غلط فہمی
Al-Risala, January 2023, pp. 28–33
By Maulana Wahiduddin Khan
مفسر ابن کثیر (وفات 1373ء) نے سورہ بنی اسرائیل (آیت (110) کے تحت ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: أَنَّ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِكِينَ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: يَا رَحْمَنُ يَا رَحِيمُ، فَقَالَ: إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ يَدْعُو وَاحِدًا وَ هُوَ يَدْعُو اثْنَيْنِ (تفسیر ابن کثیر ، جلد 5 صفحہ (117)۔ یعنی ، مشرکین میں سے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ سجدہ میں کہہ رہے تھے کہ اے رحمن، اے رحیم۔ مشرک شخص نے یہ سن کر کہا کہ یہ شخص سمجھتا ہے کہ وہ ایک خدا کی دعوت دینے والا ہے، حالاں کہ وہ دو خداؤں کو پکار رہا تھا۔ یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح بہت سی شکایتیں اور اعتراضات محض آدمی کی اپنی کم فہمی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خدا کو اس کی کئی صفتوں کے ساتھ پکار رہے تھے۔ کیوں کہ خدا اگرچہ ایک ہے مگر اس کی صفتیں بے شمار ہیں۔ مذکورہ اعرابی نے صفات میں تعدد کو وجود میں تعدد کے ہم معنی سمجھ لیا اور اس طرح ایک موحد انسان کے بارے میں غلط طور پر یہ رائے قائم کرلی کہ وہ بھی اسی کی طرح مشرک ہے۔ انسان ایک بے حد پیچیدہ مخلوق ہے اس کی زندگی کے لاتعداد پہلو ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے بارے میں رائے قائم کرنا بے حد دشوار کام ہوتا ہے۔ اس میں 50 فی صد سے زیادہ غلط فہمی کا امکان ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ دوسرے شخص کے بارے میں رائے قائم کرنے میں وہ نہایت محتاط ہو۔ خوش گمانی قائم کرنے میں آدمی اگر غیر محتاط ہو تو کوئی حرج نہیں۔ مگر بدگمانی قائم کرنا ہو تو آدمی کے لیے لازم ہے کہ وہ بے حد سنجیدہ ہو، وہ آخری حد تک احتیاط سے کام لے۔ پیغمبر اسلام کی زندگی میں اس اصول کی ایک مثال یہ ہے کہ خلافت کے لیے آپ اپنے بعد حضرت ابوبکر صدیق کو سب سے زیادہ اہل سمجھتے تھے۔ مگر آپ نے کبھی اپنی زبان سے اس کا صراحتاً اظہار نہیں فرمایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کو یقین تھا کہ آپ کے بعد آپ کے اصحاب خود ہی اس مطلوب فیصلہ تک پہنچ جائیں گے۔ حضرت ابو بکر صدیق کی موجودگی میں وہ کسی اور کو اپنا امیر یا خلیفہ
فہمیں بنائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد جب امارت کا سوال پیدا ہوا تو صحابہ نے تقریباً اتفاق رائے سے حضرت ابوبکر صدیق کو اپنا خلیفہ چن لیا۔
مگر تاریخ بتاتی ہے کہ اس نظیر کے باوجود خلیفہ اول نے اس معاملہ میں اجتہاد سے کام لیا۔ اپنے بعد خلیفہ دوم کے معاملہ کو انھوں نے عمومی انتخاب کے اوپر فہمیں چھوڑا۔ بلکہ صراحت کے ساتھ حضرت عمر فاروق کو اس منصب کے لیے نامزد فرمایا۔
اس کا سبب یہ تھا کہ لوگوں کو حضرت عمر فاروق کے بارے میں ایک سخت قسم کی غلط فہمی تھی۔ حضرت عمر فاروق کے مزاج میں شدت تھی۔ لوگ حضرت عمر فاروق کے اخلاص اور قربانی کے معترف مگر ان کو یہ اندیشہ تھا کہ ایک ایسا آدمی خلافت کے نازک منصب کے لیے موزوں نہیں جس کے اندر شدت اور تنقید کا مزاج پایا جائے۔ حضرت عمر فاروق کے بارے میں لوگوں کی اسی غلط نہی کی بنا پر خلیفہ اول کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر انہوں نے خود سے عمر فاروق کو نامزد نہیں کیا تو آپ کے بعد مسلمان شاید ان کو اپنا امیر بنانے پر اتفاق نہ کر سکیں گے اور اس طرح عین وہی شخص مسلمانوں کا امیر بننے سے رہ جائے گا جو اپنی خصوصی اہلیت کی بنا پر مسلمانوں کی پوری جماعت میں امیر یا خلیفہ بننے کا سب سے زیادہ اہل ہے۔
مگر یہ غلط نہی سراسر بے بنیاد تھی۔ اصل حقیقت برعکس طور پر یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق ان انتہائی نادر انسانوں میں سے تھے جن کو تاریخ ساز انسان کہا جاتا ہے۔ مگر اس غیر معمولی صفت کے باوجود بظاہر یہ ممکن نظر نہیں آتا تھا کہ خلیفہ دوم کے منصب کے لیے لوگ ان کے نام پر متفق ہو جائیں یہی اندیشہ تھا جس کی بنا پر خلیفہ اول کو اس معاملہ میں پیشگی نظیر کے باوجود اجتہاد کرنا پڑا۔ انھوں نے ذاتی مداخلت کرتے ہوئے عمر فاروق کو اپنے بعد خلافت کے لیے نامزد کر دیا۔ خلافت کے تعلق سے حضرت عمر فاروق کے بارے میں لوگوں کی یہ رائے درست نہ تھی۔ عمر فاروق بے اصول پسند انسان تھے۔ وہ حق کے معاملہ میں مصالحت کو گوارہ نہیں کرتے تھے۔ چیز نے ان کے مزاج میں شدت پیدا کر دی تھی۔ وہ جب بھی کسی کو کوئی غلط بات کہتے ہوئے یا غلط کام کرتے ہوئے دیکھتے تو وہ اس پر سخت تنبیہ و تنقید کرتے۔ وہ جس چیز کو حق سمجھتے اس کے اعلان میں وہ
کبھی کسی کی رعایت فہمیں کرتے تھے۔ اس بنا پر لوگ ان سے دور رہنے لگے۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدا عمر پر رحم کرے، وہ حق کہتے ہیں اگرچہ وہ کڑوا ہو، ان کا سر مایہ حق ہے، اور ان کا کوئی دوست فہمیں (رَحِمَ اللّٰہُ عُمَرَ، يَقُوْلُ الْحَقَّ وَاِنْ کَانَ مُرًّا، تَرَکَہُ الْحَقَّ وَ مَالَہُ صَدِیْقٌ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 3714۔
مگر حضرت عمر فاروق کی شدت صرف ناحق کے خلاف ہوتی تھی، نہ کہ کسی انسان کے خلاف۔ عین اس وقت بھی انسان کے خلاف نفرت سے خالی ہوتے جب کہ وہ اس کی تنبیہ کر رہے ہوتے تھے۔ ان کے دل میں عین اس وقت بھی انسان کے لیے خیر خواہی کا جذبہ ہوتا تھا جب کہ بظاہر وہ اس کے خلاف غصہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ ان کی ہر سختی میں ایک نرمی چھپی ہوتی تھی۔ ان کی ہر تنقید کے پیچھے محبت کا جذبہ کارفرما ہوتا تھا۔
عام لوگ اس نازک فرق کو نہ سمجھ سکے۔ اس لیے افہمیں حضرت عمر فاروق کے بارے میں سخت غلط فہمی پیداہوگئی تاہم جولوگ زیادہ باشعور تھے وہ اس راز کو سمجھتے تھے۔ چنانچہ جب حضرت ابوبکر نے حضرت عثمان سے حضرت عمر کے بارے میں پوچھا تو حضرت عثمان نے ان کے بارے میں کہا کہ ان کا اندر ان کے باہر سے بہتر ہے، اور ہمارے درمیان ان کے جیسا کوئی فہمیں ہے (سَرِیْرَتُہٗ خَیْرٌ مِنْ عَلَانِیَتِہٖ وَ اَنَّہٗ لَیْسَ فِیْنَا مِثْلُہٗ)۔ اسی طرح حضرت ابوبکر نے لوگوں کی شکایات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمر پر جب خلافت کی ذمہ داری آئے گی تو وہ اپنے آپ نرم ہو جائیں گے (الکامل فی التاریخ لابن الاثیر، جلد 2، صفحہ 425)۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلط نہی کتنی خطرناک چیز ہے۔ غلط نہی کی بنا پر آدمی ایک شخص کے بارے میں بالکل الٹی رائے قائم کرلیتا ہے۔ حالاں کہ وہ شخص اس غلط رائے سے بالکل پاک ہوتا ہے۔ اس قسم کی منفی رائے غلط نہی میں مبتلا ہونے والے کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے۔ باہر کی دنیا میں سرے سے اس کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ یہ غلط نہی بلاشبہ ایک سنگین قسم کا اخلاقی جرم ہر آدمی پر لازم ہے کہ اس جرم سے اپنے آپ کو بچائے۔
غلط فہمی سے بچنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری تدبیر یہ ہے کہ آدمی محض سن کر کسی بات پر یقین نہ کرے۔ سنی ہوئی بات اکثر غلط ہوتی ہے۔ کسی معاملہ کی صحیح رپورٹ دینا بے حد مشکل کےم ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ کم ہوتے ہیں جو کسی واقعہ کو ٹھیک ویسا ہی بیان کریں جیسا کہ وہ ہے۔ ایک آدمی کے دل میں دوسرے آدمی کے خلاف غلط فہمی پیدا ہوجائے تو فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ غلط فہمی میں مبتلا ہونے والا شخص اس آدمی سے ملے اور خود صاحب معاملہ سے تحقیق کرے۔ راست تحقیق کے بغیر کسی کے بارے میں بری رائے قائم کرنا سخت گناہ ہے۔
جو آدمی غلط فہمی میں مبتلا ہو اس کے اوپر یہ فرض ہے کہ اس نے جس طرح کسی کے بارے میں ایک بری رائے قائم کی ہے اسی طرح وضاحت کے بعد وہ اس بری رائے کو اپنے دماغ سے نکالے اور اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ذہن کی اصلاح کرلے۔ جس آدمی کے اندر غلطی کے اعتراف کا مادہ نہ ہو اس کے لیے یہ بھی جائز نہیں کہ وہ کسی کے بارے میں غلط رائے کو اپنے ذہن میں
تجربہ بتاتا ہے کہ غلط فہمی اکثر حالات میں بے بنیاد ہوتی ہے۔ آدمی یک طرفہ رپورٹ یا ناقص معلومات کی بنیاد پر ایک بری رائے قائم کرلیتا ہے۔ حالانکہ اگر کھلے ذہن کے ساتھ تحقیق کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہاں سرے سے ایسی کوئی چیز موجود ہی نہ تھی۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ یا تو اتنا باشعور بنے کہ وہ باتوں کو گہرائی کے ساتھ سمجھ لے، اس کا ذہن اپنے آپ ہی غلط فہمی کو اپنے اندر جگہ دینے سے انکار کردے۔ اور اگر کوئی آدمی اتنا زیادہ باشعور نہ ہو تو انسانیت کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ وہ غلط فہمی میں پڑنے سے پہلے براہِ راست طور پر اس کی مکمل تحقیق وہ اس وقت تک ہرگز کسی بات کو نہ مانے جب تک وہ تحقیق کی تمام شرطوں کے ساتھ اس کا جائزہ نہ لے چکا ہو۔
تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو ہر بری بات کو سنتے ہی اسے مان لیں۔ ایسے لوگ بلاشبہ اسلام سے دور ہیں۔ خواہ بطور خود وہ اپنے آپ کو اسلام کا اعلیٰ معیار پر سمجھتے ہوں۔ غلط فہمی دراصل ناقص معلومات کی بنیاد پر کامل رائے قائم کرنے کا دوسرا نام ہے۔
اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کسی کے بارے میں ایک جزئی بات سنتا ہے اور اس سے اس آدمی کی کلی تصویر بنا لیتا ہے۔ کبھی کسی کا قول اس کے سیاق سے الگ ہو کر سامنے آتا ہے اور پورے سیاق کی روشنی میں دیکھے بغیر ایک ایسی رائے قائم کرلی جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق فہمیں کبھی کسی آدمی کے ایک ظاہری پہلو کو دیکھ کر اس کے باطن کے بارے میں ایک نظریہ بنا لیا جاتا ہے۔ کبھی کسی سنی ہوئی بات کو ٹھیک ویسا ہی مان لیا جاتا ہے حالانکہ مختلف راویوں سے گزر کروہ بات آخر کار ایک ایسی شکل اختیار کر لیتی ہے جس کا اصل واقعہ سے کوئی تعلق فہمیں ہوتا۔ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے علم میں ایک بات آتی ہے اور وہ خود ساختہ تعبیر کے ذریعہ اس کا ایک مفہوم متعین کر لیتا ہے حالانکہ یہ تعبیر اصل حقیقت کے بالکل خلاف ہوتی ہے۔
اس قسم کی مختلف صورتیں ہیں جو غلط فہمی کا سبب بنتی ہیں۔ غلط فہمی کا یہ معاملہ اتنا زیادہ وسیع ہے کہ انتہائی صالح افراد بھی اس کی زد سے مستثنیٰ نہیں۔ اکثر ایسا ہوا ہے کہ لوگوں نے کسی کے خلاف انتہائی بھیانک قسم کی رائے قائم کر لی۔ حالانکہ اس کے پیچھے بے بنیاد غلط نہی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ ایسی حالت میں غلط نہی کے گناہ سے بچنے کی واحد صورت یہ ہے کہ آدمی کسی کے خلاف رائے قائم کرنے میں سخت محتاط ہو۔ وہ مکمل تحقیق کے بغیر کبھی ایسی کوئی رائے قائم نہ کرے ۔ چاہیے کہ وہ یا تو سرے سے کسی کے بارے میں کوئی رائے ہی قائم نہ کرے اور اگر رائے قائم کرنا ضروری ہو تو اس کی تحقیق کا حق ادا کرے۔ رائے قائم نہ کرنے پر کسی کی کوئی پکڑ نہیں۔ قائم کرتے ہی آدمی خدا کی پکڑ کی زد میں آجاتا ہے۔ رائے قائم نہ کرنے والا معذور قرار دیا جا سکتا مگر مخالفانہ رائے قائم کرتے ہی اس کا عذر ختم ہو جاتا ہے۔ اب اس کا معاملہ یہ ہو جاتا ہے کہ یا تو وہ دوسرے کے بارے میں اپنی مخالفانہ رائے کو دلیل سے ثابت کرے ، یا خود اسی چیز کا مجرم بنے جس کا الزام وہ بے بنیاد طور پر دوسرے کو دینا چاہتا تھا۔
غلط فہمی یابدگمانی کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ بے حد ذمہ داری کی بات ہے۔ اگر آپ کسی کے خلاف برا گمان کرلیں تو آپ اپنے کو اس خطرہ میں مبتلا کر رہے ہیں کہ اگر فریق ثانی برا نہ ہو تو خدا کی
نظر میں آپ خود اسی برائی کے ذمہ دار قرار پائیں، جس کا ذمہ دار آپ دوسرے کو سمجھے ہوئے تھے۔ ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَا يَرْمِي رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفُسُوقِ وَلَا يَرْمِيْهِ بِالْكُفْرِ إِلَّا اِرْتَدَّتْ عَلَيْهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6045)۔ یعنی جب کوئی شخص کسی کے اوپر فسق کا الزام لگائے یا اس کے اوپر کفر کا الزام لگائے تو اس کا الزام خود اسی کی طرف لوٹ آئے گا اگر دوسرا شخص ویسا نہ ہو۔ بے بنیاد غلط فہمی بھی بلاشبہ ایک الزام کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ کسی کے بارے میں ایک ایسی غلط فہمی میں مبتلا ہونا ہے جو باعتبار واقعہ درست نہیں۔ ایسی حالت میں غلط فہمی یا بدگمانی سے بچنا خود اپنے فائدے کے لیے ضروری ہو جاتا ہے۔ وہ آدمی کا خود اپنا مسئلہ بن جاتا ہے۔ کیونکہ فریق ثانی میں اگر وہ برائی نہ ہو تو خود بدگمانی کرنے والا اس کا مجرم قرار پائے گا۔
یہ حدیث رسول بے حد سنگین ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی غلط فہمی یا بدگمانی کے معاملہ میں آخری حد تک سنجیدہ ہو جائے۔ غلط فہمی اگر سادہ نوعیت کی ہو، مثلاً آپ کسی کے بارے میں یہ رائے قائم کریں کہ وہ جلد غصہ میں آ جاتا ہے تو اس میں اس کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں۔ لیکن اگر کسی کے بارے میں غلط فہمی کی بنا پر ایسی سنگین رائے قائم کر لی جائے جو اخلاقی یا شرعی جرم کی حیثیت رکھتی ہو تو ایسی صورت میں معاملہ بے حد سنگین ہو جائے گا۔ ایسی سنگین غلط فہمی گویا دو دھاری تلوار ہے، وہ اگر فریق ثانی کو نہ کاٹے تو خود آپ کی ہلاکت کا سبب بن جائے گی۔
ہر آدمی کو جاننا چاہیے کہ وہ جو کچھ رائے قائم کرتا ہے اپنی معلومات کے دائرہ میں کرتا ہے۔ اب چونکہ حقائق کا دائرہ کسی شخص کی ذاتی معلومات سے بہت زیادہ وسیع ہے، اس لیے ہر وقت یہ امکان ہے کہ اپنی معلومات کے دائرہ میں وہ ایک رائے کو صحیح سمجھ لے۔ حالانکہ وسیع تر حقائق کے اعتبار سے اس کی رائے صحیح نہ ہو۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ جب دوسرے کے بارے میں رائے قائم کرنا ہو تو خوش گمانی کے معاملہ میں وہ حد درجہ فیاض بن جائے اور بدگمانی کے معاملہ میں حد درجہ بخیل۔ یہی عقل کا تقاضا بھی ہے اور یہی خدا کے خوف کا تقاضا بھی۔