Al-Risala · July 2023

ڈائری 1986

Al-Risala, July 2023, pp. 31–33

By Maulana Wahiduddin Khan

ایودھیا میں 32 ہزار ہندو آبادی ہے اور مسلمان تقریباً ساڑھے سات ہزار ہیں۔ یہ مندروں کا چنانچہ یہاں 4932 مندر پائے جاتے ہیں۔ یہاں ایک قدیم مسجد ہے جو مسلمانوں کے درمیان بابری مسجد کے نام سے مشہور ہے۔ تاہم ہندوؤں کا کہنا ہے کہ یہ ’’رام جنم بھومی‘‘ ہے۔ یہ عمارت انگریزی دور سے متنازعہ رہی ہے۔ 1949ء میں ایک فساد ہوا اور اس کے بعد بابری مسجد بند کر دی گئی۔ اس کے بعد مقدمہ چلتا رہا اور اب بھی اس کا کیس عدالت میں موجود ہے۔ تاہم تالا بندی کے 37 سال بعد جنوری 1986ء میں ڈسٹرکٹ جج کے ایم پانڈے کے ایک فیصلے کے تحت اس کا تالا توڑ دیا گیا اور یہ عمارت ہندوؤں کے حوالے کر دی گئی۔ (مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے 9 نومبر 2019ء کو انڈین سپریم کورٹ نے ہندوؤں کے حق میں فیصلہ دیا، اس طرح اب یہ مسئلہ عملاً ختم ہو چکا ہے)۔

ہندوؤں کی طرف سے مقدمہ مسٹر امیش چند پانڈے نے لڑا جو ایک غیر معروف وکیل تھے۔ اس کامیابی نے انھیں اچانک غیر معمولی شہرت دے دی۔ ہندوستان ٹائمس (16فروری1986ء) نے اس موضوع پر ایک مفصل رپورٹ شایع کی ہے۔ تبصرہ نگار مذکورہ وکیل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ......and virtually overnight this quite obscure advocate made headlines and became the darling of Ayodhya's hindu majority. بابری مسجد کی اہمیت یہ تھی کہ وہ دو حریف قوموں کے لیے پرستیج اشو بن گئی۔ اس قسم کی چیزوں میں جو لوگ حصہ لیتے ہیں وہ خواہ کامیاب ہوں یا ناکام، ہر حال میں اچانک شہرت حاصل کر لیتے ان چیزوں میں حصہ لینے کا محرک شخصی ترقی ہوتی ہے، نہ کہ قومی ترقی۔ کلیم اللہ خاں ایم ایس سی (سری نگر) اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ ملنے کے لیے آئے۔ نے بتایا کہ جمعہ (14 فروری 1986) کی نماز انہوں نے چاندنی چوک کی سنہری مسجد میں پڑھی۔

مسجد کے سلسلے میں احتجاج کا دن تھا۔ مسجد میں ایک صاحب تقریر کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ نے نہایت پر جوش انداز میں کہا کہ ہماری مسجدوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ اس وقت مسلمانوں کو سر بکف ہو کر نکل پڑنا چاہیے، مگر مجھے تعجب ہے کہ مسلمان بے حس بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مسجد کے نمازیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ "یوم احتجاج" کی رعایت سے آج آپ نے اتنا بھی نہیں کیا کہ اپنے ہاتھوں پر کالی پٹی باندھ لیں۔ اتنے سارے مسلمان یہاں جمع ہیں مگر کوئی کالی پٹی باندھے ہوئے نظر نہیں آتا۔ آپ لوگوں کی غیرت آخر کہاں چلی گئی۔

کلیم اللہ صاحب نے کہا کہ موصوف کی پر جوش تقریر کے بعد میں نے یہ جاننا چاہا کہ مقرر صاحب نے خود کالی پٹی باندھی ہے یا نہیں۔ میں نے بہت غور سے دیکھا، مگر ان کے ہاتھ پر یا جسم پر کہیں کالی پٹی نظر نہیں آئی۔

کلیم اللہ صاحب نے اپنے پاس بیٹھے ایک صاحب سے کہا کہ مقرر صاحب کے ہاتھ پر کالی پٹی تلاش کر رہا ہوں مگر کہیں نظر نہیں آرہی ہے۔ اس آدمی نے جواب دیا کہ وہ کالی پٹی کیا باندھیں گے وہ ہندوؤں کے خلاف تقریر کر رہے ہیں کہ انہوں نے بابری مسجد پر قبضہ کر لیا ہے اور خود یہ حال ہے کہ اسی سنہری مسجد کے ایک حصہ پر وہ قبضہ کیے ہوئے ہیں اور کسی قیمت پر بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔ موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم لیڈروں کا یہی حال ہے۔ وہ جھوٹی تقریریں کرنے میں مشغول وہ دوسروں سے ایسا مطالبہ کر رہے ہیں جس پر وہ خود عمل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرف لیڈری کی دھوم مچی ہوئی ہے مگر کہیں بھی کوئی نتیجہ نظر نہیں آتا۔ 19 فروری 1986 الرسالہ کے ایک قاری نے کہا کہ الرسالہ میں اسلامی مرکز کا جو خبر نامہ ہوتا ہے وہ میرے نزدیک اسلامی مرکز کا تعریف نامہ ہے۔ یہ اپنی تعریف آپ (self-praise) کے ہم معنی ہے۔ میں نے کہا کہ خبر نامہ میں جو باتیں درج ہوتی ہیں ان کو آپ حقیقی واقعہ سمجھتے ہیں یا فرضی خبر؟ نے کہا کہ میں ان کو حقیقی واقعہ سمجھتا ہوں۔ میں نے کہا کہ جب یہ باتیں حقیقی واقعہ ہیں تو پھر ان کے ذکر کرنے پر آپ کو کیا اعتراض ہے؟

پھر میں نے کہا کہ آپ کی تنقید کی وجہ وہ نہیں ہے جو آپ اپنے لفظوں میں ظاہر کر رہے ہیں۔

آپ اس کو ایک اصولی تنقید سمجھ رہے ہیں۔ مگر یہ صرف ایک غیر ذمہ دارانہ اظہار رائے ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ آپ کو ’’اسلامی مرکز‘‘ کے ساتھ مشن والی وابستگی نہیں۔ آپ الرسالہ کے قاری ہیں، مگر آپ الرسالہ کی تحریک کے ہمدرد نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اس طرح کی باتیں فرما رہے ہیں۔ آپ کو اس مشن سے فی الواقع قلبی لگاؤ ہوتا تو آپ خبرنامہ کو ’’رفتار کار‘‘ (الرسالہ مشن کی سرگرمیوں) کے معنی میں لیتے، اور پھر جب آپ اس کو پڑھتے تو آپ کو یہ معلوم کر کے خوشی ہوتی کہ اس مشن کا دائرہ پھیل اور وہ لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ مگر چونکہ آپ کو اس سے کوئی تحریک کی دلچسپی نہیں، اس لیے آپ اس کو رفتار کار کے انداز میں نہ دیکھ سکے۔ آپ نے اس کو صرف تعریف کے انداز میں یہی وجہ ہے کہ جو چیز محض حقیقت واقعہ کا اظہار تھی وہ آپ کو غیر ضروری طور پر قابل اعتراض دکھائی یہی حال تمام معاملات کا ہے۔ اکثر غلط فہمیاں یا اعتراض محض زاویہ نظر کے فرق کا نتیجہ اگر زاویہ نظر بدل جائے تو آدمی کی رائے بھی یقینی طور پر دوسری ہو جائے گی۔ 20 فروری 1986 آج کی ڈاک سے ایک کتاب موصول ہوئی۔ اس کا نام ہے:

’’التربية فى اليابان المعاصرة‘‘ (مترجم: محمد عبدالعلیم موسی، 1985، صفحات 68) یہ ایڈورڈ، ر، بوشامب کی ایک کتاب کا عربی ترجمہ ہے جس کا اصل نام یہ ہے:

Printed page