاں یہ الفاظ اپنے معروف ادبی مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ اس طرح بعد سائنس دور میں تصوف یاروحانیت کا علم پوری طرح بدل گیا ہے۔ اب روحانیت کا تعلق قلبی وظائف سے نہیں بلکہ اس کا تعلق ذہنی ارتقا کے ایک خاص مرحلے سے ہے۔

اسپرچول کلاس میں میں نے اسی اصول پر لوگوں کا تزکیہ کیا اور ان کے اندر روحانیت لانے کی کوشش کی۔ خدا کے فضل سے نتیجہ صد فی صد کامیاب رہا۔ ہمارے کلاس میں ایسے کئی افراد شریک ہوئے جنہوں نے بتایا کہ وہ برسہا برس تک ہندو گروؤں اور مسلم صوفیوں کے یہاں روحانیت کے حصول کی کوشش کرتے رہے مگر انہیں روحانیت نہیں ملی۔ جب کہ ہمارے کلاس میں ان کو اپنی مطلوب روحانیت حاصل ہوگئی۔

مطالعہ کے بغیر انسانی شخصیت کی تکمیل ممکن نہیں (مولانا وحید الدین خاں صاحب کا ایک انٹرویو)

سوال : انسانی زندگی میں آپ مطالعہ کو کیا اہمیت دیتے ہیں؟

جواب : انسانی زندگی میں مطالعہ کی اہمیت بے حد بنیادی ہے۔ غذا اگر جسمانی وجود کے لیے ضروری ہے تو مطالعہ ذہنی وجود کے لیے۔ مطالعہ کے بغیر انسانی شخصیت کی تکمیل ممکن نہیں۔ سوال : آپ کے اندر مطالعہ کا شوق کب اور کیسے پیدا ہوا؟

جواب : میں جس خاندان میں پیدا ہوا وہاں مطالعہ، خاص طور پر ادبی مطالعہ کا رواج پہلے سے موجود تھا۔ لیے بچپن ہی سے میرے اندر مطالعہ کا شوق پیدا ہو گیا۔ تاہم باقاعدہ شعور کے طور پر میرے اندر مطالعہ کا ذوق اس وقت پیدا ہوا جب میں نے سرجیمز جینز (Sir James Jeans, 1877-1946) کی اس کتاب نے میرے سامنے مطالعہ کی نئی دنیا کھول دی۔

سوال : مطالعہ کی غرض کیا رہی ہے؟

جواب : میرے مطالعہ کی غرض خاص طور پر دور ہی ہیں۔ اسلام کو اس کے اصل مآخذ اور قدیم علمائے اسلام کے ذریعہ سمجھنا، اور دوسرے، اسلام کے خلاف جدید فکری چیلنج کو براہ راست ذرائع سے معلوم کرنا۔ پھر اس مطالعہ کی روشنی میں اسلام کے تعارف پر اور جدید فکری چیلنج کے رد میں کتابیں تیار کرنا۔ سوال : آپ نے کس قسم کی کتابوں سے مطالعہ کا آغاز کیا؟

جواب : ابتداء میں زیادہ تر ادبی کتابیں پڑھتا تھا۔ اس کے بعد مدرسہ کی تعلیم کے نتیجہ میں اسلامی کتابیں اور اس کے بعد جدید الحاد سے تعلق رکھنے والی کتابوں کو پڑھنا شروع کیا۔ سوال : آپ کے مطالعہ کی رفتار کیا ہے؟

جواب : میرا مطالعہ اور تحریر دونوں ساتھ ساتھ جاری رہتے ہیں۔ اس لیے مطالعہ کی مقداری رفتار متعین کرنا مشکل ہے۔ میں رات دن بس پڑھتا ہی رہتا ہوں۔ اور دوران مطالعہ جب کوئی مضمون ذہن میں آتا ہے تو اس کو لکھ لیتا ہوں۔

سوال : کن زبانوں کی کتابیں آپ کے مطالعہ میں رہتی ہیں؟

جواب : عام طور پر میں عربی ، انگریزی اور اردو کتابیں پڑھتا ہوں۔ کبھی کبھی فارسی اور ہندی کتاب یا مضمون بھی پڑھتا ہوں ۔

سوال : آپ کے مطالعہ کا وقت کیا ہوتا ہے ؟

جواب : میرے مطالعہ کا مقرر وقت نہیں ۔ اپنے تمام وقت کو میں مطالعہ ہی میں صرف کرتا ہوں۔ میری ذہنی خوراک ہے ۔

سوال : مطالعہ کے ابتدائی دور میں آپ کو کس قسم کی ذہنی وفکری کیفیت سے سابقہ پیش آیا ہے ؟ جواب : مطالعہ ابتداء میرے لیے ذہنی تفریح کے ہم معنی تھا۔ اس کے بعد وہ تلاش حق کا ہم معنی بنا۔ مطالعہ میرے لیے خدمت اسلام کا وسیلہ ہے۔

سوال : آپ کے اپنے موضوع یا موضوعات کی اول درجے کی کتابیں آپ کی نظر میں کون سی ہیں ؟ جواب : کسی موضوع کے تاریخی ماخذ کے طور پر تو مجھے بہت سی کتابیں اول درجہ کی نظر آئیں۔ میں محمد بن احمد بن ابوبکر القرطبی ( وفات (1273ء) کی الجامع لاحکام القرآن ، علم حدیث میں ابن حجر عسقلانی ( وفات (1449ء) کی فتح الباری، سیرت میں سیرۃ ابن کثیر ، وغیرہ ۔ اسی طرح جدید ذہن کو سمجھنے کے لیے برٹش فلاسفر برٹرینڈرسل 1872-1970) ,Bertrand Russell) کی کتاب ہیومن نالج (Human Knowledge)۔ مگر اسلام کو سائنٹفک اسلوب اور جدید فکری مستوی پر پیش کرنے کے لیے کوئی بھی کتاب مجھے اول درجہ کی نظر نہیں آئی۔ سوال : کیا کسی موضوع پر تقابلی مطالعہ کا بھی آپ کو موقع مل سکا ہے ؟ جواب : تقابلی مطالعہ کے سلسلہ میں خاص طور پر میں نے مذاہب کا تقابلی مطالعہ کیا ہے۔ سوال : تقابلی مطالعہ میں کن باتوں کو پیش نظر رکھنا آپ ضروری سمجھتے ہیں ؟ جواب : تقابلی مطالعہ کو کامیاب بنانے کی دو لازمی شرطیں ہیں ۔ گہرامطالعہ، اور موضوعیت۔ سوال : ریسرچ اور تحقیق کے لیے مطالعہ میں کن باتوں کو پیش نظر رکھنا ضروری خیال کرتے ہیں ؟ جواب : علمی ریسرچ کے لیے ضروری ہے کہ جس موضوع کا مطالعہ پیش نظر ہے، اس کی براہِ راست کتابوں کو پڑھا جائے اور جو کچھ پڑھا جائے غیر جانبدارانہ ذہن کے تحت پڑھا جائے۔ سوال : تصنیف و تالیف کا کام کرنے والوں کو مطالعہ میں کن باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ؟

جواب: کسی مصنف کی تصنیف کو اس کے مطالعہ کا نتیجہ ہونا چاہیے، نہ کہ تصنیف ہی مطالعہ کا محرک ہو۔ سوال: آپ کے مطالعہ کا کیا طریقہ ہوتا ہے؟

جواب: مجھے علم سے دلچسپی ہے۔ میں ہر اس کتاب کو پڑھتا ہوں جو علمی اسلوب میں لکھی گئی ہو۔ سوال: حاصل مطالعہ کو محفوظ رکھنے کے لیے آپ کیا تدابیر اختیار کرتے ہیں؟ جواب: حاصل مطالعہ کو محفوظ رکھنے کے لیے میں قیدو العِلْمِ بالکتابۃ (علم کو لکھ کر محفوظ کرو) پر عمل کرتا ہوں۔ حافظہ خواہ کتنا ہی اچھا ہو وہ ہرگز کتاب کا بدل نہیں ہے۔ سوال: کیا آپ دوران مطالعہ کتاب کے اہم جملوں یا پیرا گراف کو نشان زد بھی کرتے ہیں؟ جواب: اگر ذاتی کتاب ہو تو مطالعہ کے دوران میں ضروری نشانات کرتا رہتا ہوں۔ مگر لائبریری کی کتابوں پر نشانات لگانا مجھے پسند نہیں۔ سوال: سفر میں آپ کس طرح کی کتابیں پڑھتے ہیں؟

جواب: سفر میں زیادہ تر میں اخبار یا رسالہ جیسی ہلکی پھلکی چیزیں پڑھتا ہوں۔ سوال: کیا آپ مطالعہ برائے تفریح یا مطالعہ برائے وقت گزاری کو بھی روا رکھتے ہیں اور اگر روا رکھتے ہیں تو کس حد تک؟ جواب: تفریح یا وقت گزاری کے لیے مطالعہ اس شخص کو روا ہے جو سنجیدہ مطالعہ نہ کر سکتا ہو۔ سوال: آپ کے پسندیدہ موضوعات کیا ہیں؟ ترجیحی ترتیب کے ساتھ۔

جواب: میرے پسندیدہ موضوعات یہ ہیں: تمام اسلامی موضوعات، اور تمام مخالفِ اسلام موضوعات۔ سوال: ادب میں آپ کس نظریے کے حامی ہیں؟

جواب: ادبی مطالعہ سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کو میں صرف ضیاع وقت سمجھتا ہوں۔ سوال: ایک ادیب یا شاعر کی زندگی میں آپ مطالعہ کو کیا اہمیت دیتے ہیں؟ جواب: ادیب یا شاعر کو صرف یہ مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ وہ ادب یا شاعری کو چھوڑ دے۔ سوال: وہ کون سی کتابیں ہیں، جنہیں آپ اپنی پسندیدہ کتابوں میں شمار کرتے ہیں اور اس کی پسندیدگی کے اسباب کیا ہیں؟ جواب: تاریخی ماخذ کے طور پر مجھے بہت سی کتابیں پسند ہیں۔ مگر جدید علمی اسلوب میں اسلام کی ترجمانی

کرنے کے لیے جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان میں سے کوئی کتاب مجھے پسند نہیں۔ سوال: آپ کے پسندیدہ مصنفین کون کون سے ہیں؟ وجہ پسندیدگی پر بھی روشنی ڈالیے؟ جواب: دور جدید کے مسلم مصنفین میں سے کوئی مصنف مجھے پسند نہیں۔ ان میں سے کسی کی کتاب میرے نزدیک (جدید) علمی اسلوب پر نہیں ہے۔

سوال: آپ کو سب سے زیادہ کس مصنف نے متاثر کیا؟

جواب: مجھے سب سے زیادہ میرے شعورِ فطرت نے متاثر کیا۔ میرے نزدیک سب سے بڑی کتاب فطرت کی کتاب ہے۔

سوال: آپ کے پسندیدہ ادیب و شاعر کون کون سے ہیں؟ انہیں دوسروں کے مقابلے میں آپ کیوں ترجیح دیتے ہیں؟

جواب: مجھے کوئی ادیب یا شاعر پسند نہیں۔ ادب اور شاعری کو میں ایک فطری صلاحیت کا غلط استعمال

سوال: کیا آپ کو اجتماعی مطالعہ کا موقع میسر آتا ہے؟

جواب: اجتماعی مطالعہ کا ذوق میرے اندر نہیں ہے۔

سوال: آپ کتابیں خرید کر پڑھتے ہیں یا دوسروں کی کتابوں اور لائبریریوں سے استفادہ کرتے ہیں؟ جواب: میں حسب مقدور کتابیں خریدتا ہوں، ورنہ دوسروں سے یا لائبریری سے مستعار لے کر

سوال: کیا آپ کی کوئی ذاتی لائبریری بھی ہے؟ اسے درست رکھنے کے لیے آپ کیا صورت اختیار

جواب: میری ذاتی لائبریری ہے۔ اس کو درست رکھنے کے لیے میں یہ کرتا ہوں کہ ہر کتاب کو اس کی متعین جگہ پر رکھتا ہوں۔

سوال: مطالعہ کے تعلق سے اپنا کوئی خاص تجربہ؟

جواب: مطالعہ کے سلسلہ میں میرا تجربہ یہ ہے کہ آدمی لکھنے سے زیادہ پڑھنے پر دھیان دے۔ ذاتی طور پر میری تحریر میرے مطالعہ کا حاصل (by-product) ہوتی ہے۔

سوال: مطالعہ کے شائقین کے لیے اگر کوئی تجویز یا مشورہ ہو تو پیش فرمائیں؟ جواب: تمام بہترین کتابیں سنجیدہ اسلوب میں ہوتی ہیں۔ اس لیے مطالعہ کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی سنجیدہ مطالعہ کا ذوق اپنے اندر پیدا کرے۔ سطحی چیزوں کا مطالعہ آدمی کے اندر سطحی مزاج پیدا کرتا ہے، اور گہری چیزوں کا مطالعہ اس کے اندر گہرے فکر کی پرورش کرتا ہے۔ مطالعہ کا مقصد صرف واقفیت میں اضافہ نہیں، بلکہ بصیرت میں اضافہ ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے : یک من علم را ده من عقل می باید (ایک حصہ علم کے لیے دس حصہ عقل کی ضرورت ہوتی ہے)۔ بصیرت کے بغیر علم سے حقیقی فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔

(بحوالہ: میر مطالعہ، مرتب تابش مہدی، نئی دہلی، 1995، صفحات 212-209) ایک ضروری اعلان قارئین الرسالہ کی خواہش اور دلچسپی کے مدِ نظر الرسالہ اب (جولائی 2023 سے) ہندی میں بھی شائع ہونے جارہا ہے۔

آپ اپنے ہندی جاننے والے عزیزوں اور رشتہ داروں کے لیے الرسالہ سبسکرائب کریں اور اس کی مثبت فکر سے خود بھی فائدہ اٹھائیں اور دوسروں کو بھی اس سے مستفید ہونے میں

الرسالہ ہندی کا سبسکرپشن رجسٹرڈ ڈاک سے 400 روپئے سالانہ ہے۔ فی کاپی 35 روپئے اور 5 کاپی سے زیادہ کے سبسکرپشن پر 30% کی رعایت ہوگی۔ مزید معلومات کے لیے اور سبسکرپشن کی رقم ارسال کرنے کے بعد برائے مہربانی ہمیں مندرجہ ذیل نمبر پر ضرور اطلاع دیں:

Printed page