اذنِ خداوندی کے بغیر
Al-Risala, July 2023, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: اَمۡ لَہُمۡ شُرَکَآءُ شَرَعُوۡا لَہُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا لَمۡ یَاۡذَنۡ بِہِ اللّٰہُ (42:21)۔ یعنی کیا ان کے کچھ شریک ہیں جنھوں نے ان کے لیے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔
شرک یہ ہے کہ کسی غیر خدا کو وہ درجہ دیا جائے، جو صرف اللہ رب العالمین کا حق ہے۔ کسی سے بے انتہا محبت کرنا، کسی اور کو اپنا سول کنسرن بنانا، کسی اور سے وہ امید رکھنا جو امید صرف اللہ سے رکھنا چاہیے، وغیرہ۔ اللہ رب العالمین ہر انسان کا خالق اور رازق ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی میں بڑائی کا درجہ صرف اللہ رب العالمین کو دے، نہ کہ کسی اور کو۔ مَا لَمۡ یَاۡذَنۡ بِہِ اللّٰہُ (جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی) کا تعلق صرف معروف شرک سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق انسان کے تمام قول اور عمل سے ہے۔ خدا کے منصوبہ تخلیق کے مطابق، انسان کو وہی بولنا ہے، جس کی اجازت خدا نے دی ہے۔ انسان کو وہی کرنا ہے، جس کا اذن (اجازت) اس کو اللہ رب العالمین کی طرف سے حاصل ہو۔
مَا لَمۡ یَاۡذَنۡ بِہِ اللّٰہُ (جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی) کا تعلق ہر انسانی معاملے سے ہے۔ مثلاً جھوٹ بولنا مَا لَمۡ یَاۡذَنۡ بِہِ اللّٰہُ میں شامل ہے، خواہ وہ براہ راست جھوٹ ہو یا بالواسطہ جھوٹ۔ طرح انسان سے بدخواہی کرنا بھی مَا لَمۡ یَاۡذَنۡ بِہِ اللّٰہُ میں شامل ہے۔ انسانی سماج میں منفی جذبات کے ساتھ جینا بھی مَا لَمۡ یَاۡذَنۡ بِہِ اللّٰہُ میں شامل ہے۔ یعنی خدا کی زمین پر ایسا کام کرنا، جس کی اجازت اللہ نے نہ دی ہو: