Al-Risala · July 2023

دعوت کے حدود

Al-Risala, July 2023, pp. 17–30

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم لوگوں کو نصیحت کرو، کیوں کہ تم صرف نصیحت کرنے والے ہو، تم لوگوں کے اوپر داروغہ نہیں ہو (88:21-22)۔ اسی طرح دوسرے مقام پر کہا گیا ہے کہ تم لوگوں کے اوپر زبردستی کرنے والے نہیں ہو، پس تم قرآن کے ذریعہ اس شخص کو نصیحت کرو جو میرے پیغام کو سننے کے لیے راضی ہو (50:45)۔ حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے کسی صحابی کو کسی کام پر بھیجتے تو فرماتے : بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا، وَيَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1732)۔ یعنی خوش خبری دو اور متنفر نہ کرو، آسانی پیدا کرو اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالو۔ اس طرح کی آیتیں اور حدیثیں گویا دعوت کے عمل کی حد بندی کر رہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی کو ابلاغ کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہے، اس کو اجبار (زور زبردستی) کے دائرے میں داخل نہیں ہونا ہے۔ اس کے لیے یہ مناسب طریقہ ہے کہ وہ سمجھانے بجھانے کے تمام ذرائع کو مگر اس کو یہ حق نہیں کہ وہ دین کے نام پر دھرنا یا احتجاج، وغیرہ کا راستہ اختیار کر کے عام لوگوں کے لیے تکلیف کا سبب بنے (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2629)۔ مثال کے طور پر شتم رسول کو شتم رسول کا واقعہ پیش آنے پر مسلمانوں کا مروجہ احتجاجی رد عمل اسلامی تعلیمات کے ساتھ مطابقت یہاں ایک داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ دلائل کے ذریعہ پیغمبرِ اسلام کی سیرت اور ان کے پیغام کو لوگوں کے سامنے پیش کرے ۔ ’’شتم رسول‘‘ کا واقعہ آپ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے پیغمبر کی تعلیمات کو پر امن انداز میں پیش کریں۔

لیکن اگر کچھ لوگ ’’اینٹی شتم رسول مہم‘‘ چلائیں۔ وہ شتم رسول کے خلاف سڑکوں پر دھرنا دیں، مفروضہ شاتم کا پتلا (effigy) بنا کر اس کو جلائیں اور دکانوں کو بند کرائیں، وغیرہ تو اس قسم کی مہم درست نہ یہ گویا ابلاغ کی حد کو پار کر کے اجبار کی حد میں داخل ہونا ہے۔ ایسا طریقہ عام انسانوں کو اللہ اور اس کے دین سے دور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس قسم کی ’’اینٹی‘‘ مہم چلانا گویا دعوتی مواقع کو قتل کرنا ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تخریب کاری ہے، نہ کہ دین کی خدمت۔

شرح مشکوٰۃ المصابیح معاذ بن جبل کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ایمان کی بابت آپ نے فرمایا: یہ کہ تم اللہ کے لیے محبت کرو اور تم اللہ کے لیے ناپسند کرو۔ اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں مشغول رکھو، انہوں نے کہا کہ اور کیا۔ اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا کہ تم دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو تم خود اپنے لیے پسند کرتے ہو اور تم دوسروں کے لیے بھی اس چیز کو ناپسند کرو جس کو تم اپنے لیے ناپسند کرتے ہو (مسند احمد، حدیث نمبر 22130)۔ افضل ایمان سے مراد اعلیٰ ایمان ہے۔ یہ اعلیٰ ایمان اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ آدمی کا ایمان صرف لفظی اقرار کے ہم معنی نہ ہو۔ بلکہ وہ شعوری دریافت اور داخلی انقلاب کی حیثیت رکھتا ہو۔ اصل یہ ہے کہ اسلام کا آغاز کلمہ ایمان کے اقرار سے شروع ہوتا ہے، مگر اللہ کے نزدیک اتنا ہی کافی آدمی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس لسانی سطح کے ایمان کو عقلی سطح کا ایمان بنائے۔ کلمہ گوئی کے بعد اس کی تکمیل ہے۔ اسی تکمیلی ایمان کو قرآن میں داخل القلب ایمان (49:14) کہا اس قسم کا ایمان جب کسی کو ملتا ہے تو وہ اپنے محبت ونفرت کے جذبات کو اپنی خواہش کے تابع کرنے کے بجائے وہ اس کو مکمل طور پر حق کے تابع کر دیتا ہے۔ اس کے اندر وہی روحانی اور اخلاقی صفات پیدا ہو جاتی ہیں جن کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ٹھہراؤ حالاں کہ اللہ نے تم کو پیدا کیا ہے۔ اس نے کہا کہ اس کے بعد کیا۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنی اولاد کو اس اندیشہ سے قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائیں گے۔ اس نے کہا اس کے بعد کیا۔ فرمایا کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو۔ پھر اللہ نے اس کی تصدیق میں قرآن کی یہ آیت

(25:68) نازل فرمائی: اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ہیں۔ اور وہ اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو قتل نہیں کرتے مگر حق پر۔ اور وہ بدکاری نہیں کرتے۔ اور جو شخص ایسے کام کرے گا تو وہ سزا سے دوچار ہوگا (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 6861؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 86)۔ خدا کے معاملہ میں کسی انسان کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ وہ کسی کو عظمت کا وہ درجہ دے جو صرف ایک خدا کا حق ہے۔ انسان کے معاملے میں سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ کسی خود ساختہ سبب کی بنا پر اس کو قتل کر دیا جائے۔ عورت کے معاملے میں سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ ایک آدمی اس کے ساتھ زنا کا فعل کرے۔ حالاں کہ عورت کے ساتھ آخری حد تک احترام کا معاملہ کرنا فرض ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمانی، انسان کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6675)۔

گناہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک غلطی، اور دوسرے سرکشی۔ غلطی وہ ہے جو نفس سے مغلوب ہو کر سرزد ہو اور سرکشی وہ ہے جو انانیت اور تکبر کے جذبے کے تحت کی جائے۔ غلطی قابل معافی ہو سکتی ہے لیکن سرکشی اللہ کے نزدیک قابل معافی نہیں۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت میں یہ فرق ہے کہ اس میں جھوٹی قسم (اَلْيَمِينُ الْغَمُوْسُ) کی جگہ پر جھوٹی گواہی (شَهَادَةُ الزُّورِ) کے الفاظ آئے ہیں (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 2654؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 88)۔

جھوٹی قسم اور جھوٹی گواہی دونوں اسپرٹ کے اعتبار سے ایک ہیں۔ یعنی خلاف واقعہ بات کو سچ ثابت کرنا۔ جھوٹی گواہی دینا بلا شبہ ایک عظیم گناہ ہے۔ جھوٹی گواہی دینے والا ایک آدمی کو جانتے بوجھتے اس کے جائز حق سے محروم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس قسم کا فعل بلا شبہ ایک ناقابل معافی جرم ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ سات مہلک چیزوں سے بچو۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول وہ کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور جادو اور ایسی جان کو ناحق قتل کرنا جس کو اللہ نے حرام کیا ہے۔ اور سود کھانا۔ کا مال کھانا۔ اور میدان جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگنا۔ اور پاک دامن، سیدھی سادی مومن عورتوں پر جھوٹا الزام لگانا (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 2766 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 89)۔ گناہ کے مختلف درجے ہیں۔ سب سے زیادہ بڑا گناہ وہ ہے جو پستی اور کمینگی کی سطح پر مذکورہ ساتوں گناہ کی نوعیت یہی ہے۔ ان کاموں کو کرنے والا اپنے آپ کو پست انسانیت کی سطح پر گرالیتا ہے۔ اس لیے ان کو مہلکات (برباد کرنے والے اعمال) کہا گیا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی زانی زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور جب کوئی چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور جب کوئی شراب پینے والا شراب پیتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور کوئی مال چھیننے والا اس وقت مومن نہیں ہوتا جب کہ وہ مال چھین رہا ہو اور لوگ اس کو بے بسی کی نظروں سے دیکھ رہے اور جب کوئی خیانت کرنے والا خیانت کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ پس تم ان سے بچو، تم ان سے بچو (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 2475 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 57)۔ ایک انگارہ کو دیکھ کر یہ کہنا کہ یہ آگ ہے، اپنے آپ یہ مفہوم رکھتا ہے کہ آدمی اس کو نہیں اسی طرح جب ایک آدمی ایمان لاکر خدا کی خدائی کا اقرار کرے تو اس کا لازمی مفہوم یہ ہے کہ اقرار کرنے والا ان تمام چیزوں کو چھوڑ دے گا جو خدا کی مرضی کے سراسر خلاف ہیں۔ حالت میں جب ایک آدمی اس قسم کا کوئی کھلا ہوا خلاف ایمان فعل کرے تو اس نے عملاً اپنے آپ کو ایمان سے دور کر لیا۔ وہ دوبارہ صاحب ایمان اس وقت بن سکتا ہے جب کہ وہ اپنی غلطی کا سچا اعتراف کرکے لوٹے اور از سر نو ایمان پر قائم ہو جائے۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس طرح ہے: جب کوئی قتل کرنے والا قتل کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس سے کہا کہ مومن سے ایمان کیسے نکل جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح۔ اور پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا اور پھر ان کو نکال لیا۔ پھر کہا کہ اگر اس نے توبہ کر لی تو ایمان اس طرح واپس آ جاتا ہے۔ پھر یہ کہتے ہوئے انھوں نے اپنی انگلیوں کو دوبارہ اس میں داخل کر لیا۔ ابو عبد اللہ البخاری کہتے ہیں کہ ایسا آدمی اس وقت مکمل مومن نہیں ہوتا۔ اور نہ اس کو ایمان کی روشنی حاصل رہتی ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6809)۔

ایمان آدمی کے جسم کا مادی جزء نہیں ہے، جس طرح ہاتھ اور پاؤں انسانی جسم کے مادی ایمان دراصل علم و معرفت کی مانند ایک نفسیاتی حقیقت ہے۔ آدمی خود اپنے ارادے سے ایمان کو اپنے اندر داخل کرتا ہے۔ اور اپنے ارادے کے تحت اپنے آپ کو اس سے جزئی یا کلی طور پر دور کر سکتا ہے۔

ایمان سے جدائی کی انتہائی صورت وہ ہے جس کو ارتداد (apostasy) کہا جاتا ہے۔ جو شخص وقتی محرک کے تحت خلافِ ایمان فعل کرے اور پھر سچے دل کے ساتھ توبہ کرلے، وہ گویا وقتی طور پر اپنے ایمان سے جدا ہوا تھا اور پھر دوبارہ اس کی طرف لوٹ آیا۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی نشانیاں تین ہیں ــــ اس پر مسلم کی روایت میں اضافہ ہے : اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور گمان کرے کہ وہ مومن ہے ــــ اس کے بعد دونوں روایت کے الفاظ یہ ہیں : یہ کہ وہ بات کرے تو وہ جھوٹ بولے۔ جب وہ وعدہ کرے تو وہ اس کی خلاف ورزی کرے۔ اور جب اس کو امانت سونپی جائے تو وہ خیانت کرے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 33؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 59)۔

جو آدمی زبان سے ایمان کا اقرار کرے مگر ایمان اس کے دل ودماغ کی گہرائیوں میں اترا ہوا نہ ہو تو یہی وہ انسان ہے جو منافقت کی روش اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے معاملات کو اصول کی بنیاد پر قائم کرنے کے بجائے دنیوی مصلحتوں کی بنیاد پر چلانے لگتا ہے۔

عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار چیزیں جن کے اندر ہوں، وہ خالص منافق ہے۔ اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس کے اندر نفاق کی ایک صفت ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے: جب اس کو امانت دی جائے تو اس میں وہ خیانت کرے۔ اور جب وہ بات کرے تو وہ جھوٹ بولے اور جب وہ وعدہ کرے تو اس کی وہ خلاف ورزی کرے اور جب وہ جھگڑا کرے تو وہ گالی دینے لگے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 34؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 59)۔

منافق آدمی اگرچہ بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتا ہے مگر وہ ایمان کو اپنی زندگی میں ایک اصول کی حیثیت سے اختیار نہیں کرتا۔ اس کی اس بے اصولی اور بے حسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب اس کو کوئی معاملہ پیش آتا ہے تو وہ فوراً ایسی روش میں مبتلا ہو جاتا ہے جو ایمان سے مطابقت نہیں رکھتی۔ حساسیت برائی کے خلاف روک ہے۔ جو آدمی ایمان کی حساسیت سے خالی ہو وہ اپنے دنیوی مفاد کی خاطر کھلے طور پر بے اصولی کا طریقہ اپنائے گا، مگر اس کو اپنی غلطی کا احساس تک نہ ہوگا۔ عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: منافق کی مثال اس بکری جیسی ہے جو دو گلوں (herds) کے درمیان حیران پھر رہی ہو، کبھی اس طرف جاتی ہواور کبھی اُس طرف (صحیح مسلم، حدیث نمبر 17)۔

منافق انسان اپنے مزاج کی بنا پر کسی مستقل اصول کا پابند نہیں ہوتا۔ وہ صرف وقتی مفاد کا پابند یہی وجہ ہے کہ اس کی وفاداری ہمیشہ بدلتی رہتی ہے۔ مادی مفاد کی بنیاد پر وہ کبھی ایک طرف ہو جاتا ہے اور کبھی دوسری طرف۔

صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ آؤ ہم اس نبی کے پاس چلیں ۔ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: تم ان کو نبی مت کہو۔ اس لیے کہ اگر انھوں نے تم سے یہ سن لیا تو ان کی آنکھیں چار ہو جائیں گی۔ پھر وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ پھر ان دونوں نے نو واضح نشانیوں کے بارے میں آپ سے پوچھا۔ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ اور تم چوری نہ کرو اور تم زنا نہ کرو۔ اور تم ناحق کسی جان کو قتل نہ کرو جس کو خدا نے حرام ٹھہرایا ہے، اور تم کسی بے گناہ کو حاکم کے پاس نہ لے جاؤ تا کہ وہ اس کو قتل کر دے، اور تم جادو نہ کرو۔ اور تم سود نہ کھاؤ۔ پاک دامن عورت پر تہمت نہ لگاؤ۔ اور تم میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو۔ اور تم یہود پر یہ خاص حکم ہے کہ تم لوگ سبت کے قانون کی خلاف ورزی نہ کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ان دونوں نے آپ کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں چوم لیے۔ اور کہا کہ ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی آپ نے فرمایا کہ پھر تم کو میری اتباع سے کیا چیز روک رہی ہے۔ ان دونوں نے کہا کہ داؤد علیہ السلام نے اپنے رب سے کہا کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ نبی آتے رہیں ۔ اور ہم ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے آپ کی اتباع کی تو یہود ہم کو قتل کر دیں گے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2733 ؛ سنن النسائی ، حدیث نمبر 4078 )۔

یہودی عالم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے توریت کے مخصوص احکام کی بابت دریافت کیا۔ دورِ پریس سے پہلے تورات کا علم صرف کچھ علما کو ہوتا تھا۔ عام لوگ اس سے بے خبر رہتے تھے۔ عالم کو معلوم تھا کہ رسول یا اصحابِ رسول کو تورات کا علم نہیں۔ مگر جب آپ نے یہودی عالم کے سوال کا ٹھیک ٹھیک جواب دے دیا تو اس کو یقین ہو گیا کہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں۔ اس کھلی دلیل کے باوجود وہ دونوں یہودی ایمان نہیں لائے۔ اس کا سبب اپنی قوم کا ڈر تھا۔ تاریخ کے ہر دور میں یہی ہوا ہے کہ حق کی وضاحت کے باوجود مادی مصالح کی بنا پر لوگ حق کو قبول کرنے سے باز رہے۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین باتیں ایمان کی اصل ہیں ــــ ان شخص سے رُک جانا جو یہ کہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تم کسی گناہ کی بنا پر اس کو کافر نہ کہو اور نہ تم کسی عمل کی بنیاد پر اس کو اسلام سے خارج کرو۔ اور جہاد جاری رہے گا، میری بعثت سے لے کر اس وقت تک جب کہ اس امت کا آخری حصہ دجال سے جنگ کرے گا۔ اس کو نہ ظالم کا ظلم روکے گا اور نہ عادل کا عدل۔ اور تقدیر کے اوپر ایمان لانا (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 2532)۔ اللہ کے یہاں ہر آدمی کا فیصلہ اس کی نیت کے بنیاد پر کیا جائے گا۔ مگر انسان کسی کی داخلی نیت کو نہیں جان سکتا۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے ظاہر کی بنیاد پر اس کے ساتھ معاملہ وہ ان کے باطن کی بنیاد پر کوئی حکم نہ لگائے۔

جہاد سے مراد جہاد بالقرآن ہے، یعنی پر امن دعوتی عمل۔ عادل حاکم کا زمانہ ہو تب بھی جہاد کا عمل جاری رہے گا۔ ظاہر ہے کہ اس سے مراد مسلح جہاد نہیں ہو سکتا ، کیوں کہ عادل حاکم کے خلاف مسلح جہاد ایک فساد کا عمل ہو گا، نہ کہ جہاد کا۔ پر امن دعوتی عمل ایک ایسا کام ہے، جس کا تعلق ظالم حکمران یا عادل حکمران سے نہیں ہے۔ یہ ہر دور میں بلا انقطاع جاری رہنے والا عمل ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا جد وجہد کی دنیا یہاں اسلامی مقاصد کے لیے فکری جہاد کا عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ یہ عمل دورِ آخر میں دجال کے ظہور تک جاری رہے گا۔ دجال سے مراد غالباً کوئی فرد نہیں ہے، بلکہ ایک عظیم فتنہ ہے۔ دجال سے قتال کا مطلب غالباً مسلح جنگ نہیں ہے بلکہ فتنہ دجال کے خاتمہ کے لیے متواتر فکری جدو جہد ہے۔ اسلام کی ایک بنیادی تعلیم تقدیر ہے۔ تقدیر کے عقیدہ کا مطلب انسان کی مجبوری کو بتانا نہیں ہے، بلکہ خدا کی قدرتِ کاملہ کو بتانا ہے۔ خدا نے اپنی قدرتِ کاملہ کے تحت آزمائش کی مصلحت کی بنا پر انسان کو آزادی عطا فرمائی ہے۔ آزادی کا یہ ماحول قیامت تک باقی رہے گا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ زنا کرتا ہے تو اس وقت ایمان اس سے نکل جاتا ہے ۔ وہ اس کے سر کے اوپر سائبان کی طرح رہتا ہے۔

وہ اس بُرے عمل سے باہر آتا ہے تو اس کا ایمان اس کی طرف واپس آجاتا ہے (سنن الترمذی ، حدیث نمبر 2625 ؛ سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر 4690)۔

زنا ایک بد اخلاقی کا عمل ہے اور ایمان ایک پاکیزہ حقیقت۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ زنا کے وقت زانی کا ایمان اس سے جدا ہو جاتا ہے۔ اس کے زنا کی حیثیت ایک وقتی فعل کی ہو اور اس کے بعد وہ حقیقی معنوں میں ندامت کا ثبوت دے تو اس کا ایمان اللہ کی رحمت سے دوبارہ اسے حاصل ہو جائے گا۔

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دس باتوں کی نصیحت آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ، اگرچہ تم کو قتل کر دیا جائے اور تم کو جلا دیا جائے۔ اور تم اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرو ، اگرچہ وہ تم کو حکم دیں کہ تم اپنے اہل کو اور اپنے مال کو چھوڑ دو۔ اور تم ہرگز جان بوجھ کر فرض نمازوں کو نہ چھوڑو۔ کیوں کہ جس نے جان بوجھ کر فرض نماز کو چھوڑا تو اللہ کا ذمہ اس سے جاتا رہتا ہے۔ اور تم ہرگز شراب نہ پیو کیوں کہ وہ ہر برائی کی جڑ اور تم اللہ کی نافرمانی سے پوری طرح بچو۔ کیوں کہ نافرمانی سے اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔ اور تم ہرگز میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر نہ بھاگو ، اگرچہ لوگ ہلاک ہو جائیں اور اگر لوگوں پر موت (وبا) آجائے اور تم ان میں موجود ہو تو تم اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ اور اپنے گھر والوں پر اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرو اور تادیب کا عصا ان کے اوپر سے نہ ہٹاؤ۔ اور اللہ کے معاملہ میں انھیں ڈراتے رہو (مسند احمد، حدیث نمبر 22075)۔

اس حدیث میں وہ ذمہ داریاں بتائی گئی ہیں جو ایک مومن پر انفرادی حیثیت سے عاید ہوتی ان میں سے بعض احکام کا تعلق روزانہ کی زندگی سے ہے ، مثلاً شرک سے پرہیز اور نماز کا اور بعض احکام کا تعلق حالات کی نسبت سے ہے۔ یعنی وہ اس وقت مطلوب ہیں جب کہ عملی طور پر ان کے مطابق صورت حال پیش آجائے۔ مثلاً مقابلہ کے میدان سے کسی بھی حال میں نہ ہٹنا۔ ’’تادیب کا عصا نہ ہٹاؤ‘‘ کا مطلب مارنا پیٹنا نہیں ہے ، اس سے مراد اصلاً وہ اخلاقی دباؤ ہے جو گھر کے اندر نظم برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے ، تا کہ گھر میں انارکی کا ماحول قائم نہ ہو۔

حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نفاق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اب آج یا تو کفر ہے یا ایمان (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7114)۔

اس روایت میں نفاق یا منافقت سے مراد وہ کردار ہے جو شبہ کی نفسیات میں مبتلا ہو۔ بنا پر وہ مخلصانہ ایمان کے درجہ تک نہ پہنچ سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام اپنے ابتدائی دور میں تھا۔ نظریہ وعمل کے اعتبار سے وہ اس طرح مستحکم نہیں ہوا تھا جس طرح وہ آپ کے برپا کردہ انقلاب کے بعد ہوا۔ اس لیے ابتدائی دور میں کمزور افراد کے لیے اس شبہ کی گنجائش ہوسکتی تھی کہ یہ واقعی صداقت ہے یا نہیں۔ مگر بعد کے زمانے میں جب اسلام نظری اور عملی دونوں اعتبار سے قائم اور مستحکم ہو گیا تو اس کے بعد یہ گنجائش نہ رہی کہ کوئی شخص اس کی صداقت کے بارے میں شبہ کر سکے۔ اب انسان کے لیے شبہ کا امکان ختم ہو گیا۔ اب اس کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب باقی رہا ــــ پوری طرح انکار یا پوری طرح اقرار۔

اس روایت میں منافق کا قانونی حکم نہیں بتایا گیا ہے۔ بلکہ اس کی وہ حیثیت بتائی گئی ہے جو اس کی اللہ کے نزدیک ہے۔ اس روایت کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں کسی شخص کو شبہ کا فائدہ (benefit of doubt) مل سکتا تھا۔ مگر جب اسلام ہر اعتبار سے ایک واضح اور ثابت شدہ حقیقت بن گیا تو اب اللہ کے یہاں کسی کو شبہ کی رعایت نہیں ملے گی۔ اب اگر کوئی شخص اسلام کی صداقت پر شبہ کرے تو وہ اللہ کے نزدیک ایک ایسا انسان قرار پائے گا جس نے تمام دلائل وحقائق سامنے آنے کے باوجود خدا کے دین کے ساتھ مخلصانہ تعلق قائم نہیں کیا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے میری امت سے ان وسوسوں کو معاف کر دیا ہے جو ان کے دلوں میں گزریں۔ جب تک وہ اس پر عمل نہ کرے یا اس کو زبان پر نہ لائے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 2528؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 127)۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت محمدی پر وسوسوں کی پکڑ نہیں ہے، جب کہ اس سے پہلے کی امتوں کا معاملہ ایسا نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وسوسہ پر پکڑ نہ ہونا بلکہ عمل پر پکڑ ہونا، یہ اللہ کا عام

اس کا تعلق ہر دور کے تمام انسانوں سے ہے۔ حدیث کے مذکورہ الفاظ کی نوعیت اسلوب کلام کی ہے جو مخاطب کی نسبت سے اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بات اپنے آپ مفہوم (understood) ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں کے لیے وسوسہ پر پکڑ نہیں تھی اسی طرح میری امت کے لیے بھی وسوسہ پر پکڑ نہیں۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انھوں نے پوچھا کہ ہم اپنے دلوں میں ایسی بات پاتے ہیں جس کو زبان پر لانا ہمیں بہت زیادہ سنگین معلوم ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم ایسا پاتے ہو۔ انھوں نے کہا کہ ہاں۔ فرمایا کہ یہ تو کھلا ہوا ایمان ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 132)۔

ایمان، نفسانی وسوسوں کے ساتھ ایک مسلسل جنگ ہے۔ مومن وہ ہے جو وسوسوں کو دبائے، نہ کہ خود اس سے دب جائے۔ نفسانی وسوسوں کو اس حد تک برا سمجھنا کہ ان کو زبان پر لانا بھی آدمی کو گوارہ نہ ہو، یہ خود ایمان کی ایک یقینی حالت ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تم میں سے کسی شخص کے پاس آتا ہے، اور (اس کے ذہن میں) یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا، فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا۔ یہاں تک کہ وہ کہتا ہے کہ تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا۔ جب ایسا ہو تو آدمی کو چاہیے کہ وہ اللہ سے پناہ مانگے اور اس سے رک جائے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 3276؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 134)۔

یہ بھی علم ہے کہ آدمی علم کی حد کو جانے۔ یعنی وہ اس حقیقت کو جانے کہ میں کیا جان سکتا ہوں، اور وہ کیا چیز ہے جس کو اپنی محدودیت کی بنا پر میں نہیں جان سکتا۔ مثلاً آدمی یہ جان سکتا ہے کہ درخت بیج سے نکلا اور پانی دو گیسوں کے ملنے سے بنا۔ مگر خود بیج اور گیس کی ابتدا کیسے ہوئی، اس کو جاننا انسان کے لیے ممکن نہیں۔ انسانی تاریخ اپنی تمام تر علمی دریافتوں کے باوجود جہاں تک پہنچی ہے یا پہنچ سکتی ہے، وہ صرف یہ ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر صرف جزئی علم دے سکے۔ ماڈرن سائنس کے حوالے

سے اس واقعہ کو جے این سلیون (J. W. N. Sullivan) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔ سائنس سے انسان کو حقیقت کا صرف جزئی علم حاصل ہوتا ہے :

Science gives us but a partial knowledge of reality. (Limitations of Science, London, 1983, p. 182)

یہ ایک حقیقت ہے کہ علم کلی تک پہنچنے کی راہ میں انسان کی ذاتی محدودیت فیصلہ کن طور پر اپنی اسی محدودیت کی بنا پر انسان خدا کے تخلیقی مظاہر کو تو جان سکتا ہے مگر خدا کے وجود کی وسعتوں کا احاطہ کرنا انسان کے لیے ہرگز ممکن نہیں۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا کہ یہ مخلوق ہے جس کو خدا نے پیدا کیا۔ پھر خدا کو کس نے پیدا کیا۔ پس جو شخص اپنے دل میں اس قسم کا کوئی خیال پائے تو وہ کہے کہ میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کے رسولوں پر (متفق علیہ : صحیح البخاری، حدیث نمبر 7296 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 134)۔ انسانی غور و فکر کا ایک معلوم دائرہ ہے اور دوسرا اس کا نامعلوم دائرہ ۔ دانش مند وہ ہے جو اپنے معلوم دائرے میں تو وہ کلی علم تک پہنچنے کی پوری کوشش کرے۔ مگر اس کا نامعلوم دائرہ آجائے تو وہ جزئی علم پر راضی ہو جائے۔ معلوم دائرے میں براہ راست علم تک پہنچنے کی کوشش کرنا ایک مستحسن فعل ہے۔ مگر نامعلوم دائرے کے لیے یہ مطلوب ہے کہ آدمی بالواسطہ علم پر قناعت کرے۔ یہی اس دنیا میں عملی نقطہ نظر ہے، اور یہی وہ نقطہ نظر ہے جس کو موجودہ زمانے میں سائنٹفک نقطہ نظر کہا جاتا ہے۔ عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کے اوپر اس کا ایک ساتھی مقرر کر دیا جاتا ہے جنات میں سے، اور فرشتوں میں سے ۔ نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، کیا آپ کے ساتھ بھی۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں میرے ساتھ بھی۔ خدا نے مجھے اس کے اوپر مدد دی ۔ تو اس نے اسلام قبول کر لیا ، پس وہ مجھ کو ہمیشہ بھلائی کا مشورہ دیتا ہے (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 69) ۔

اس حقیقت کو قرآن میں نفس امارہ (12:53) اور نفس لوامہ (75:2) کے الفاظ میں بیان کیا ہر آدمی کے اندر بیک وقت دو مختلف قوتیں موجود ہیں۔ ایک نفسانی قوت، جو ہر موقع پر آدمی کے اندر منفی نفسیات جگاتی ہے اور اس کو برے کام پر ابھارتی ہے۔ اسی کے ساتھ ہر آدمی کے اندر ضمیر کی طاقت ہے جو ہر موقع پر اس کے اندر مثبت احساسات جگاتی ہے۔ آدمی اگر ایسا کرے کہ جب اس کے اندر نفسانی محرکات جاگیں تو وہ اپنی سوچ کو بھی اسی کے مطابق چلانے لگے ایسی حالت میں دھیرے دھیرے اس کا ذہن اس کے نفس کے تابع ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، اگر وہ ضمیر کی آواز پر دھیان دے اور اپنے ذہن کو اس کے تابع بنائے تو اس کا ضمیر اس کا رہنما بن جائے گا جو ہر موقع پر اس کو خیر کا مشورہ دے۔

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان آدمی کے اندر اس طرح دوڑتا ہے جیسے خون اس کے اندر دوڑتا ہے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 3281؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 23)۔

اس حدیث میں خون کی مثال سے بتایا گیا ہے کہ شیطان کسی آدمی کے اندر کس طرح تیزی کے ساتھ اپنا عمل کرتا ہے۔ یہ معاملہ خدا نے انسان کے امتحان کے لیے کیا ہے۔ انسان کو شیطان کے ساتھ مسلسل فکری مقابلہ کرنا ہے۔ اسی فکری مقابلہ کے دوران یہ ثابت ہوتا ہے کہ کون شخص اس دنیا میں حق پر قائم رہا اور کون حق کے راستے سے ہٹ گیا۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی آدم کے یہاں جب بھی کوئی بچہ ہوتا ہے شیطان اس کو ضرور چھوتا ہے۔ شیطان کے اسی چھونے کی وجہ سے پیدائش کے وقت بچہ چیختا ہے، سوا مریم اور ان کے فرزند کے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 3431؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 146)۔

اس حدیث میں ایک فطری حقیقت کو تمثیل کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان پیدا ہوتے ہی شیطان کی زد میں آ جاتا ہے اور پھر اپنی ساری عمر وہ اس کے زیر اثر رہتا ہے۔

اس معاملے میں آدمی کو اتنا زیادہ چوکنارہنا چاہیے کہ پیدائش کے وقت اگر وہ بچہ کے چيخنے کی آواز سنے تو اس کو یاد آئے کہ اس دنیا میں انسان کو شیطان سے بچنے کے لیے کتنا زیادہ اہتمام کرنا ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پیدائش کے وقت بچے کی چیخ شیطان کی چھیڑ سے ہوتی ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2367)۔

یہ حدیث تمثیل کی زبان (symbolic language) میں ہے۔ اس حدیث کا رخ بچے سے زیادہ بڑوں کی طرف ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ پیدائش کے وقت جب آدمی بچے کی چیخ کو سنے تو وہ شیطان کے معاملہ کو یاد کرے اور شیطان سے بچاؤ کے لیے مزید شدت کے ساتھ سرگرم ہو جائے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابلیس اپنا تخت پانی کے اوپر رکھتا ہے۔ پھر وہ اپنے دستوں کو بھیجتا ہے تا کہ وہ لوگوں کو فتنوں میں مبتلا کریں۔ درجہ کے اعتبار سے شیطان کا سب سے زیادہ مقرب وہ ہوتا ہے جس نے سب سے زیادہ بڑا فتنہ برپا ان میں سے ایک واپس آتا ہے اور شیطان سے کہتا ہے کہ میں نے ایسا کیا، میں نے ایسا تو شیطان کہتا ہے کہ تم نے کچھ نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو نہیں چھوڑا جب تک کہ میں نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی۔ آپ نے فرمایا کہ شیطان اس کو اپنے قریب کرتا ہے۔ پھر وہ اس سے کہتا ہے کہ ہاں، تم ۔ اعمش (راوی) کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ روایت کرنے والے نے یہ کہا تھا کہ "وہ اس کو اپنے سے چمٹا لیتا ہے" (صحیح مسلم، حدیث نمبر 67)۔

یہ حدیث بھی غالباً تمثیل کی زبان میں ہے۔ یہ ایک اسلوب کلام ہے جس کے ذریعے آدمی کو شیطانی فتنوں سے متنبہ کیا گیا ہے۔ جو شخص دو فرد یا دو گروہ کے درمیان تفریق ڈالے وہ گویا شیطان کا کام کر رہا ہے۔ اور جو لوگ تفریق میں مبتلا ہوں، انھیں جاننا چاہیے کہ وہ شیطان کی سب سے زیادہ تباہ کن سازش کا شکار ہو گئے۔

Printed page