Al-Risala · September 2023

اسم اعظم کی دعا

Al-Risala, September 2023, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کی کتابوں میں اسم اعظم کے ذریعے کی جانے والی دعا کا بہت بڑا درجہ بتایا گیا ہے۔ اس کے متعلق رسول خدا نے یہ خبر دی ہے کہ وہ ضرور مقبول ہوتی ہے (سنن الترمذی، حدیث نمبر احادیث میں مذکور اسم اعظم سے مراد معروف معنوں میں ”اسم“ نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد وہی چیز ہے، جس کو پوائنٹ آف ریفرنس کہا جاتا ہے۔ مثلاً ایک بندہ دعا بناکرتا ہے، اور یہ کہتا ہے تو نے مجھے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے (ص، 38:75)۔ اب کیا تیری رحمت کا تقاضا ہوگا کہ تو مجھے آگ میں ڈال دے۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ میرے گناہوں کو معاف فرما۔ میں تیری رحمت کے حوالے سے یہ دعا کرتا ہوں کہ فیصلے کے دن تو مجھ کو جنت میں داخل فرما۔ اسم اعظم کے ساتھ دعاکرنے کے مطلب یہ ہے کہ کسی ایسے حوالے کے ساتھ دعا کرنا، جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke) کرنے والا ہو۔ ایسی دعا، جس میں بندہ اپنی غلطی کا آخری حد تک اعتراف کرے، اسی کے ساتھ اللہ کی رحمت کا آخری حد تک طلب گار بن جائے۔ ایسی دعا جو اپنے کسی عمل کے واسطہ کو ذریعہ بنا کر اللہ سے دعا نہ کی گئی ہو، بلکہ اللہ کی رحمت بے پایاں کو واسطہ بنا کر اپنے جائز مدعا کو پیش کیا گیا ہو۔

اسم اعظم کی دعا وہ ہے، جو اللہ رب العالمین کی صفت کو حوالہ کر دعا کی گئی ہو۔ ایسی دعا کے لیے ضروری ہے کہ آدمی پورے معنوں میں عاجز بن جائے۔ جو اللہ کی کمال قدرت کے مقابلے میں اپنے کامل عجز کا نمونہ ہو۔ اس قسم کی دعا بلا شبہ اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنا ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اسم اعظم کے حوالے سے دعا کرنے کی توفیق پائیں۔ اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنے کا مطلب ہے اللہ رب العالمین کی صفت کے ساتھ طالب دعا ہونا۔ جب آدمی اللہ رب العالمین کی صفت کو شعوری طور پر دریافت کرے، اور اس کے حوالے سے اللہ سے اس کی رحمت کا طالب بنے تو ایسی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔

Printed page