28 فروری 1986
Al-Risala, July 2023, pp. 38–41
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر اسرار احمد صاحب (لاہور) فروری 1980ء میں دہلی آئے اور ہمارے یہاں ٹھہرے ۔ میں نے گفتگو کے دوران کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں اقبال کا اندازہ بہت غلط ان کا شعر ہے:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
اگر اقبال کا یہ اندازہ صحیح ہوتا تو اب تک اس ’’مٹی‘‘ کو زرخیز ہو جانا چاہیے۔ کیوں کہ اقبال اور دوسرے اکابر پچھلے سو برس سے اس کو صرف نم ہی نہیں کر رہے ہیں بلکہ اس پر فیض کی موسلا دھار بارش بھی برسارہے ہیں، اس کے باوجود آج تک وہ زرخیز ثابت نہ ہوسکی۔ ڈاکٹر اسرار احمد اقبال کے بہت معتقد ہیں۔ انہوں نے اقبال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اقبال نے یہ بھی تو کہا ہے:
تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف عقیدت مندی حقیقت سے کس قدر بے خبر رہتی ہے، اس کی یہ ایک دلچسپ مثال ہے۔ اقبال کے پہلے شعر کو لیا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ اقبال اپنی قوم کا صحیح اندازہ نہ کر سکے۔ اور اگر ان کے دونوں شعر بیک وقت لیے جائیں تو ان کی شخصیت اور زیادہ مجروح ہوتی ہے۔ کیوں کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اقبال تضاد بیانی کے شکار تھے۔ کبھی کچھ کہتے تھے اور کبھی کچھ۔ جو کلام اقبال کی تضاد فکری کو ثابت کر رہا تھا وہ عقیدت مند کے نزدیک ان کے مشکل ہونے کا ثبوت بن گیا۔ مگر عقیدت کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ جب مسلم قوم کو زرخیز ثابت کرنا چاہے گا تو وہ اقبال کا پہلا شعر پڑھ دے گا۔ اور جب مسلم قوم کو بے گوہر بتانے کی ضرورت ہوگی تو وہ دوسرا شعر پڑھ دے گا۔ حکیم اور مفکر کی تعریف علم کی دنیا میں کچھ اور ہے اور عقیدت مندی کی دنیا میں کچھ اور۔ 1 مارچ، 1986ء ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اسلام کا کافی مطالعہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ سے پوچھا جائے کہ اسلام کا خلاصہ کیا ہے تو آپ کیا کہیں گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے کہا کہ آپ نے بالکل صحیح جواب دیا۔ اب اس کی تفصیل بتائیے۔ نے کہا کہ زندگی کے ہر معاملے میں اور ہر شعبہ میں submission، یہی کامل اسلام ہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے شروع میں صحیح جواب دیا، مگر اس کے بعد آپ منحرف ہو گئے۔ ہے کہ اسلام کی اصل submission ہے، مگر اس سے مراد آپ کا اپنا submission ہے، نہ کہ سیاست اور نظام کا submission۔ اسلام کا اصل مخاطب فرد ہے۔ فرد کو submissive بنانا اصل مگر آپ کی تشریح نے اسلام کو دین کے بجائے سیاست بنا دیا۔
آج جناب انور علی بیگ (لکھنؤ) ملنے کے لیے آئے۔ وہ انجینئر ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اسلامیات میں آپ نے کیا کیا چیزیں پڑھی ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ وہ مولانا مودودی کا بیشتر لٹریچر پڑھ چکے ہیں۔ ’’تفہیم القرآن‘‘ کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ ان کی گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ مولانا مودودی کی فکر سے متاثر ہیں۔ اقبال کی بھی وہ کافی تعریف کر رہے تھے۔ اقبال کو انہوں نے اپنا مینٹر (mentor) بتایا۔
گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ آپ کے صبر کی پالیسی سے کچھ نہیں ہوسکتا۔ احیاء کے لیے ہمیشہ ’’کربلا‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ کربلا کا رزلٹ (نتیجہ) بتائیے کہ اس کے جواب میں وہ لمبی چوڑی تقریر کرتے رہے جو اصل سوال سے غیر متعلق تھی۔ نے انھیں یاد دلایا کہ میں نے آپ سے کربلا کا رزلٹ دریافت کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کربلا کا رزلٹ ہے: پرنسپل (اصول) پر سمجھوتہ نہ کرنا۔ میں نے کہا کہ تاریخ سے یہ رزلٹ ثابت نہیں ہوتا۔ یہ تو محض شاعری ہے کہ ’’سر داد مگر نداددست در دست یزید‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ امام حسین نے آخری لمحہ میں بیعت کی پیشکش کر دی تھی۔ چنانچہ تاریخ میں اس قسم کے الفاظ امام حسین کی طرف منسوب کیے گئے—وَإِمَّا أَنْ أَضَعَ يَدِي فِي يَدِ يَزِيدَ (انساب الاشراف للبلاذری، جلد 3، صفحہ 182)—یعنی، میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں رکھ دوں۔ اس کے جواب میں وہ تاریخ کے غیر معتبر ہونے پر تقریر کرنے لگے۔ میں نے کہا کہ کربلا کے نہ آپ عینی شاہد ہیں اور نہ اقبال۔ ایسی حالت میں ہم کو تاریخ ہی پر تو بھروسہ کرنا پڑے گا۔ یہ ہے کہ بیشتر لوگوں کی بات میں consistancy نہیں ہوتی۔ وہ کبھی کچھ کہتے ہیں اور کبھی کچھ۔ علمی گفتگو اس کا نام ہے کہ آدمی اصل پوائنٹ پر قائم رہ کر بولے، وہ اس سے ادھر اُدھر نہ ہٹےؔ۔ جناب محمد مخدوم صاحب (کشن گنج، دہلی) ملنے کے لیے آئے۔ انھوں نے تبلیغی جماعت میں چلہ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا محمد الیاس صاحب کہا کرتے تھے :
نیچی نظر ، دل میں فکر ، زبان پر ذکر اور قدم ملا کر چلو گے تو منزلیں آسان ہو جائیں گی۔ یہ بہت مومنانہ بات ہے۔ ایمان اللہ کی عظمتوں کے احساس کا نام ہے۔ جو شخص اللہ کی عظمتوں کے احساس سے بوجھل ہو رہا ہو ، اس کی نگاہ جھک جائے گی۔ اس کا دل سوچ میں ڈوب اس کی زبان اللہ کو پکارے گی اور اللہ کو یاد کرنے لگے گی۔ جن لوگوں کے اندر یہ گہرے اوصاف پیدا ہو جائیں وہ اس کے بعد لازمی طور پر متحد ہو جاتے ایسے لوگوں سے انانیت اور سرکشی کا جذبہ چھن جاتا ہے۔ اور جو لوگ انانیت اور سرکشی سے خالی ہو جائیں ان کے باہمی اتحاد میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ جو لوگ اس قسم کے ایمان و یقین سے سرشار ہوں اور پھر وہ باہم مل کر متحد ہو جائیں، ان کے لیے ہر منزل آسان ہے۔ کوئی طاقت ان کو زیر نہیں کر سکتی ، کوئی مشکل ان کو کامیابی تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔