Al-Risala · September 2023

تکرار

Al-Risala, September 2023, pp. 13–23

By Maulana Wahiduddin Khan

’’گیتان جلی“ رابندر ناتھ ٹیگور (1861-1941ء) کی مشہور کتاب ہے۔ اس کتاب کے انگریزی ترجمہ پر ان کو نوبل انعام ملا تھا۔ یہ کتاب اصلاً بنگلہ زبان میں لکھی گئی تھی، اس کے بعد اس کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوا۔ اس کی ایک نظم (نمبر 38) کا ابتدائی مصرعہ یہ ہے : That I want thee, only thee—let my heart repeat without end. میں تجھ کو چاہتا ہوں، صرف تجھ کو اور کسی کو نہیں، میرے دل کو اس کی تکرار بے انتہا کرنے دے۔ کسی چیز سے جب آدمی کا تعلق دل چسپی اور محبت کے درجہ کا ہو جائے تو وہاں تکرار (repetition) کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ پھر اس کی ہر تکرار آدمی کو نیا لطف دیتی ہے۔ اس کی تکرار سے آدمی کبھی نہیں اکتاتا۔ اس کی ایک عام مثال سگرٹ ہے۔ آدمی سگرٹ کو بار بار پیتا ہے اور روزانہ پیتا رہتا ہے۔ مگر اس کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ وہ ایک چیز کی تکرار کر رہا ہے۔ حالاں کہ اسی شخص کو اگر کوئی غیر مرغوب چیز دی جائے تو چند بار کے استعمال کے بعد وہ اس سے اکتا جائے گا اور اس کو تکرار کہہ کر چھوڑ دے گا۔

میں نے کئی بار ایسے نوجوان دیکھے ہیں جنھوں نے ابھی کوئی پکچر (movie) دیکھی تھی۔ اگر چہ ان میں سے ہر ایک اس پکچر (movie) کو دیکھے ہوئے تھا مگر وہ اس کی کہانی اور اس کے مکالمے اس طرح ایک دوسرے کو سنا رہے تھے جیسے کہ وہ کوئی نئی بات کہہ رہے ہوں اور سننے والے اس کو اس طرح سن رہے تھے جیسے وہ بالکل نئی بات سن رہے ہوں۔ پکچر (movie) کے ساتھ ان کی بڑھی ہوئی دل چسپی نے ان کے لیے تکرار کا تصور حذف کر دیا تھا۔

جب کسی کے سامنے کوئی بات کہی جائے اور وہ اس کو ”تکرار“ کہہ کر بے لطف ہونے لگے تو سمجھ لیجیے کہ یہ بات اس کی زندگی میں دل چسپی بن کر داخل نہیں ہوئی ہے۔ اگر وہ اس کے لیے حقیقی دل چسپی کی چیز ہوتی تو اس کی ہر تکرار اس کو نیا لطف دیتی، نہ یہ کہ وہ اس کو بے لطف بنا دے۔

شرح مشکوۃ المصابیح ( حدیث نمبر 85-72 )

عبداللہ بن جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان اس سے مایوس ہو چکا ہے کہ جزیرہ عرب میں نمازی لوگ اس کی پرستش کریں۔ لیکن وہ ان کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے سے مایوس نہیں (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2812)۔

رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے جو انقلاب آیا اس نے مذہبی بت پرستی کو اتنا زیادہ بے بنیاد ثابت کر دیا کہ اب اس قسم کی مشرکانہ روش میں نہ سماجی عزت کا پہلو باقی رہا اور نہ مادی مفاد کا۔ اس لیے امت کے بعد کی نسلوں میں گمراہی کھلی بت پرستی کے راستے سے نہیں آئے گی۔ بلکہ وہ نفس پرستی اور مفاد پرستی کے راستے سے آئے گی۔ اس دوسری گمراہی کا اظہار اس طرح ہو گا کہ لوگ ذاتی مصلحتوں کے لیے آپس میں ایک دوسرے سے لڑیں گے۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا کہ میں اپنے دل میں ایسی بات پاتا ہوں کہ زبان سے اس کو بولنے سے زیادہ مجھ کو پسند ہے کہ میں جل کر کوئلہ ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا کہ اس خدا کا شکر جس نے اس طرح کے معاملہ کو وسوسہ قرار دیا (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 5112)۔

موجودہ دنیا میں آدمی فتنوں اور آزمائشوں کے درمیان جیتا ہے۔ اس لیے کوئی آدمی اس سے نہیں بچ سکتا کہ اس کے دل میں غلط قسم کے خیالات آئیں۔ لیکن انسان کی پکڑ بولے ہوئے قول اور کیے ہوئے عمل پر ہے، دل کے اندر گزرے ہوئے خیالات پر نہیں۔

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انسان کے اوپر ایک اثر شیطان کا ہے اور ایک اثر فرشتے کا۔ پس شیطان کا اثر تو شر سے ڈرانا اور حق کو جھٹلانا اور فرشتے کا اثر نیکی پر ابھارنا اور حق کی تصدیق کرنا ہے۔ پس جو آدمی اس کو پائے تو اس کو جاننا چاہیے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اور پھر وہ اللہ کا شکر ادا کرے۔ اور جو شخص دوسری کیفیت اپنے اندر پائے تو وہ شیطان کے مقابلے میں اللہ سے پناہ مانگے۔ پھر آپ نے قرآن (2:268) کی یہ آیت پڑھی: اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ ( شیطان تم کو محتاجی سے ڈراتا ہے اور بری بات کی تلقین کرتا ہے) سنن الترمذی، حدیث نمبر 2988۔

انسان کے اندر دو مختلف قسم کے محرکات کی خبر اس لیے دی گئی ہے تا کہ جب وہ اپنی زندگی میں ان میں سے کسی کی علامت دیکھے تو وہ اس کی حقیقت کو پہچان لے۔ ایک علامت پر وہ شیطان سے بچنے کی کوشش کرے اور دوسری علامت پر وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس سے قریب ہو جائے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ پوچھ گچھ کرتے رہیں گے یہاں تک کہ کہا جائے گا کہ مخلوق کو خدا نے پیدا کیا تو خدا کو کس نے پیدا کیا۔ پھر جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو: اَللّٰهُ اَحَدٌ۔ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ۔ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ (اللہ ایک ہے۔ بے نیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ کسی کی اولاد۔ اور کوئی اس کے برابر کا نہیں)۔ اپنے بائیں طرف تین بار تھُتکارے، اور شیطان کے مقابلے میں اللہ کی پناہ مانگے (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر 4722)۔

یہ حدیث موجودہ دور میں پیدا ہونے والی عقلیت پسندی کی پیشین گوئی ہے۔ مگر اس میں یہ بھی بتا دیا گیا کہ اس قسم کا سوال خود وقت کے عقلی نقطہ نظر سے سراسر بے بنیاد ہوگا۔ خدا کا وجود اتنا زیادہ واضح ہے کہ وہ جس طرح پچھلے زمانے میں ثابت شدہ تھا اسی طرح وہ بعد کے زمانے میں بھی ہے۔

اس بحث کے ضمن میں یہ سوال بالکل غیر متعلق ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا۔ خدا اگر پیدا کرنے سے وجود میں آئے تو وہ کائنات کو پیدا کرنے والا نہیں بن سکتا۔ خدا اپنے آپ میں موجود ہے اسی لیے وہ اس کائنات کو وجود میں لاسکا۔ کائنات کی موجودگی خدا کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ اگر ہم خدا کے وجود کا انکار کریں تو ہمیں کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ چونکہ ہم کائنات کے وجود کا اقرار کرنے پر مجبور ہیں اس لیے ہم خدا کے وجود کا اقرار کرنے پر بھی مجبور ہیں۔

اس معاملے میں خود عقلی سائنس کی رو سے کوئی دوسرا انتخاب ہمارے لیے سرے سے ممکن جدید سائنس نے کائنات کے ظہور کے بارے میں جو حقائق دریافت کیے ہیں اس کے بعد اب انسان کے لیے انتخاب (choice) بے خدا کائنات اور باخدا کائنات کے درمیان نہیں ہے۔ بلکہ باخدا کائنات اور غیر موجود کائنات کے درمیان ہے۔ اگر ہم خدا کے وجود کو نہ مانیں تو ہمیں کائنات کے وجود کا بھی انکار کرنا پڑے گا۔ چونکہ ہم کائنات کے وجود کا انکار نہیں کرسکتے اس لیے ہم خدا کے وجود کا بھی انکار نہیں کرسکتے۔ جدید سائنسی دریافتوں کے بعد خدا کے وجود کو ماننا اتنا ہی لازمی بن چکا ہے جتنا کہ کائنات کے وجود کو ماننا۔ (تفصیل کے لیے راقم الحروف کی کتابوں کو دیکھیے: مذہب اور جدید چیلنج، خدا کی دریافت، وغیرہ)

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ برابر سوال کرتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ وہ کہیں گے کہ اگر خدا نے تمام چیزوں کو پیدا کیا ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا۔ یہ بخاری کی روایت ہے۔ اور مسلم کی روایت میں اس طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہاری امت کے لوگ برابر کہتے رہیں گے۔ یہ کیا اور یہ کیا۔ یہاں تک کہ وہ کہیں گے کہ خدا نے مخلوقات کو پیدا کیا تو خدا کو کس نے پیدا کیا (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 7296؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 136)۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں جب عقلی بحثوں کا زور بڑھے گا تو خود

امت مسلمہ کے لوگ بھی ذہنی طور پر اس سے متاثر ہو جائیں گے۔ اور وہ بھی وقت کی بولی بولنے لگیں اس زمانے میں اس قسم کی گمراہی کا مقابلہ کرنے کے لیے جو فکری جدوجہد دوسرے لوگوں پر کی وہی خود امت کی فکری اصلاح کے لیے بھی ضروری ہوگی۔

عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول شیطان میرے اور میری نماز اور میری قرآت کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور مجھ پر نماز میں شبہ ڈالتا ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ شیطان ہے جس کو خنزب کہا جاتا ہے۔ پس جب تم اس کو محسوس کرو تو تم اس سے اللہ کی پناہ مانگو۔ اور اپنے بائیں طرف تین بار تھُتکارو۔ پس میں نے ایسے ہی کیا تو اللہ نے اس کو مجھ سے دور کر دیا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 68)۔

اس حدیث میں جو مخصوص طریقہ بتایا گیا ہے اس کی حیثیت اضافی ہے۔ اس کا اصل مدعا یہ ہے کہ جب بھی کسی آدمی کو یہ محسوس ہو کہ شیطان اس کو خدا کی یاد سے ہٹا رہا ہے تو وہ فوراً تعوذ کے کلمات زبان سے ادا کر کے شیطان سے پناہ مانگے۔ یہ گویا اپنے آپ کو غفلت سے نکال کر شعور کی حالت میں لانا ہے۔ یہ خدا کی مدد سے شیطان کے اوپر قابو پانا ہے۔ قرآن میں رہنمائی کی گئی ہے: جو لوگ ڈر رکھتے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی بُرا خیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فوراً (اللہ کو) یاد کرتے ہیں اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آجاتی ہے (7:201)۔

قاسم بن محمد تابعی سے ایک آدمی نے سوال کیا۔ اس نے کہا کہ مجھے اپنی نماز میں وہم پیش آتا اور یہ مجھ پر بہت گراں گزرتا ہے۔ انھوں نے اس آدمی سے کہا کہ تم اپنی نماز جاری رکھو۔ کیوں کہ یہ چیز تم سے جانے والی نہیں، یہاں تک کہ تم اپنی نماز پوری کرو اور کہو کہ میں نے اپنی نماز پوری نہیں کی (موطا امام مالک، حدیث نمبر 3)۔

اس معاملے کا تعلق جس طرح نماز سے ہے اسی طرح اس کا تعلق دوسرے دینی اعمال سے بھی اس دنیا میں یہ مطلوب نہیں کہ آدمی کا احساس یہ ہو کہ میں نے معیاری عمل کر لیا۔

برعکس، آدمی کا احساس یہ ہونا چاہیے کہ مجھ سے معیاری عمل نہ ہوسکا۔ اپنے عمل کو کامل سمجھنا، منافقت کی علامت ہے، اور اپنے عمل کو ناقص سمجھنا اخلاص کی علامت۔

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے مخلوق کی تقدیروں کو لکھ دیا ہے، زمین و آسمان کی پیدائش سے پچاس ہزار سال پہلے۔ آپ نے فرمایا کہ اس وقت اللہ کا تخت پانی کے اوپر تھا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 16)۔

یہاں تقدیر سے مراد منصوبہ الہی ہے۔ خدا کی پیدا کی ہوئی زمین میں پہلے پانی کا دور آیا، اس کے بعد سطح زمین پر زندگی کا دور شروع ہوا۔ ہزاروں سال پہلے تقدیر کو لکھنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا نے پیشگی طور پر اُس کورس کو متعین کر دیا جس کے تحت انسانی قافلے کو اپنا سفر کرنا تھا۔ اور اس فطری قانون کو طے فرما دیا جس کے دائرے میں ہر فرد کو اپنا عمل انجام دینا تھا۔ جدید سائنس کی روشنی میں جب ہم اِس معاملے پر غور کرتے ہیں تو تقدیر کا ایک اہم سراغ (clue) ڈی این اے (DNA) کی شکل میں ملتا ہے۔ جدید سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ ہر انسان کا ڈی این اے اس کی شخصیت کا مکمل انسائیکلوپیڈیا ہے۔ ہر انسان کے ڈی این اے میں اس کی شخصیت کی تمام خصوصیات کوڈ کی شکل میں درج ہیں، جن کی مسلسل طور پر ڈی کوڈنگ (de-coding) ہوتی رہتی آدمی کے بیشتر عادات و افعال اِسِی ڈی این اے کے زیر اثر واقع ہوتے ہیں۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر چیز مقرر اندازہ پر ہے، یہاں تک کہ عاجزی اور دانش مندی بھی (صحیح مسلم، حدیث نمبر 18)۔

انسانوں کی صلاحیتیں یکساں نہیں۔ اس دنیا میں ہر انسان کو الگ الگ استعداد کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ دنیا کے نظام کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ایسے لوگ بھی درکار ہیں جو جسمانی طاقت میں زیادہ ہوں اور ایسے لوگ بھی جن کے اندر ذہنی طاقت زیادہ پائی جائے ۔ یہ مقدرات ہیں، اور وہ اس لیے ہیں تا کہ اس دنیا میں زندگی کا نظام مجموعی طور پر کامیابی کے ساتھ چلتا رہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم اور موسیٰ نے اپنے رب کے سامنے حجت کی تو آدم اس بحث میں موسیٰ پر غالب آگئے۔ موسیٰ نے کہا کیا آپ وہ آدم ہیں جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی۔ اور اپنے فرشتوں سے آپ کو اور آپ کو اپنی جنت میں ٹھهرايا۔ پھر آپ نے اپنی لغزش کی وجہ سے لوگوں کو نیچے آدم نے کہا کہ آپ وہ موسیٰ ہیں جس کو اللہ نے اپنی پیغمبری کے لیے اور اپنی ہم کلامی کے اور آپ کو تختیاں دیں، جس میں ہر چیز کا بیان ہے۔ اور آپ کو ہم کلامی کے ذریعے قربت کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ نے میری پیدائش سے کتنے عرصہ پہلے تو راۃ کو لکھ دیا تھا؟ کہا کہ چالیس سال پہلے۔ آدم نے کہا کہ کیا آپ نے اس میں لکھا ہوا پایا کہ آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی، پھر وہ راستہ سے دور ہوگئے (ط، 12:121)۔ موسیٰ نے کہا کہ ہاں۔ آدم نے کہا کہ کیا آپ مجھے ایک ایسے فعل کی ملامت کرتے ہیں، جو اللہ نے لکھ دیا تھا کہ میں اس کو کروں، اور یہ میری پیدائش سے چالیس سال پہلے ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر آدم موسیٰ پر غالب آگئے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2652)۔

انسان آزاد ہے یا مجبور۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے۔ اس حدیث کا مطلب انسان کو یہ بتانا ہے کہ وہ دو چیزوں کے درمیان ہے۔ ایک تقدیر الہی، اور دوسرے ذاتی اختیار ۔ انسان ایک اعتبار سے آزاد ہے، اور دوسرے اعتبار سے وہ مجبور ہے۔ اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہر عورت اور مرد آزادانہ طور پر اپنا کام کرتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ بار بار محسوس کرتے ہیں کہ ان کی ذات کے باہر بھی کچھ طاقتیں ہیں جن کو نظر انداز کر کے وہ اس دنیا میں اپنا کام نہیں کر سکتے۔ یہ دو طرفہ تقاضے کیا ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ایک ہے خود انسان کی شخصیت، اور دوسری چیز ہے وہ حالات جن کے درمیان کسی آدمی کو اپنا کام کرنا پڑتا ہے۔ ان حالات کو فطرت کا قائم کیا ہوا انفراسٹرکچر (infrastructure) کہا جاسکتا ہے۔ جہاں تک انسان کی ذات کا تعلق ہے وہ پوری طرح آزاد ہے۔ انسان کو اختیار ہے کہ وہ جس طرح چاہے سوچے، وہ جو بات چاہے بولے، جس رخ پر چاہے اپنی زندگی کا سفر طے کرے ۔ اس اعتبار سے انسان مکمل طور پر آزاد ہے۔

دوسری چیز وہ ہے جس کو انفراسٹرکچر کہا جا سکتا ہے۔ یہ انفراسٹرکچر مکمل طور پر فطرت کا قائم کیا ہوا ہے۔ یہ انفراسٹرکچر دنیا میں اپنے آپ قائم ہے۔ انسان کو یہ طاقت حاصل نہیں کہ وہ اس انفراسٹرکچر کو بدل ڈالے یا اس کو نظر انداز کر کے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔ مثال کے طور پر ایک انسان زمین پر چلتا ہے۔ یہ چلنا انسان کی اپنی آزادی کا معاملہ ہے۔ لیکن اس چلنے کے لیے ضرورت ہے کہ آدمی کے قدموں کے نیچے ایک زمین ہو۔ اس زمین کے اندر قوتِ کشش ہو، اور پھر انسان کے اوپر ہوا کا دباؤ ہو، وغیرہ۔ یہ چیزیں خارجی انفراسٹرکچر کی حیثیت رکھتی ہیں، اور اس خارجی انفراسٹرکچر کے بغیر چلنے کا عمل ممکن نہیں، نہ کسی عورت کے لئے اور نہ کسی مرد یہی معاملہ دوسری ان تمام چیزوں کا ہے جن کے درمیان انسان اپنا عمل کرتا ہے۔ اسی طرح انسان سانس لیتا ہے۔ سانس لینا یا نہ لینا انسان کے اپنے اختیار کی بات ہے۔ درست طور پر سانس لینے کے لیے ضروری ہے کہ باہر کی دنیا میں آکسیجن کی سپلائی کا نظام موجود ہو۔ آکسیجن کی مسلسل سپلائی کے بغیر کوئی آدمی سانس نہیں لے سکتا۔ جب کہ سانس کے بغیر انسان کے لئے اس دنیا میں زندہ رہنا ممکن نہیں۔

یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان دو طرفہ تقاضوں کے درمیان ہے۔ اعتبار سے وہ آزاد ہے، اور دوسرے اعتبار سے وہ مجبور ہے۔ اپنے ارادے کے استعمال کے اعتبار سے وہ پوری طرح آزاد ہے۔ لیکن اس اعتبار سے وہ مجبور ہے کہ اپنے ارادے کا آزادانہ استعمال وہ خالق کے مقرر کیے ہوئے انفراسٹرکچر کے بغیر نہیں کر سکتا۔ جبر و اختیار کی اس درمیانی صورتِ حال کو علم العقائد میں وَسَطِیَّہ کہا جاتا ہے۔ یہی وسطیہ کا نظریہ اس معاملے میں صحیح نظریہ ہے۔ آدمی اگر صرف پہلی چیز کو یاد رکھے تو اس کے اندر بے عملی پیدا ہوگی۔ اور اگر وہ صرف دوسری چیز کو یاد رکھے تو اس کے اندر غیر حقیقت پسندانہ اعتماد پیدا ہوگا۔ متوازن شخصیت کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کی نگاہ دونوں حقیقتوں کے اوپر یکساں طور پر رہے۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا اور آپ صادق و مصدوق ہیں۔ تم میں سے ہر ایک کا وجود اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک

نطفہ کی صورت میں رہتا ہے۔ پھر وہ اتنے ہی دنوں تک علقہ کی صورت میں رہتا ہے ۔ پھر وہ اتنے ہی دنوں تک گوشت کے ٹکڑے کی صورت میں رہتا ہے، پھر اللہ ایک فرشتہ کو چار باتوں کے ساتھ بھیجتا پھر وہ لکھتا ہے اس کا کام اور اس کی موت اور اس کا رزق اور یہ کہ وہ شقی ہے یا سعید۔ کے اندر روح پھونکی جاتی ہے۔ پس اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم میں سے ایک شخص اہل جنت والا کام کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔ پھر تقدیر کا لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے۔ پھر وہ اہل دوزخ کا کام کرتا ہے۔ وہ دوزخ میں جا گرتا ہے۔ اسی طرح تم میں کا ایک شخص دوزخیوں کا عمل کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہتا ہے۔ پھر تقدیر کا لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے۔ اور وہ اہل جنت کا عمل کرتا ہے پھر وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے (متفق علیہ صحیح البخاری، حدیث نمبر 3208 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1)۔

اس حدیث میں ایک مثال کی صورت میں فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے۔ اور وہ یہ کہ آدمی کے انجام کا دارومدار اس کے آخری عمل پر ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اگر اس کو نیک عمل کی توفیق مل رہی ہے تو وہ اس پر گھمنڈ کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو۔ عین ممکن ہے کہ بعد کو پیش آنے والی کسی آزمائش میں وہ پورا نہ اترے اور اس کی زندگی کا رخ بدل جائے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص برائی میں مبتلا ہو تو لوگوں کو اس سے نفرت نہیں کرنا چاہیے۔ کیا معلوم اس پر کوئی ایسا تجربہ گزرے جو اس کی اصلاح کر دے اور اس کی زندگی کا رخ برائی سے نیکی کی طرف مڑ جائے۔

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بندہ اہل دوزخ کا عمل کرتا ہے۔ حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے ۔ اور ایک بندہ اہل جنت کا عمل کرتا حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے ۔ اور اعمال کا اعتبار آخری عمل پر ہے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 6607 ، صحیح مسلم، حدیث نمبر (112)۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے انجام کا فیصلہ خصوصی امتحان کے وقت ہوتا ہے۔ روایت کنڈیشننگ (conditioning) کے اصول سے اور بھی واضح ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ ایک

حدیث میں آیا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا لازمی طور پر اپنے ماحول سے متاثر ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ ماحول کا پروڈکٹ بن جاتا ہے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ ایسی حالت میں ایمان قبول کرنا، اس کے ذہن کے لیے ایک ایسی حقیقت کو قبول کرنا ہے جو اس کے لیے بالکل نئی ہے۔ ہمیشہ یہ اندیشہ رہتا ہے کہ آدمی نئی چیز کو متاثر ذہن (conditioned mind) کے ساتھ دیکھے، اور اس کو درست طور پر سمجھ نہ سکے۔ ایسی حالت میں ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایمان لانے سے پہلے پیشگی طور پر ایک کام کرے۔ یعنی اپنے ذہن کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) تا کہ وہ ایمان و معرفت کے آئٹم کو کھلے ذہن کے ساتھ دیکھے، اور بے آمیز صورت میں اس کو لے سکے۔ گویا تطهیر ذہن (purification of the mind) کا معاملہ ہے۔ اس تطهیر (purification) کے بغیر کوئی بھی شخص ایمان کو حقیقی طور پر نہیں پا سکتا۔ اس کے بغیر اگر وہ ایمان قبول کرتا ہے تو اس کا ایمان، قرآن کے مطابق، داخل القلب ایمان (49:14) نہ ہوگا، بلکہ وہ ایمان لپ سروس (lip service) کے طور پر ہوگا، اور لپ سروس والا ایمان اللہ کے یہاں معتبر نہیں۔ ایک آدمی بظاہر اچھا عمل کرتا ہے مگر کنڈیشننگ کی وجہ سے اس کے دل میں کھوٹ رہتا امتحان کے وقت یہ کھوٹ سامنے آجاتا ہے۔ اور وہ اس کو برے انجام کا مستحق بنا دیتا ہے۔ طرح ایک آدمی بظاہر برا عمل کرتا ہے مگر اس کے دل کے اندر سچائی کی تلاش کا جذبہ موجود ہوتا ہے، پھر کوئی واقعہ پیش آتا ہے اس کے بعد یہ چنگاری بھڑک اٹھتی ہے اور اس کی زندگی برائی سے ہٹ کر نیکی کے رخ پر چلنے لگتی ہے۔ اس طرح ایک بظاہر برا شخص متلاشی حق ہونے کی بنا پر آخر میں جنتی بن جاتا ہے۔ اور اس کے برعکس ایک بظاہر اچھا شخص اپنی کنڈیشنگ کی وجہ سے ابدی طور پر نا کام لوگوں کی فہرست میں شامل ہو جاتا ہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک انصاری بچہ کے جنازہ میں بلایا میں نے کہا: اے خدا کے رسول، اسے خوش خبری ہو کہ وہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے جس نے نہ تو گناہ کیا اور نہ گناہ کا وقت پایا۔ آپ نے کہا: اے عائشہ، اس کے سوا بھی ہوسکتا ہے۔ نے کچھ جنت والے پیدا کیے جنھیں ان کے باپ کی پیٹھوں میں جنت کے لیے بنایا۔ کچھ آگ والے

پیدا کیے جنھیں ان کے باپ کی پیٹھوں میں دوزخ کے لیے بنایا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2662)۔ اس حدیث میں غالباً اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جنت میں داخلہ کا تعلق عمر سے یا کسی اور نسبت سے نہیں ہے۔ جنت ایک بے قیمتی جگہ ہے۔ قرآن کے مطابق ، جنت وہ جگہ ہے جہاں تاریخ انسانی کی ربانی شخصیات سچائی کی دنیا میں ابدی جگہ پائیں گے (54:55)۔ جنت خدا کے پڑوس (66:11) میں رہنے کا نام ہے۔ اس میں داخلہ کا استحقاق کسی کو صرف اللہ رب العالمین کی رحمت سے ملے گا۔ کوئی اور چیز آدمی کے لیے جنت کی قیمت نہیں بن سکتی۔

علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانا لکھا جا چکا ہے، یا جہنم میں یا جنت میں۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم اپنے لکھے ہوئے پر بھروسہ کر لیں اور عمل کرنا چھوڑ دیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ عمل کرتے رہو۔ ہر شخص کے لیے اُسی کو آسان کیا جائے گا جس طرف وہ بڑھے گا۔ چنانچہ جو شخص حق کا متلاشی ہو اس کو حق کے راستہ کی توفیق دی جاتی ہے۔ اور جو آدمی اہلِ شقاوت میں سے ہو تو اس کے لیے ضلالت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے قرآن کی سورہ اللیل سے یہ آیتیں تلاوت فرمائی — پس جس نے مال خرچ کیا اور تقویٰ کا طریقہ اختیار کیا۔ اور اس نے بھلائی کو سچ تو اس کو ہم آسان راستہ کے لیے سہولت دیں گے۔ اور جس نے بخل کیا اور بے پروا رہا۔ بھلائی کو جھٹلایا۔ تو ہم اس کو مشکل راستہ کے لیے سہولت دیں گے (متفق علیہ، صحیح البخاری، حدیث نمبر 1362 ؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2039)۔

” آسان راستہ “ یعنی فطری راستہ یا جنت کا راستہ۔ ” مشکل راستہ “ یعنی ابدی ناکامی کا قرآن کی سورہ اللیل کی مذکورہ آیتوں کی روشنی میں اس حدیث کی تشریح کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جنت یا جہنم کسی کو اتفاقی اسباب سے نہیں ملتی۔ جس آدمی کے اندر سعادت کی چنگاری ہو، یعنی جو سچائی کا متلاشی ہو، اس کو اللہ تعالیٰ قبولیت دے کر اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ اور جس کے اندر شقاوت کا مرض ہو اس کو ایسے راستے کی طرف ڈھیل دے دی جاتی ہے جو جہنم کی طرف جانے والا ہو۔

Printed page