Al-Risala · July 2023

پیغمبر اسلام کا نمونہ

Al-Risala, July 2023, pp. 44–50

By Maulana Wahiduddin Khan

عطاء بن یسار تابعی (وفات 103 ھ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی اور کہا کہ آپ نے تورات کا مطالعہ کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفات تورات میں آئی ہیں ان میں سے کچھ بتائیے۔ عبداللہ بن عمرو نے جو کچھ کہا، اس کا ایک جزء یہ ہے ؀ خدا کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تورات میں بالکل بعض وہی صفات آئی ہیں جو قرآن میں مذکور ہیں۔ جیسے کہ اے نبی! بیشک ہم نے تم کو شاہد اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے (شَاهِداً وَمُبَشِّراً وَنَذِيراً)، اور اُمّی (اَن پڑھ) قوم کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو۔ میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے۔ بداخلاق ہو، نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور و غل مچانے والے (لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ، وَلَا سَخَّابِ فِي الْأَسْوَاقِ)، وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لے گا۔ بلکہ معاف اور درگزر کرے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2125)۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور آپ کے مشن کو جاننے کے لیے یہ ایک اہم اس حدیث سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بنیادی صفات معلوم ہوتی ہیں۔ آپ داعی الی اللہ ہیں، دوسرے، آپ آخری حد تک نو پرابلم پرسن ہیں۔ اس حدیث میں بظاہر رسول کی صفات بیان کی گئی ہیں، مگر وہ ہر انسان کے لیے رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ ہر انسان کو اعلیٰ انسان بننے کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔

حنفی عالم احمد بن اسماعیل الکورانی (وفات 893 ھ) نے اس کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس میں اشارہ ہے کہ آپ دین، انسانیت اور اخلاق کے اعتبار سے کامل تھے (وإشارة إلى أنه كامل ديانة ومروءة، وأخلاقاً) الکوثر الجاری الی ریاض احادیث البخاری، جلد 8، صفحہ 274۔ مذکورہ حدیث میں رسول اللہ کی سب سے پہلی صفت یہ ہے کہ "اے نبی! بیشک ہم نے تم کو شاہد اور بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے"۔ قرآن میں یہ حقیقت دو مقامات

(48:8, پر بیان کی گئی ہے۔ مولانا وحید الدین خاں صاحب اس کے تحت لکھتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ صاحب نے شاہد کا ترجمہ اظہار حق کنندہ (حق کا اظہار کرنے والا) کیا ہے۔ یہی اس لفظ کا صحیح ترین پیغمبر کا اصل کام یہ ہوتا ہے کہ وہ حقیقت کا اعلان و اظہار کر دے۔ وہ واضح طور پر بتا دے کہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں کن لوگوں کے لیے خدا کا انعام ہے۔ ایسے ایک شاہد حق کا کھڑا ہونا اس کے مخاطبین کے لیے سب سے زیادہ سخت امتحان ہوتا ہے۔ ان کو ایک بشر کی آواز میں خدا کی آواز کو سننا ایک عام انسان کو خدا کے نمائندہ کے روپ میں دیکھنا پڑتا ہے۔ ایک انسان کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتے ہوئے یہ سمجھنا پڑتا ہے کہ وہ اپنا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں دے رہے ہیں۔ جو لوگ اس اعلیٰ معرفت کا ثبوت دیں ان کے لیے خدا کے یہاں بہت بڑا اجر ہے (ماخوذ، (ماخوذ،تذکیرالقرآن، 48:8)۔ "اُمی قوم کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے"۔ حفاظت کا مطلب سیاسی حفاظت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہی حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيِهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ (62:2)۔ یعنی، وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول انھیں میں سے اٹھایا، وہ ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے۔ اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اور وہ اس سے پہلے کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔ دوسرے الفاظ میں، تزکیہ، تعلیم اور حکمت کے راستہ سے افرادِ عرب کی تربیت کرنا۔

"میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے" کی شرح ابن حجر نے ان الفاظ میں کی ہے أَيْ عَلَى اللَّهِ لِقَنَاعَتِهِ بِالْيَسِيرِ وَالصَّبْرِ عَلَى مَا كَانَ يَكْرَهُ (یعنی اللہ پر بھروسہ کرنے والے ہیں، کیوں کہ وہ تھوڑی چیز پر قناعت کرتے ہیں، اور ناپسندیدہ چیز کے مقابلے میں صبر کرتے ہیں) فتح الباری، جلد 8، صفحہ 586۔

"تم نہ بداخلاق ہو، نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور و غل مچانے والے"۔ اس کے تحت ایک شارح حدیث لکھتے ہیں کہ وہ نرم رو، شریف النفس ہیں، وہ بداخلاق نہیں کہ لوگوں پر چلائیں، نہ غیر مہذب ہیں کہ بازار میں شور مچائیں، بلکہ لوگوں کے لیے نرم اور خیر خواہ ہیں (هو لين الجانب

شریف النفس لا يرفع الصوت على الناس لسوء خلقه، ولا يكثر الصياح عليهم في السوق لدناءته، بل يلين جانبه لهم ويرفق بهم) شرح الطيبي، جلد 11، صفحہ 3639۔

"وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لے گا"— اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ ایک دوسری حدیث میں اس طرح بیان کی گئی ہے: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ، وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ (مسند احمد، حدیث نمبر 3672)۔ اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا ہے، لیکن برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہے، بیشک برائی برائی کو ختم نہیں کرتی ہے۔ ' اسی لیے قرآن میں کئی مقام پر برائی کو بھلائی سے ختم کرنے کی ترغیب دی گئی مثلاً دیکھیے یہ آیتیں — 41:34 اس حدیث سے جو سبق ملتا ہے، وہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کے الفاظ میں یہ ہے — یہ تمام حقائق اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک با اصول انسان تھے۔ کی شخصیت حالات کے رد عمل کی پیداوار نہ تھی۔ بلکہ اعلیٰ ربانی اصول کی پیداوار تھی۔ آپ کا اعلیٰ اخلاقی صفات کا حامل ہونا، آپ کے اس دعویٰ کے عین مطابق ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ کسی بھی سماج کے لیے اچھے اخلاق اور اعلیٰ کردار کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ افراد کے اندر اچھے اخلاق کا ہونا کسی سماج کو اچھا سماج بناتا ہے۔ اور افراد کے اندر برے اخلاق کا ہونا کسی سماج کو برا سماج بنا دیتا ہے۔ معروف اموی خلیفہ عمر بن عبد العزيز (وفات 101ھ) نے ایک مرتبہ لوگوں کو یہ نصیحت کی تھی: أَيُّهَا النَّاسُ أَصْلِحُوا سَرَائِرَكُمْ تَصْلُحْ عَلَانِيَتُكُمْ (الطبقات الكبرى لابن سعد، جلد 7، یعنی، لوگو، اپنے اندرون کو درست کرو، تمھارا ظاہر درست ہو جائے گا۔ داخلی احساس کا خارجی اظہار ہے۔ داخلی سطح پر ایک انسان جیسا ہوگا، اُس کا اثر اس کے خارجی برتاؤ سے ظاہر ہوگا۔ اعلیٰ اخلاق سے مراد وہ اخلاق ہے جب کہ آدمی دوسروں کے رویے سے بلند ہو کر عمل اس کا طریقہ یہ نہ ہو کہ برائی کرنے والوں کا جواب برائی سے دے اور بھلائی کا جواب بھلائی سے، بلکہ اس کا طریقہ ہر ایک کے ساتھ بھلائی کا ہو۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے جسے آپ کا امتی ہونے کی حیثیت سے ہر مسلمان کو اختیار کرنا چاہیے۔ (مولانا ظفر با احمد)

دعت کا کام کیسے کریں؟

(مسٹر شاہ خالد سی پی ایس مشن کے ایک نوجوان ممبر ہیں۔ انھوں نے روز مرہ کے دعوتی تجربات کی روشنی میں عام لوگوں کے لیے ایک مفید مضمون لکھا ہے۔ یہ گویا اس مہینہ کا خبر نامہ ہے۔ امید ہے کہ اللہ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ دعوت دین کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

سی پی ایس مشن سے وابستہ افراد کے سامنے ہمیشہ دو چیزیں رہتی ہیں۔ پہلے کا تعلق تزکیہ نفس سے یعنی کیسے وہ اپنے وجود کی فکری یا روحانی تطہیر کریں؟ کیسے وہ خود کوڈسٹریکشن سے بچائیں اور کیسے اپنے لیے از دیاد ایمان کا سامان کر سکیں؟ ایک ربانی انسان اس معاملے میں انتہائی حساس ہوتا ہے اور یہ اس کا ہمہ وقتی وظیفہ بن جاتا ہے کہ وہ بار بار اپنا محاسبہ کرے، بار بار رجوع الی اللہ کرے ۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں اپنے عجز و کامل کا اعتراف کرے ۔

اس کے مقابلے میں دوسری چیز کا تعلق دعوت دین سے ہے۔ کوئی انسان جب سچائی کو دریافت کر لیتا ہے تو یہ اس کے لیے کسی ذاتی تجربے کے ہم معنی بن جاتا ہے اور وہ بے تابانہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ جو چیز اس نے پائی ہے دوسرے لوگ بھی اس کو پا سکیں۔ جس درجے میں انسان معرفت خداوندی پاتا ہے اسی درجے میں اس کے اوپر یہ ذمہ داری بڑھتی جاتی ہے کہ وہ سچائی سے دوسرے لوگوں کو آگاہ کرے۔ یہ داعی کا اللہ تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ محبت کا عملی ظہور ہوتا ہے۔ یعنی جو سچائی اس کی زندگی میں ربانی انقلاب کا سبب بنی ہے، اس کو وہ دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کرے۔

لیکن اب ایک عام آدمی کی حیثیت سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم دعوت کا کام کیسے کریں؟ جہاں تک خواص کا تعلق ہے وہ تو اپنے دینی علم کی روشنی میں مختلف طریقوں سے یہ کام کرتے رہتے ہیں۔ ایک عام مسلمان۔ خواہ وہ طالب علم ہو یا ملازمت پیشہ یا تجارت پیشہ ، وغیرہ۔ اپنی دیگر مصروفیات کے ساتھ کیسے دعوت کا کام کرے؟

میرے خیال میں عام مسلمانوں کے لیے دعوتی کام کے درج ذیل طریقے ہو سکتے ہیں۔ طریقوں کو اپنا کر اپنی گھریلو ذمہ داریوں کو متاثر کیے بغیر دعوت کا کام انجام دے سکتے ہیں۔ واٹس ایپ گروپ بنانا: آج کل واٹس ایپ ہر کسی کے موبائل فون میں ہوتا ہے۔ آدمی اپنے سرکل میں (اہل و عیال، فیملی ممبرز، کالج یونیورسٹی فیلوز، کلیگز اور دیگر ملنے جلنے والے، وغیرہ) جن کو وہ seeker سمجھتا

ہو، جو لکھنے پڑھنے سے دلچسپی رکھتے ہوں یا کم از کم اسے یہ اندازہ ہو کہ اس شخص کو گروپ میں ایڈ کرنے پر وہ اعتراض نہیں کرے گا؟ ایسے لوگوں کو لے کر واٹس ایپ گروپس بنانے چاہئیں۔ ان میں روزانہ دو تین پوسٹ جو مرکز کی طرف سے آتی ہیں، وہ شیئر کردی جائیں۔ اسی طرح کوئی شارٹ پوسٹ یا ویڈیو کلپ شام میں بھی مناسب ہے کہ مرد و خواتین کے لیے الگ الگ گروپ بنائے جائیں۔

واٹس ایپ اسٹیٹس اور فیس بک پوسٹ: واٹس ایپ پر روزانہ اسٹیٹس لگائیں اور فیس بک پر روزانہ کم از کم دو پوسٹ ضرور کریں۔ بعض اوقات ایک چھوٹی سی بات بھی کسی کی زندگی کا رخ موڑنے کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔

واٹس ایپ براڈ کاسٹ: یہ واٹس ایپ کا وہ فیچر ہے جس سے آپ بیک وقت سینکڑوں لوگوں کو انفرادی حیثیت سے میسج بھیج سکتے ہیں۔ گروپ کی بنسبت براڈ کاسٹنگ کے ذریعے بھیجے جانے والے میسج کو زیادہ اہمیت ملتی ہے۔ کیوں کہ وہ آپ کے نام سے جاتی ہے اور لوگوں کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ چیز فلاں شخص نے شیئر کی ہے تو ضرور پڑھنے والی ہوگی۔ کوشش کیجیے کہ تحریر مختصر اور معیاری ہو۔ کبھی عام تحریر اس میں شیئر نہیں کرتا، صرف معیاری تحریر ہی شیئر کرتا ہوں۔ گھر کا ماحول: اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم دیا کہ اپنے سب سے قریبی رشتہ داروں کو خبر دار کیجیے (26:214)۔ اس لیے گھر کے افراد کو اپنے دعوتی پیغام سے مانوس کرنا انتہائی ضروری گھر والوں کو اپنے عمل سے یہ اچھی طرح باور کرائیں کہ ہمارا گھرانہ دعوتی گھرانہ ہے اور اس وجہ سے ہم دوسروں سے مختلف ہیں۔ ہم عام لوگوں کی طرح بے مقصدیت، اور ظاہری نمود و نمائش میں زندگی نہیں گزاریں گے۔ اس سے ممکن ہے کہ گھر کے ماحول میں تبدیلی آئے۔ پھر آپ اکیلے نہیں ہوں گے بلکہ آپ کے بیوی بچے بھی آپ کے ہم خیال ہوں گے۔

رشتہ داروں کی لسٹ مرتب کرنا: رشتہ داروں اور جاننے والوں کی باقاعدہ لسٹ مرتب کرنی چاہیے جس میں ان کی تعلیمی استعداد اور دلچسپیوں کو مد نظر رکھ کر انھیں اپنے ماہانہ بجٹ سے کتابیں ہدیہ دی جانی چاہئیں۔ اس طرح کتابوں کا تبادلہ بھی شروع ہوگا۔ تعلقات میں بھی بہتری آئے گی، آپ کے خاندان کا شعوری معیار بلند ہوگا، تہذیبی روایات میں عمدہ ذوق دکھائی دینے لگے گا۔ خاندان کے افراد میں ہم آہنگی پیدا ہوگی اور باہمی ملاقاتوں میں مادی چیزوں کو زیر بحث لانے کے بجائے آپ تعمیری گفتگو کر سکیں گے۔ گھر اور آفس میں لائبریری: گھر اور آفس میں لائبریری ضرور بنائیں۔ اس سے گھر کا ماحول سنجیدہ

بچے بوڑھے جوان اور آنے جانے والے سب اس شجرِ ثمر بار سے استفادہ کر سکیں گے۔ خوشی کے مواقع پر کتاب کا ہدیہ: جب بھی عزیز و اقارب میں کوئی خوشی کا موقع آئے۔ شادی بیاہ ہو، کسی بچے کا رزلٹ اچھا آجائے، کسی کی سالگرہ ہو آپ ایسے مواقع پر کتاب یا کہانیوں کا کوئی سیٹ گفٹ کیجیے اس سے کم از کم پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا۔ کتاب سے شناسائی پیدا ہوگی۔ آج بصارت آگئی تو کل بصیرت بھی پیدا ہو جائے گی۔

بیگ میں دعوتی مٹیریل ضرور رکھیں: یہ وہ مرحلہ ہے جس میں آپ عملی دعوت کا آغاز کرتے ہیں۔ کرام کی دعوت کا منہج ہے کہ وہ فرداً فرداً لوگوں سے ملاقات کر کے انھیں اپنا پیغام پہنچاتے تھے۔ دعوتی مٹیریل بیگ میں رکھ کر آپ جہاں کہیں بھی ہوں، گلی کوچے آفس، پبلک مقامات، بازار، سفر و حضر، خوشی و غم ہر جگہ آپ بطور داعی چل پھر رہے ہوں۔ اس کا اتنا بڑا فائدہ ہے کہ آپ اپنے کام سے جا رہے ہوں گے لیکن آپ محسوس کریں گے کہ میرے اوپر تو دعوت کی ذمہ داری بھی ہے۔ یہ ذمہ داری آدمی کے اندر یہ جذبہ پیدا کردیتی ہے کہ کب اسے کوئی انسان ملے اور وہ اسے کوئی دعوتی کتاب، رسالہ، پمفلٹ یا قرآن ہدیہ کرے۔ دعوت کا مٹيريل بیگ میں رکھنے سے جہاں آپ کے عمل میں بطور داعی اخلاص آئے گا وہاں پر مدعو کی تلاش میں رہنا بھی آپ کی عادتِ ثانیہ بن جائے گی۔ یہاں یہ بات بھی ضروری ہے کہ داعی تمام لوگوں کے ساتھ انتہائی کریمانہ اخلاق سے پیش آئے، خواہ وہ کسی مذہب یا علاقے کا انسان ہو، تاکہ وہ مدعو کا دل جیت سکے۔ چاہے اس کے لیے اسے اپنے حق سے کم پر راضی ہونا پڑے۔ وہ مدعو سے اپنائیت کے ساتھ بات کرے، پھر مختصراً اپنا تعارف کرائے تا کہ دعوۃ لٹریچر یا قرآن پاک ہدیہ کرنے کے لیے ماحول سازگار ہو سکے۔ پبلک مقامات پر دعوۃ مٹیریل رکھنا: جہاں بھی عوامی اجتماع ہو، جیسے کوئی جلسہ، سیمینار یا کانفرنس، وہاں جانا اور دعوتی میٹریل تقسیم کرنا۔ اسی طرح مساجد، اسکولس، کالجز، ہسپتالوں، پارکوں اور ریلوے اسٹیشنز وغیرہ میں دعوتی میٹریل رکھنا۔ واضح رہے کہ کچھ جگہوں پر اسکول یا کالج وغیرہ میں دعوتی کام کو پسندیدہ نظروں سے نہیں دیکھا جاتا ہے، یا حکومتی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا ہے تو ایسی جگہوں پر دعوتی کام سے دور رہنا چاہیے۔

اہل علم کو کتابیں گفٹ کرنا: مثلاً اپنے محلے کی مسجد کے امام کو، اسکول کے استاد، پرنسپل یا دوسرے پڑھے لکھے لوگوں کو کتابیں گفٹ کرنا، وغیرہ۔

مخصوص اجتماع: ہر اسکول، کالج، یونیورسٹی اور مدرسے میں کتاب میلہ، رزلٹ ڈے یا پھر اینول ڈے منایا جاتا ہے۔ اس سے باخبر رہیں اور کوشش کریں کہ دوسرے دوستوں کے ساتھ مل کر وہاں پر دعوت اسٹال ضرور لگائیں۔

کم سے کم دعوت: سوشل میڈیا پر جب کوئی حکمت و معرفت کی بات دیکھیں، اس کو پڑھیں، اور پھر شیئر کریں، یہ نہ دیکھیں کہ کس نے یہ شیئر کی ہے۔ بلکہ یہ دیکھیں کہ جس طرح اس پوسٹ سے آپ کو فائدہ ہوا ہے، آپ کے شیئر کرنے سے کسی اور کو بھی فائدہ ہوگا۔ اس لیے یہ کم سے کم دعوت ہے کہ آپ ہر اچھی بات کو شیئر کریں۔ اسی طرح جو بھی فرینڈ ریکویسٹ آئے اسے ضرور قبول کریں۔ اسٹڈی سرکل: یعنی کتابوں کے مطالعہ کا حلقہ قائم کیجیے۔ اس میں خاص طور پر اپنے خاندان کے لڑکے لڑکیوں کو شامل ہونے کے لیے دعوت دیجیے، تاکہ وہ مباحثے میں آئیں، ان کے شبہات دور ہوں اور وہ یقین کے ساتھ دین پر چلنے والے بنیں۔ اس طرح دیے سے دیا جلے گا۔ کارِ دعوت کے لیے دعائیں: بقول مولا نا وحید الدین خاں صاحب، دعوت کا کام دعاؤں کے سائے میں چلتا ہے۔ ہر نماز میں دعوت کی توفیق اور داعیوں کی نصرت کے لیے اہتمام کے ساتھ دعائیں جب آپ کسی کو کتاب دیں اس کے لیے خصوصی دعا کریں۔ دعا عمل کے لحاظ سے بظاہر ایک چھوٹا عمل لگتا ہے، مگر نتیجے کے اعتبار سے دعا ایک اعلیٰ درجے کا عمل ہے۔ دعا سے آپ کے اندر کے داعی کو مہمیز ملتی ہے۔ داعیانہ ذمہ داریوں کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ بے قراری میں اضافہ ہوتا ہے، اور آپ تڑپ اٹھتے ہیں اور لرزتے ہونٹوں سے آرزو کرتے ہیں کہ خدا یا مجھے توفیق دے کہ میں تمام انسانوں کو تیرے منصوبہ تخلیق سے آگاہ کروں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کی ہدایت کی دعا کرنے سے خدا خصوصی طور پر داعی کی نصرت کے لیے آجاتا ہے۔ (شاہ خالد، پاکستان)

Printed page