Al-Risala · July 2023

Education in Countemporary Japan

Al-Risala, July 2023, pp. 33–35

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کتاب کا عربی ترجمہ ریاض (سعودی عرب) کے ایک ادارہ نے شائع کیا ہے۔

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے موقع پر جاپانیوں میں زبردست فوجی ذہن پایا جاتا تھا۔ وہ اپنے قومی مسائل کا حل فوجی کارروائیوں میں سمجھتے تھے۔ مگر جب امریکہ نے جاپان کے اوپر دو ایٹم بم گرائے اور جاپان کی طاقت بالکل تہس نہس ہو گئی تو اچانک جاپانیوں نے اپنی سوچ کو بدل لیا۔ پوری قوم اس بدلے ہوئے رخ پر چل پڑی جس کو اس کے مفکرین نے الاتجاه المعاكس (reverse course) کا نام دیا ہے۔ یعنی متشددانہ طریقہ کو چھوڑ کر پر امن تعمیر کا طریقہ اختیار کرنا۔ یہی موجودہ دنیا میں ترقی کا سب سے بڑا راز ہے۔ فرد ہو یا قوم ہر ایک کی زندگی میں بار بار ایسے لمحات آتے ہیں کہ اس کا سابقہ طریقہ بدلے ہوئے حالات کے اعتبار سے بے فائدہ ہو جاتا ہے۔ یہ لمحہ کسی

شخص یا قوم کے لیے سب سے زیادہ نازک امتحان ہوتا ہے۔ مردہ لوگ اپنے سابقہ طریقے پر باقی رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اور جو زندہ لوگ ہیں وہ فورا اپنا راستہ تبدیل کر دیتے ہیں۔ نئے راستے سے اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں، جہاں وہ پچھلے راستے سے پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ 21 فروری 1986 پچھلے جمعہ (14 فروری 1986) کو ایک مسجد میں نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک صاحب نے جمعہ سے پہلے نہایت پرجوش تقریر کی اور جمعہ میں قنوت نازلہ بھی پڑھی گئی۔ مقرر نے گرجدار آواز میں کہا تھا کہ بابری مسجد مسجد(اجودھیا) کا مسئلہ ہمارے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ ہم کسی حال میں بھی اس کو برداشت نہیں کرسکتے۔ خواہ ہماری گردنیں کاٹی جائیں یا ہمارے جسموں پر ٹینک چلا دیے جائیں، وغیرہ وغیرہ۔

مگر پچھلے جمعہ کو بھی اس پر جوش تقریر کے بعد اور کچھ نہ ہوسکا۔ مقرر نے اعلان کیا تھا کہ تمام نمازی نماز کے بعد مسجد کے باہر میدان میں جمع ہو جائیں اور جلوس کی شکل میں بوٹ کلب چلیں۔ کے بعد مقرر صاحب کو قریب کے تھانے میں بلایا گیا اور تھانے دار نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بوٹ کلب کے علاقہ میں دفعہ 144 لگی ہوئی ہے۔ پھر آپ کیسے وہاں جلوس لے جائیں گے؟ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ چند آدمی اپنا مطالبہ لکھ کر لے جائیں اور وہاں پولیس افسر کو دے دیں۔ بعد مقرر صاحب کی ہدایت پر تمام نمازی منتشر ہوگئے اور مطالبہ اس لیے پیش نہ کیا جاسکا کہ وہ سارے جوش و خروش کے باوجود تحریری طور پر مرتب ہی نہیں کیا گیا تھا۔

آج کے جمعہ میں بھی نمازیوں کی تعداد معمول سے زیادہ تھی۔ تاہم نہ مجاہد نو جوانوں کے ہاتھ پر کالی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں اور نہ کوئی پرجوش تقریر ہوئی۔ سابق مقرر نے دوبارہ اعلان کیا کہ آپ لوگ نماز سے فارغ ہونے کے بعد خاموشی سے اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں اور بس اللہ سے دعا آج پچھلے جمعہ کے برعکس قنوت نازلہ بھی نہیں پڑھی گئی۔

یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی عام حالت ہے۔ وہ پرجوش تقریریں کرتے ہیں، جب کہ عمل کا کوئی واقعی منصوبہ ان کے ذہن میں نہیں ہوتا۔ وہ بڑے بڑے اقدام کی باتیں کرتے ہیں، جب کہ وہ اپنے مدعا کو ایسے انداز میں قلم بند کیے ہوئے نہیں ہوتے جس کو وہ کسی ذمہ دار کے

سامنے پیش کر سکیں۔ اسی قسم کی روش کی طرف صحابی رسول ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے: سَيَأْتِي مِنْ بَعْدِكُمْ زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ (الادب المفرد للبخاری، حدیث نمبر یعنی، عنقریب تمھارے بعد وہ زمانہ آئے گا، جب کہ سمجھ بوجھ رکھنے والے کم ہوں گے اور تقریر کرنے والے زیادہ۔

Printed page