Another Look at the Shah Bano Controversy
Al-Risala, September 2023, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
محترمہ مدھو کشور کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ کافی آزاد خیال ہیں۔ حتیٰ کہ جناب توقیر صاحب کے بیان کے مطابق وہ میرج کے انسٹی ٹیوشن میں یقین نہیں رکھتیں۔ ان کے اس مضمون میں جو بات سب سے زیادہ ابھری ہوئی ہے وہ ان کے الفاظ میں عورت پر مرد کے تسلط کے خلاف احتجاج ہے۔ مضمون میں گویا انہوں نے مرد کے خلاف اپنا بخار نکالا ہے۔ ان کا ایک جملہ یہ ہے: Through centuries, most men have used religion to legitimise their unjust domination of women in most parts of the world. غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملہ میں ہر گروہ ایک ہی مقام پر ہے۔ مدھو کشور شاہ بانو کے معاملہ کو آڑ بنا کر مرد کے خلاف اپنا بخار نکال رہی ہیں۔ ہندو عناصر اس معاملہ کو لے کر مسلمانوں کے خلاف اپنا بخار نکال رہے ہیں اور مسلم پرسنل لا کا تحفظ کرنے والے لوگ شاہ بانو کیس کو بہانہ بنا کر ہندوؤں کے خلاف اپنا بخار نکال رہے ہیں۔
ہر آدمی اپنے دل کا بخار نکالنے میں مصروف ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی شخص ایک کے خلاف اپنا بخار نکال رہا ہے اور کوئی شخص دوسرے کے خلاف۔