7مارچ1986
Al-Risala, September 2023, pp. 25–28
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن مجید میں ہے: وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ (188: اور اگر میں غیب کو جانتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کرلیتا۔
یہ بہت بامعنی الفاظ ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا کے فوائد کا بہت گہرا تعلق غیب سے اکثر ناپسندیدہ حالات صرف اس لیے پیش آتے ہیں کہ آدمی پیشگی طور پر ان کا اندازہ نہ کر سکا تھا۔ بعض اوقات آدمی غیر متوقع طور پر انتہائی شدید حالات میں گھر جاتا ہے۔ وہ اس سے اتنا زیادہ پریشان ہوتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ حوصلہ کھودے گا۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ناخوش گوار صورت حال اکثر اس سے بہت کم ناخوش گوار ہوتی ہے جتنا آدمی اس کے بارے میں سمجھ لیتا ہے۔
آدمی پر جب کوئی افتاد پیش آتی ہے تو پریشانی میں وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ ایک بھیانک مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حتی کہ بعض لوگ آنے والے قیاسی خطرات سے گھبرا کر خودکشی کر لیتے ہیں یا کم از کم اپنی صحت برباد کر لیتے ہیں۔ مگر میرا تجربہ یہ ہے کہ اس طرح کے مواقع پر عموماً ایسا ہوتا ہے کہ مستقبل اس سے کم خطر ناک نکلتا ہے جیسا کہ آدمی نے متاثر ذہن کے تحت اس کو سمجھ لیا تھا۔ جب کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مشکل میں ایک آسانی نکل آتی ہے۔ کھونا اپنے انجام کے اعتبار سے پانا بن جاتا ہے۔ 8 مارچ 1986 آج میری کتاب ’’پیغمبرِ انقلاب‘‘ کا انگریزی ترجمہ پہلی بار چھپ کر آیا۔ اس کا نام ہے: Mohammad: The Prophet of Revolution (Presently available as The Life of Muhammad)
میں نے اس کو دیکھا تو اللہ کا شکر ادا کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ صرف اللہ کا فضل خاص ہے کہ اسلامی مرکز کا کام اس طرح چل رہا ہے اور آگے بڑھ رہا ہے۔ ورنہ میرے اپنے بس میں تو کچھ بھی نہ تھا۔
غالباً 1970ء کی بات ہے۔ مجھے یہ خیال آیا کہ میں اپنی بعض کتابوں کا انگریزی ترجمہ شائع اس سلسلے میں مختلف مترجمین سے رابطہ کیا۔ مگر کوئی مجھے پسند نہ آسکا۔ آخر کار معلوم ہوا کہ اردو سے انگریزی زبان میں ترجمہ کرنے کے لیے سب سے بہتر شخص ڈاکٹر آصف قَدْوائی ہیں۔ علی میاں اور دوسرے حضرات کی دینی کتابوں کا ترجمہ کر رہے تھے۔ اس طرح اس میدان کا خصوصی تجربہ رکھتے تھے۔ میں نے ان کو خط لکھا۔ ان کا چند سطور کا جواب آیا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ میرے پاس ترجمے کے لیے اتنے کام جمع ہیں کہ اگر میں مزید 15 سال زندہ رہوں تو صرف موجودہ کتابوں کے ترجموں کو مکمل کر پاوں گا۔ جب کہ مزید کتابوں کی آمد بدستور جاری ہے۔
بظاہر ایسا محسوس ہوا کہ مجھے یہ خوش قسمتی کبھی حاصل نہ ہوگی کہ میری کوئی کتاب انگریزی میں عمدہ زبان میں شائع ہو۔ مگر اس کے بعد حالات میں تبدیلی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انگریزی کے لیے ایسے اعلی انتظامات فراہم کر دیے کہ یقین کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پیغمبرِ انقلاب جیسی عمدہ انگریزی
زبان میں ترجمہ ہو کر چھپی ہے ویسی عمدہ انگریزی زبان میں ابھی تک کسی بھی اسلامی ادارے کی کوئی کتاب شائع نہ ہوسکی ۔ الحمد للہ علی ذلک ۔
آج ہندستان ٹائمس کے سنڈے میگزین میں ایک کتاب پر تبصرہ شائع ہوا ہے : The Viceroys of India by Mark Bence-Jones, pp. 343, 1982 یہ کتاب ہندستان کے برٹش راج کا تفصیلی ریکارڈ ہے۔ ہندستان میں برٹش راج 175 سال تک اس مدت میں کل 29 گورنر جنرل (وائسرائے) مقرر ہوئے۔ پہلے برٹش گورنر جنرل وارن ہیسٹنگز (Warren Hastings, 1732-1818) تھے جو 1774ء میں کلکتہ آئے اور آخری برٹش وائسرائے لوئی ماؤنٹ بیٹن (Louis Mountbatten, 1900-1979) تھے جو جون 1948ء میں شاندار الوداعی پارٹی کے بعد دہلی سے واپس ہو کر انگلستان گئے۔ انگریزوں نے ایک طرف قومی شعور کا زبردست ثبوت دیا۔ اپنے مرکز سے غیر معمولی دوری کی بنا پر ہر وائسرائے کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ بغاوت کرکے ہندستان میں اپنی آزاد حکومت قائم کر مگر 29 وائسرائے میں سے کسی نے بھی اس قسم کا باغیانہ منصوبہ نہیں بنایا۔ مگر یہی لوگ جو آپس میں لڑنے کو حد درجہ غلط سمجھتے تھے انہوں نے ہندستان میں اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کا جو سب سے بڑا راز دریافت کیا وہ یہ تھا : "لڑاؤ اور حکومت کرو" (Divide and Rule) ۔ لارڈ ڈفرن (Lord Dufferin, 1826-1902) نے 1885ء میں ہندو مسلم جھگڑے اس کے بعد وہ بڑھتے ہی رہے۔ انگریزی حکومت 1947ء میں ختم ہو گئی ، مگر ہندو مسلم جھگڑے آج بھی ختم ہوتے ہوئے نظر نہیں آ رہے ہیں ۔ شاید ہمالیہ کی سرزمین فرقہ وارانہ جھگڑوں کے لیے بہت زرخیز ہے۔
تقریباً روزانہ میری نیند فجر سے پہلے کھل جاتی ہے۔ ابھی میں بستر ہی پر ہوتا ہوں کہ دل سے دعا کے کلمات نکلنے لگتے ہیں، اور یہ بالکل بے ساختہ طور پر ہوتا ہے۔ یہ گویا قرآن کے الفاظ "وَعَلى
جنُوبُھمْ “ (3:191) ایک تجربہ ہوتا ہے، اور یہ روزانہ مجھ پر گزرتا ہے۔ یعنی، اور وہ اپنے پہلوؤں پر لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں۔
آج فجر سے پہلے نیند کھلی۔ میں ابھی بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ کمرہ میں، میں بالکل تنہا تھا اور کمرہ میں مگر دل سے مسلسل دعائیں نکلنے لگیں، بالکل ویسے ہی جیسے کسی مادہ سے اس کی فطری خاصیت اپنے آپ ظاہر ہو۔ خدایا مجھے بخش دے، خدایا مجھ پر رحم فرما، خدایا تو دنیا و آخرت میں میرا مددگار ہوجا۔ میں ان دعاؤں میں مشغول تھا کہ اچانک مجھے خیال آیا کہ دعا کا کائنات کا ایک انوکھا مظہر ہے۔ جس طرح مادہ سے ایک خاصیت کا ظاہر ہونا، اس مادہ کے اندر ایک متعین خاصیت کی موجودگی کا ثبوت ہوتا ہے، اسی طرح انسان کے اندر دعا کا نکلنا خدا کی موجودگی کا قطعی اور یقینی ثبوت ہے۔ دعا کیا ہے؟ دعا ایک ہستی کو دیکھے بغیر پکارنا ہے۔ ایک ہستی جو آس پاس کہیں نظر نہ آرہی ہو، اس سے اس طرح ہم کلام ہونا جیسے کہ وہ ہمارے بالکل قریب موجود ہے۔ اس طرح انسان کسی اور کو نہیں پکارتا۔ نہ اپنے دوستوں کو، نہ کسی حکمران کو، نہ سورج اور چاند کو۔ کسی کی غیر موجودگی میں اس کو پکارنا اور اس سے ہم کلام ہونا خاص الخاص صرف خدا کے لیے ہوتا ہے۔ حتی کہ مشرک اور ملحد بھی نازک وقتوں میں اپنی مزعومہ ہستیوں کو نہیں پکارتے۔ ایسے موقع پر ان کے دل سے بھی جب پکار نکلتی ہے تو خدا ہی کے لیے نکلتی ہے۔
یہ اس بات کا نفسیاتی ثبوت ہے کہ یہاں ایک عظیم ہستی ہے جو سنتی اور جانتی ہے اور جس کو ہر قسم کا اختیار حاصل ہے۔