Al-Risala · May 2023

تواصی بالحق، تواصی بالصبر

Al-Risala, May 2023, pp. 25–26

By Maulana Wahiduddin Khan

27 اگست 2007ء کو میں نے رات میں ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک آواز آئی۔ نے کہا کہ اٹھو۔ میں نے کہا کہ میں تو اٹھا ہوا ہوں۔ اُس نے کہا ’تواصی بالحق‘ کو جانو، ’تواصی بالحق‘ کو جانو، ’تواصی بالحق‘ کو جانو، میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیا ہے۔ اُس نے کہا، ’تواصی بالحق‘ کو جانو، میں نے کہا کہ آپ مجھے بتائیے۔ اُس نے کچھ دیر تک مجھے سمجھایا۔ میں نے کہا کہ آپ نے جو کہا، میں اس کو سمجھ نہیں پایا۔ اُس نے کہا کہ اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ تواصی بالحق کو سمجھو۔ بعد میری آنکھ کھل گئی۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ یہ لفظ نہ میرے مطالعے میں تھا اور نہ مجھے اُس کا مفہوم میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں ’تواصی بالحق‘ کو کیسے سمجھوں۔ اس میں آپ میری مدد فرمائیں (حبیب محمد، حیدر آباد)۔

’تواصی‘ کا لفظ قرآن کی سورہ نمبر 103 میں آیا ہے۔ اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے: زمانہ گواہ ہے کہ بے شک، انسان گھاٹے میں ہے۔ سوا اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیا، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کی، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی:

History is a witness that man is in loss. Except those who believe and do good, and exhort on each other truth, and exhort on each other patience. قرآن کی اس سورہ کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ایک روایت میں آتا ہے کہ دو صحابی جب ایک دوسرے سے ملتے تھے تو وہ یاددہانی کے لیے آپس میں اس سورہ کا تذکرہ کرتے تھے (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 5124)۔

قرآن کی اس سورہ میں مومنانہ زندگی کا کورس بتایا گیا ہے۔ یہ کورس بنیادی طور پر تین اجزا پر مشتمل ہے ــــ ایمان اور عمل اور تواصی۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی کو شعور کی سطح پر خدا کی معرفت حاصل یہ معرفت ایک انسان کے لیے ذہنی انقلاب کے ہم معنی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی نے اپنی تلاش کا جواب پا لیا۔ آدمی کو اپنی فکری سرگرمیوں کے لیے صحیح فریم ورک مل گیا۔

ظاہری بصارت کے ساتھ، داخلی بصیرت کی روشنی حاصل ہوگئی۔ آدمی کو اپنی ذہنی تگ و دو کا مرکز آدمی کے اندر اُس ہستی کا شعور پیدا ہوگیا، جس سے وہ سب سے زیادہ ڈرے اور جس سے وہ سب سے زیادہ محبت کرے۔

اِس کورس کا دوسرا جُزو عمل صالح ہے۔ عمل صالح سے مراد وہ عمل ہے جو عین حقیقت واقعہ کے عمل صالح کی اِس فہرست میں ذکر و دعا، عبادات، اخلاق اور معاملات، وغیرہ سب شامل ہر وہ کام جس میں انسان کا جسمانی وجود شامل ہوتا ہے، وہ سب اِس کا عمل ہے اور یہ مطلوب ہے کہ ان تمام اعمال کو صالحیت کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی عمل کی دو قسمیں ہیں: ایک، خود رُخی (self-oriented) عمل اور دوسرا، خدا رُخی (God-oriented) عمل۔ اسلامی شریعت میں خود رُخی عمل کا دوسرا نام غیر صالح عمل ہے اور خدا رُخی عمل کا دوسرا نام صالح عمل۔ اِس کورس کا تیسرا جُزء تواصی ہے۔ تواصی میں مشارکت پائی جاتی ہے۔ اِس کا مطلب ہے ایک دوسرے کو نصیحت کرنا۔ دو آدمی ایک دوسرے کی خیر خواہی کے جذبے کے تحت، سنجیدہ موضوعات پر ایک دوسرے کے ساتھ جو گفتگو کریں، اُس کا نام تواصی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ تواصی نام ہے باہمی تبادلۂ خیال (mutual discussion) کا۔ دینی موضوعات پر باہمی ڈسکشن کسی مومن کی زندگی کا اُسی طرح ایک ناگزیر حصہ ہے، جس طرح ایمان اور عمل صالح۔

یہ باہمی تبادلۂ خیال، یا انٹلکچول ایکسچینج (intellectual exchange) ذہنی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انٹلکچول ایکسچینج کے بغیر ذہنی ترقی بالکل ممکن نہیں۔ آدمی سنجیدگی کے ساتھ ایک موضوع پر تبادلۂ خیال کریں تو دو آدمیوں کی گفتگو کے دوران ایک تیسرا تصور ایمرج (emerge) کرتا ہے، جس طرح دو پتھروں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز نکلتی ہے، اِسی طرح باہمی تبادلۂ خیال دونوں کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنتا ہے۔ اہلِ ایمان کے لیے تواصی کے اِس عمل کا موضوع صرف دو ہے، اور وہ ہے ۔ حق اور صبر۔ میں تمام مثبت موضوعات شامل ہیں۔ مثلاً قرآن اور حدیث کے گہرے معانی کو سمجھنے کے لیے باہمی تبادلۂ خیال کرنا۔

Printed page