اپنی تعمیر آپ
Al-Risala, May 2023, pp. 34–35
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ایک نفسیاتی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (15-75)۔ یعنی ، انسان (صحیح اور غلط کے معاملے میں )اپنے آپ سے خوب چاہے وہ کتنے ہی عذرات پیش کرے۔
قرآن کی اس آیت میں ایک نفسیاتی حقیقت، ضمیر ، کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یعنی اس بات کا اندرونی احساس کہ کسی طرز عمل یا سوچ میں کیا غلط ہے اور کیا صحیح ۔ یہ نفسیاتی حقیقت ہر انسان کے لیے ایک حجت داخلی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان بظاہر دوسرے حیوانات کی طرح ایک حیوان ہے۔ مگر انسان کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اندر ایک ایسی صفت پائی جاتی ہے، جو کسی اور حیوان کے اندر نہیں ہے۔ ضمیر (conscience) کی صفت ہے۔
خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کو اس بات کی کامل آزادی دی گئی ہے کہ وہ جس طرح چاہے، سوچے اور جس طرح چاہے، بولے اور لکھے۔ مگر انسان کے اندر پیدائشی طور پر یہ شعور موجود ہے کہ وہ برائی اور بھلائی میں تمیز کرے۔ انسان کا ضمیر صحیح عمل کی طرف اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہ فرق بتاتا ہے کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ایک سیلف میڈ مین (self-made man) بنے ، اور اس کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنی نگرانی خود کرے۔ وہ اپنے اندر سیلف کرکشن (self-correction) کا پراسس وہ تعمیر خویش کا نمونہ بن جائے۔
انسان کو اس کے خالق نے مکسچر آف اپوزٹس (mixture of opposites) بنایا ہے۔ انسان کے اوپر اس کے خالق کا احسان عظیم ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ انسان سیلف ڈسکوری (self-discovery) کی سطح پر کھڑا ہو۔ وہ اپنی غلطی کو خود دریافت کرکے اس کی اصلاح کرتا خدا کی کتاب اور کائنات کی نشانیاں بلاشبہ انسان کے لیے مددگار ہیں۔ اسی کے ساتھ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو خود اپنے عمل سے جنت کے لیے ایک مستحق امیدوار (deserving
انسان کے لیے اللہ نے جنت کو مقدر کیا ہے۔ جنت انسان کا ہیبیٹاٹ (habitat) ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کی تمام خواہشیں پوری ہوں گی، جہاں انسان کو مکمل معنوں میں فل فلمنٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ اس قسم کی جنت بلا شبہ انسان کے لیے خالق کا سب سے بڑا
انسان کے اوپر خالق کا مزید احسان یہ ہے کہ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ انسان کو جنت یہ کہہ کر دی جائے کہ تم کو جنت بطور استحقاق دی جارہی ہے۔ اگر چہ دینے والا پھر بھی خالق ہوگا۔ خالق کے بغیر انسان اس دنیا میں کوئی بھی چیز حاصل نہیں کر سکتا۔ لیکن یہ خالق کی خصوصی عنایت ہے کہ وہ انسان کو جنت یہ کہہ کر دے کہ تم نے اپنے عمل سے اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کیا ہے، اس لیے تم کو جنت دی جارہی ہے۔ اب تم اس میں ابدی طور پر خوف اور حزن سے محفوظ ہو کر قیام کرو۔ اس سلسلے میں ایک حدیث کا مطالعہ بہت اہم ہے۔ وہ حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ، فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2749)۔ یعنی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تم کو ہٹادے گا اور ایسی قوم کو لائے گا جو گناہ کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ انہیں معاف فرمادے گا۔
اس حدیث میں گناہ اور مغفرت کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں زیادہ اہم بات کیا ہے۔ وہ گناہ اور مغفرت کے درمیان جاری ہونے والا نفسیاتی عمل (psychological جب انسان کوئی گناہ کرتا ہے تو وہ اس کے ایگو (ego) کا فعل ہوتا ہے۔ اسی وقت انسان کی دوسری صفت، ضمیر جاگ اٹھتی ہے۔ اس کے اندر شدید ندامت کا عمل جاری ہو اس طرح انسان کے اندر ایک داخلی اسٹرگل (struggle) جاری ہو جاتا ہے۔ اور ضمیر یا سیلف اور اینٹی سیلف کے درمیان داخلی اسٹرگل۔ اس داخلی اسٹرگل کے ذریعہ انسان کے اندر ایک نئی شخصیت ایمرج کرتی ہے۔ یہ شخصیت احساس خطا کے بغیر بن نہیں سکتی۔