جنت کا استحقاق
Al-Risala, January 2023, pp. 26–27
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت بے حد عظیم نعمت ہے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2450)۔ وہ بے حد مہنگی قیمت پر کسی کو ملے گی۔ بہت تھوڑے خوش نصیب لوگ ہوں گے جو جنت کی لطیف دنیا میں بسائے جانے کے قابل ٹھہریں۔ جنت میں داخلہ کا پہلا امتحان یہ ہے کہ آدمی معرفت کے درجہ میں اپنے رب کو افکار و خیالات کے جنگل میں وہ سچائی کو دریافت کرے۔ وہ نہ محسوس ہونے والی جنت کو محسوس وہ ظاہری ہنگاموں سے گزر کر آخرت کی دنیا کا مسافر بن جائے۔
اسی طرح جنت میں داخلہ کی شرط یہ ہے کہ آدمی سرکشی کا اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکا دے۔ خود پرست بننے کے تمام محرکات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ سچا خدا پرست بن کشش اور جاذبیت کے بے شمار مراکز سے منہ موڑ کر وہ ہمہ تن خدا کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اسی طرح جنت میں داخلہ صرف اس شخص کے لیے ممکن ہوگا جو منفی حالات کے درمیان ہمیشہ مثبت ذہن پر قائم رہے۔ جو اپنے سینے میں اٹھنے والے حسد اور گھمنڈ اور انتقام جیسے جذبات کو دفن کر کے یک طرفہ طور پر لوگوں کے لیے شفقت اور خیر خواہی کا پیکر بن جائے۔ جو ظلم اور بے انصافی کے مواقع کو پانے کے باوجود انہیں استعمال نہ کرے اور ہر حال میں اپنے آپ کو عدل و انصاف کا پابند بنا لے۔ جنت ایک نفیس ترین خدائی کالونی ہے۔ اس نفیس کالونی میں صرف وہی روحیں داخل ہوں گی جنھوں نے دنیا کی زندگی میں اپنے اوپر تطہیر کا عمل کر لیا تھا، یعنی تزکیہ کا عمل۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک متعلق آیت یہ ہے : ہے:جَنَّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ جَزَاءُ مَنْ یعنی، ان کے لیے ہمیشہ رہنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بدلہ ہے اس شخص کا جو اپنا تزکیہ کرے۔
موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی حالت امتحان میں پیدا کیا جاتا ہے۔ آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی ذات کی تطہیر کا ایک مسلسل عمل شروع کرے۔ یہاں تک کہ اس کی آلودہ
شخصیت پاک وصاف ہوکر مزکی شخصیت میں بدل جائے۔
جنتی انسان وہ انسان ہے جو کانٹوں کے درمیان پھول بن کر رہے۔ جو اندھیروں کے درمیان روشنی کا مینار بن سکے ۔ جوزلزلوں اور طوفانوں کے درمیان سکون کا راز پالے۔ جو نفرتوں کے درمیان محبت کا ثبوت دے۔ جو لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود یک طرفہ طور پرانہیں معاف جوکھونے میں بھی پانے کا تجربہ کرے۔
جنتی انسان وہ ہے جو بظاہر خدا سے دور ہوتے ہوئے بھی خدا سے قریب ہو گیا ہو۔ کی شعاعوں میں خدا کے نور کو دیکھے۔ جو ہواؤں کے جھونکے میں لمس ربانی کا تجربہ کرے۔ پہاڑوں کی بلندی میں خدا کی عظمت کا تعارف حاصل کرسکے۔ جو دریاؤں کی روانی میں خدا کی رحمت کا جو مخلوقات کے آئینہ میں خالق کا جلوہ دیکھنے لگے۔
خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ یہ بتادیا ہے کہ جنتی انسان کی صفات کیا ہوتی ہیں۔ دنیا کی زندگی میں اپنے اندر جنتی صفات پیدا کریں، وہ موت کے بعد جنت میں داخلہ کے مستحق قرار جنت وہ معیاری دنیا (ideal world) ہے، جہاں پوری انسانی تاریخ کے مزکی افراد آباد کیے جائیں گے۔ یعنی وہ لوگ جو غفلت کی زندگی کو ترک کرکے شعور کی زندگی کو اختیار کریں۔ قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کے حامل ہوں۔ جو اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچائیں جو تقویٰ اور انسانی خیر خواہی سے روکنے والی ہیں۔ مصلحت کی رکاوٹ سامنے آئے تو اس کو نظر انداز کردیں۔ نفس کی خواہش ابھرے تو وہ اس کو کچل دیں۔ ظلم اور گھمنڈ کی نفسیات جاگے تو وہ اس کو اپنے اندر دفن کردیں۔
جنت میں داخلہ نہ کسی سفارش کی بنیاد پر ہوگا، نہ کسی کے ساتھ نسبت کی بنیاد پر اور نہ کسی پراسرار عملیات کی بنیاد پر۔ جنت میں داخلہ پوری طرح معلوم حقیقت پر مبنی ہے۔ اور وہ یہ کہ جو آدمی موجودہ دنیا میں اپنے قول و عمل کے اعتبار سے جنتی انسان بن کر رہے گا، وہ آخرت کی جنت میں داخلہ پائے گا۔