عقل کی اہمیت
Al-Risala, September 2023, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
وہب بن منبہ (34-114 ہجری) مشہور تابعی ہیں۔ ان کا شمار اسلام کے ابتدائی مورخین اور قدیم آسمانی کتابوں کے عالموں میں ہوتا ہے۔ ان کا ایک قول ان الفاظ میں آیا ہے: مَا عَبَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِشَيْءٍ أَفْضَلَ مِنَ الْعَقْلِ (العقل وفضله لابن ابی الدنیا، اثر نمبر (21)۔ یعنی اللہ کی عبادت کا سب سے بہتر ذریعہ عقل ہے۔ یہاں عقل سے مراد شعور ہے۔ یعنی سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ انسان کو سچائی کی شعوری دریافت ہو، اور وہ شعور کی سطح پر اللہ کی عبادت کرے۔ ایک عبادت وہ ہے کہ آدمی ایک فارم کا اپنے آپ کو عادی بنالے، اور اس فارم کو دہرا کر اللہ کی عبادت کرے۔ یہ فارم کی سطح پر اللہ کی عبادت کرنا ہے۔ مبنی بر فارم عبادت بھی عبادت کا ایک لیکن زیادہ بڑی عبادت یہ ہے کہ آدمی قرآن اور سنت کی تعلیمات پر غور کرے۔ وہ شعور کی سطح پر اللہ رب العالمین کو دریافت کرے۔ پھر شعوری دریافت کی سطح پر اللہ کے وجود پر یقین کرے، اور اس کا عبادت گزار بن جائے۔
جب آدمی فارم کی سطح پر عبادت کرتا ہے، تو وہ ایک ایسی عبادت ہوتی ہے، جو اس کے شعور کو اس کا شعور الگ ہوتا ہے، اور اس کی عبادت الگ۔ مگر جو عبادت دریافت کی سطح پر ادا کی جائے، وہ انسان کے پورے وجود کا اظہار بن جاتی ہے۔ فارم کی عبادت میں عبادت الگ ہوتی ہے، اور انسان کی شخصیت الگ۔ لیکن جو عبادت شعوری دریافت کے تحت کی جائے، وہ عبادت فرشتوں کے درجے کی عبادت ہوتی ہے۔ ایسی عبادت میں انسان کا احساس انسان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ انسان بظاہر اعضا و جوارح (body organs) کا مجموعہ ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ انسان کی شخصیت شعوری دریافت کے نتیجہ میں بنتی ہے۔ ایسی عبادت میں انسان کی ہستی اور اس کا شعور دونوں ایک ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ عبادت ہے، جب کہ انسان خدا کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ وہ عبادت ہے جس کے لیے قرآن میں واسجد واقترب کے الفاظ آئے ہیں (96:19)۔ یعنی، سجدہ کر اور خدا سے قریب ہو جا۔