25 فروری 1986
Al-Risala, July 2023, pp. 36–38
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری جنگِ عظیم تک جاپان کے اندر زبردست عسکری مزاج تھا۔ مگر دوسری جنگِ عظیم (اگست 1945ء) میں جب جاپان کو شکست ہوئی تو وہاں کے مفکرین نے فوراً جاپان کو دوسرا نعرہ دیا، جس کا نام تھا بر عکس طریقہ (reverse course) ۔ یہ برعکس طریقہ اتنا زبردست کامیاب ہوا کہ چالیس برس کے بعد جاپان کی تاریخ بدل گئی۔
میں نے ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ زندگی کے سفر میں یہ ایک بے حد فیصلہ کن چیز ہے۔ زندگی کے سفر میں کبھی اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ اپنے رخ کو بالکل تبدیل کر دیا جائے۔ جنگ کرنے والا صلح کر لے۔ آگے بڑھنے والا پیچھے ہٹ جائے ۔ بول رہا تھا وہ خاموشی اختیار کرلے۔ مذکورہ مسلمان نے یہ سن کر کہا کہ جاپان نے جو کچھ کیا اس کی دوسری جنگِ عظیم میں شکست کے بعد جاپان اس کے سوا اور کیا کر سکتا تھا جو وہ کرتا۔ مذکورہ مسلمان کے یہ الفاظ گرامر کے لحاظ سے صحیح ہیں۔ مگر معنیٰ کے اعتبار سے وہ سراسر غلط موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو ہر محاذ پر شکست ہوتی ہے۔ اس کے باوجود وہ ریورس کورس کی تدبیر نہ اختیار کر سکے۔ مسلمان جہاں براہِ راست نہیں لڑ سکتے وہاں بالواسطہ لڑ رہے ہیں اور جہاں کسی قسم کی لڑائی ان کے لیے ممکن نہیں ہے، وہاں لفظی طوفان مچار ہے ہیں۔ یہ طریقہ جاپان بھی اختیار کر سکتا تھا، مگر اس نے نہیں کیا۔
ڈاکٹر عبدالاحد صاحب (بنگلور) ملنے کے لیے تشریف لائے۔ وہ الرسالہ کے قاری بھی ہیں اور دس پرچہ منگا کر تقسیم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ کے بعض قارئین کا کہنا ہے کہ الرسالہ میں تنقید نہیں رہنا چاہیے۔
میں نے کہا کہ تنقید تو کسی قوم کی زندگی کی علامت ہے۔ صحابہ کرام عام طور پر ایک دوسرے کے خلاف سخت تنقید کرتے تھے۔ مثلاً حضرت ابن عمر نے ایک بار حضرت ابو ہریرہ کے بارے میں کہا: كَذَبَ أَبُو هُرَيْرَة (قبول الاخبارلابی القاسم بلخی، جلد 1، صفحہ 183)۔ یعنی، ابو ہریرہ نے جھوٹ کہا۔ اس جملے کو اگر خالص لفظی معنیٰ میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ابو ہریرہ ساقط الرواية ہیں۔ جو شخص جھوٹ بولے اس سے روایت نہیں کی جاتی۔ مگر یہ صرف شدت کلام ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحابہ کرام ایک دوسرے کے خلاف تنقید کرنے میں کتنے شدید الفاظ استعمال کرتے تھے۔ حدیث میں آیا ہے: اخْتِلَافُ أُمَّتِي رَحْمَةٌ (المقاصد الحسنہ، حدیث نمبر 39)۔ میں لوگ اختلاف کو انتشار کے معنیٰ میں لے لیتے ہیں۔ اس لیے انھیں اس کی تاویل میں سخت مشکل پیش آتی ہے۔ حتیٰ کہ کچھ لوگ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سند کے اعتبار سے یہ روایت لینے کے قابل نہیں مگر اس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ اس حدیث میں اختلاف کا لفظ انتشار کے معنیٰ میں بلکہ اختلاف رائے (dissent) کے معنیٰ میں ہے۔ اس کا مطلب ہے، ایک رائے کی جگہ دوسری رائے کو دلیل کے ذریعے پیش کرنا ہے، نہ کہ مختلف گروہوں میں بٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جانا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اختلاف رائے کی فضا کا ہونا کسی قوم کے لیے رحمت ہے۔ جس قوم میں اختلاف رائے ہوگا اس کے اندر جمود نہیں ہوگا۔ اگر ان کے اندر کوئی غلطی واقع ہوگی تو وہ بذریعہ تنقید اپنی اصلاح کرتی رہے گی۔ کسی غلط روش کا برقرار رہنا اس کے اندر ناممکن ہو جائے گا۔ اس کے اندر یہ ذہن ہوگا کہ چیزوں کو ان کے جوہر (merit) کی بنیاد پر اہمیت دی جائے، نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ دور میں سائنس کی ترقی اسی اختلاف کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ سائنس دانوں کے درمیان اختلاف رائے اگر ممنوع ہوتا تو کبھی سائنس ترقی نہ کرتی۔
ڈاک سے رسالہ معارف (فروری 1986) ملا۔ اس میں ڈاکٹر محمد حمید اللہ صاحب کا ایک خط اس خط میں وہ لکھتے ہیں:
”گوٹن برگ برگ(فوت1468ھ) کوفن طباعت کا موجد مانا جاتا ہے۔ حال میں مجھے پتہ چلا کہ ویانا (آسٹریا) کے کتب خانہ عام میں ایک ٹکڑا قرآن مجید کا موجود ہے جو گوٹن برگ سے پانچ سو سال قبل سلجوقی دور میں (غالباً مصر میں) چھپا ہے۔ اور یہ تاریخ فرنگی محققوں نے بیان کی ہے۔ کو فوراً خط لکھ کر اس کا فوٹو منگایا۔ واقعی قابل دید اور قابل ذکر چیز ہے۔ میں اسے اپنے فرانسیسی مقالہ ”تاریخ خط عربی“ میں چھاپ رہا ہوں“ (5 جنوری 1986)۔
اس طرح کی کتنی چیزیں ہوں گی جو مسلم عہد میں پیدا ہوئیں مگر آج ان کا کہیں نشان نہیںملتا۔ مسلمانوں کو جب عروج حاصل ہوا تو انہوں نے کہیں بھی قوموں کے نشانات کو نہیں مٹایا۔ کہ انہوں نے یونان کے طریق علاج کو لیا تو اس کا نام ”یونانی علاج“ رکھا، اس کو اسلامی علاج نہیں مگر بعد کے زمانہ میں جب دوسری قوموں کو غلبہ حاصل ہوا تو انہوں نے بے دردی کے ساتھ اسلامی آثار کو مٹایا۔
اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جو لوگ فی الواقع حق کے حامل ہوں ان کے اندر فیاضی کا مزاج ہوتا ہے اور جو لوگ ناحق پر ہوں وہ نسبتاً غیر فیاض ہوجاتے ہیں۔ حق پرست کو اس کی ضرورت محسوس نہیں رہتی کہ وہ دوسروں کو مٹا کر عظمت حاصل کرے۔ جبکہ غیر حق پرستوں کی نفسیات ہوتی ہے کہ دوسروں کو منظر سے ہٹائے بغیر انہیں عظمت حاصل نہیں ہوسکتی۔