11 مارچ 1986
Al-Risala, September 2023, pp. 28–29
By Maulana Wahiduddin Khan
علی گڑھ سے ایک نوجوان آئے۔ وہ مسلم یونیورسٹی میں انجینئرنگ کے فائنل ایئر میں ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ علی گڑھ کے مسلمان طلبا اپنی تحریک ہمیشہ اسلام کے نام پر چلاتے حالاں کہ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انہوں نے علی گڑھ کے مسلم طلبا کی حمایت کی اور کہا کہ آپ کی یہ بات درست نہیں۔ ہمارے یہاں کے طلبا میں زبردست اسلامی جذبہ ہے۔
ملک میں وہ اسلامی زندگی کا نشان ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
میں نے کہا کہ علی گڑھ کے مسلم طلبا اسلام کا نام تو ضرور لیتے ہیں مگر ان کی سرگرمیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی مثال دیجیے۔ میں نے کہا کہ ہاں میں آپ کو ایک متعین مثال دیتا ہوں۔
اس کے بعد میں نے کہا کہ پروفیسر عرفان حبیب (پیدائش 1931ء) کے مسئلے کو لیجیے۔ کے خلاف مسلم لڑکوں نے اتنے ہنگامے کیے کہ یونیورسٹی بند کر دینی پڑی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اخبار انڈین ایکسپریس (3 جنوری، 1981) میں پروفیسر عرفان حبیب کا ایک انٹرویو چھپا۔ انٹرویو پر علی گڑھ کے مسلم طلبا کو سخت اعتراض ہوا۔ میں پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ اس انٹرویو میں خالص حقیقت کے اعتبار سے کوئی قابل اعتراض بات نہ تھی۔ تاہم اس سے قطع نظر اس انٹرویو کے خلاف مسلم طلبانے جو کچھ کیا وہ سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف تھا۔ مثلاً مسلم طلبانے پروفیسر عرفان حبیب پر اسٹک سے حملہ کیا۔ اگرچہ اتفاقی طور پر وہ بچ گئے۔ اب میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ اگر تم بدلہ لینا چاہو تو اس کے مثل بدلہ ہو جو تمہارے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس قرآنی حکم کے مطابق اسلامی طریقہ یہ تھا کہ آپ پروفیسر عرفان حبیب کے مضمون کے جواب میں خود بھی ایک مضمون شائع کر دیتے ۔ مگر قلم کا جواب ڈنڈے سے دینا اس قرآنی حکم کے سراسر خلاف ہے۔ پھر ایسی تحریک کو آپ کس طرح اسلامی تحریک کہہ سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں وہ خاموش ہو گئے۔