Al-Risala · September 2023

بعد حین

Al-Risala, September 2023, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: ثَلَاثٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمُ، الإِمَامُ العَادِلُ، وَالصَّائِمُ حِينَ يُفْطِرُ، وَدَعْوَةُ المَظْلُومِ يَرْفَعُهَا فَوْقَ الغَمَامِ، وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ: وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ (جامع الترمذی، حدیث نمبر یعنی تین لوگوں کی دعا رد نہیں کی جاتی۔ عادل امام، روزہ دار جب کہ وہ افطار کرے، اور مظلوم کی دعا۔ وہ اس کو بادلوں کے اوپر اٹھاتا ہے، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری عزت کی قسم! میں ضرور تمہاری مدد کروں گا اگر چہ کچھ عرصے کے بعد کروں۔

اس حدیث رسول سے دعا کی قبولیت کا اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ دعا خواہ بالکل درست ہو، مگر اس کی قبولیت میں ہمیشہ وقت لگتا ہے۔ کسی فرد کی دعا جب قبول کی جاتی ہے، تو وہ صرف ایک دعا کا معاملہ نہیں ہوتا ہے۔ اللہ رب العالمین پورے عالم کو پنچ (manage) کر رہا ہے۔ کوئی ایک دعا جب بھی قبول کی جاتی ہے تو وہ اس وقت اپنی تکمیل کو پہنچتی ہے جب کہ تمام متعلق تقاضے پورے ہو چکے ہوں۔ مثلاً اللہ رب العالمین کا یہ فیصلہ تھا کہ مکہ میں رسول اللہ بعثت کے بارے میں پیغمبر ابراہیم کی دعا قبول کی جائے (البقرۃ، 2: 129)۔ لیکن اس دعا کی قبولیت میں وقت لگا۔ پیغمبر اسلام کا ظہور عملاً دعا کے تقریباً ڈھائی ہزار سال بعد پیش آیا۔ کیوں کہ یہ ضروری تھا کہ اس سے پہلے تمام متعلق تقاضے پورے ہو چکے ہوں۔ تاریخ کے بڑے بڑے واقعات ہمیشہ اسی طرح لمبی مدت کے بعد ظہور میں بڑی بڑی دعاؤں کے لیے پوری انسانی تاریخ کو پنچ کرنا پڑتا ہے۔

ایسی حالت میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی خوب دعائیں کرے، لیکن دعا کی قبولیت کے معاملے کو وہ اللہ کے حوالے کر دے۔ اگر بظاہر کسی آدمی کی دعا کی قبولیت میں دیری ہو رہی ہے تو اس کو یقین کرنا چاہیے کہ اللہ اس کے لیے کچھ بہتر کرنا چاہتا ہے۔ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کسی بندے کے لیے خیر کیا ہے انسان صرف اپنی خواہشوں کو جانتا ہے، نہ یہ کہ اس کے لیے خیر کس چیز میں ہے۔

Printed page