ڈائری 1986
Al-Risala, September 2023, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
آج کل میرے یہاں دہلی کے دو انگریزی اخبار روزانہ آتے ہیں۔ ایک ہندوستان ٹائمس اور دوسرا ٹائمس آف انڈیا۔ ٹائمس آف انڈیا میں صفحہ 8 پر ہر روز کسی کا قول نقل کیا جاتا ہے۔ اشاعت (4 مارچ 1986) میں ولیم لا (William Law) کا یہ قول نقل کیا گیا تھا برائی کا آغاز ہمیشہ گھمنڈ سے ہوتا ہے اور اس کا خاتمہ ہمیشہ تواضع سے:
Evil can have no beginning, but from pride, nor any end but from humility. اس کو پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ اسلام (بالفاظ دیگر سچا مذہب) آفاقی صداقتوں کا ہی آسمانی زبان میں اظہار ہے۔ جو آدمی ایک کو جانتا ہو اس کے لیے دوسرے کا سمجھنا آسان ہو جائے مثلاً ولیم لا نے اپنے مذکورہ مقولہ میں جو بات نفسیات کی زبان میں کہی ہے وہی حدیث میں مذہبی زبان میں اس طرح بیان کی گئی ہے: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ (مسند احمد، حدیث نمبر 4310)۔ یعنی، وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے برابر بھی تکبر ہو۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ فخر و غرور سب سے بڑی برائی ہے اور انکساری اور تواضع سب سے بڑی اسی سے تمام دوسری چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ دنیا کی ترقی اور آخرت کی نجات دونوں کا انحصار اسی پر یہاں میں اضافہ کروں گا کہ غرور یا تواضع کا صحیح پتہ عام حالات میں نہیں چلتا۔ اس کا صحیح پتہ اس وقت چلتا ہے جب کہ آدمی کے ساتھ غیر معمولی حالات پیش آئیں۔ جب آدمی کی انا پر چوٹ پڑے اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ وہ متکبر تھا یا نہیں۔ اور جب حق کی خاطر دوسرے کے آگے جھکنے کی ضرورت پیش آئے اس وقت اندازہ ہوگا کہ آدمی متواضع تھا یا وہ تواضع کا جھوٹا لبادہ اوڑھے ہوئے تھا۔ میری لڑکی فریدہ خانم آج جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری میں گئی تھی۔ واپس آکر اس نے بتایا
کہ میں لائبریری کے ریڈنگ روم میں بیٹھ کر کچھ پڑھ رہی تھی، مگر پڑھنا مشکل ہوگیا۔ میں پڑھتی جاتی تھی مگر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قریب کی میز پر ایک لڑکی چند لڑکوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ لوگ بلند آواز سے باتیں کر رہے تھے۔ خاص طور پر لڑکی کا یہ حال تھا کہ مسلسل زور زور سے بول رہی تھی اور قہقہے لگا رہی تھی۔ اس کی وجہ سے ریڈنگ روم میں سکون کا ماحول بالکل ختم ہوگیا تھا۔
یہ واقعہ سن کر مجھے وہ بات یاد آئی جو ایک سیاح نے لکھی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ میں امریکا وہاں ایک لائبریری میں بھی گیا اور اس کے ریڈنگ روم میں کچھ دیر بیٹھا۔ وہاں ریڈنگ روم میں نوجوان لڑکیاں آتی جاتی تھیں، مگر وہ حد درجہ محتاط تھیں۔ وہ چلنے میں اس کا بھی لحاظ کرتی تھیں کہ ان کے کپڑوں کی سرسراہٹ سے خلل نہ ہو۔ اسی طرح جو لڑکے اورلڑکیاں میزوں پر جھکے ہوئے مطالعہ کر رہے تھے وہ مطلق کوئی گفتگو نہیں کرتے تھے۔ حتیٰ کہ جب انہیں اپنی زیر مطالعہ کتاب کا ورق الٹنا ہوتا تھا تو اس کو بھی نہایت آہستگی سے الٹتے تھے تاکہ کاغذ کی کھڑکھڑاہٹ نہ پیدا ہو۔ ریڈنگ روم کا ہر شخص حد درجہ اس کا خیال کر رہا تھا کہ اس کا کوئی فعل دوسرے لوگوں کے لیے خلل اندازی کا باعث نہ ہو۔ کتنا فرق ہے ایک انسان میں اور دوسرے انسان میں۔ کتنا فرق ہے ایک معاشرے میں اور دوسرے معاشرے میں۔