Al-Risala · September 2023

13 مارچ 1986

Al-Risala, September 2023, pp. 30–33

By Maulana Wahiduddin Khan

احمد اللہ بختیاری (رائچوٹی) ایک نوجوان ہیں۔ وہ آج ملنے کے لیے آئے۔ (سعودی عرب) کی جامعۃ الامام سے فارغ ہیں۔ وہاں انہوں نے سات سال رہ کر عربی ادب کی تکمیل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں ان کے ایک استاد ڈاکٹر محمد علی الہاشمی تھے جو کہ ڈاکٹر طہٰ حسین کے شاگرد ہیں۔ ڈاکٹر محمد علی الہاشمی نے ادیب کی تعریف ان الفاظ میں کی: الاديب ما يلعب بالا لفاظ ( ادیب وہ ہے جو الفاظ کے ساتھ کھیلے) ۔ اس کو الفاظ پر اتنا قابو ہو کہ جس لفظ کو جہاں چاہے رکھے اور جہاں سے چاہے ہٹائے۔

میں نے کہا کہ ادب کی یہ تعریف ادب کے قدیم تصور پر مبنی ہے۔ ادب کا ایک تصور وہ ہے جس کی نمائندگی مقامات حریری جیسی کتابیں کرتی ہیں۔ ان میں سارا زور الفاظ پر ہوتا ہے۔ مطابق ادب کا کمال یہ ہے کہ وہ مسجع اور مقفیٰ عبارت لکھ سکے۔ پہلا جملہ جس لفظ پر ختم ہوا ہے دوسرے

جملے کے خاتمے کے لیے بھی اس کو ویسا ہی لفظ مل جائے۔ مثلاً قدیم عرب کے مشہور مقرر قس بن ساعدہ ایادی کی تقریر کا ایک جملہ یہ ہے: طَحَنَهُمُ الثَّرَى بِكَلْكَلِهِ، وَمَزَّقَهُمْ بِتَطَاوُلِهِ (دلائل النبوة للبیہقی، جلد 2، صفحہ 109)۔

قدیم زمانہ میں شاعری کا زور تھا۔ اس لیے قدیم زمانہ میں الفاظ کی موزونیت باعتبار آہنگ پر زور دیا جاتا تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنس کا زور ہے۔ اس لیے اب الفاظ کی موزونیت باعتبار معنی پر زور دیا جاتا ہے۔ قدیم تصور کے مطابق ذخیرہ الفاظ کی زیادہ اہمیت تھی، مگر اب ادراک معنی کی زیادہ قدیم تصور ادب کے مطابق آدمی کے پاس الفاظ کا ڈھیر جتنا زیادہ ہوتا نا ہی زیادہ وہ موزوں جملے بنا سکتا تھا۔ مگر جدید تصور ادب کے مطابق جس شخص کا ادراک جتنا زیادہ بڑھا ہوا ہو ا اتنا ہی زیادہ موزوں الفاظ (appropriate words) اس کی زبان و قلم سے ظاہر ہوں گے۔ 14 مارچ 1986 میں تذکیر القرآن (سورہ العنکبوت) کے کتابت شدہ صفحات برائے تصحیح دیکھ رہا تھا۔ میں اس کے ایک صفحہ کی نقل لینے کی ضرورت پیش آئی۔ ہمارے دفتر میں فوٹو کاپی مشین ہے۔ انٹر کام (intercom) پر نیچے بتایا۔ نیچے کے دفتر سے ایک آدمی آیا۔ اس کو میں نے مذکورہ صفحہ وہ صفحہ کو لے گیا اور اسی وقت اصل اور کاپی لا کر مجھے دے دی۔

مذکورہ صفحہ کی نقل ایک منٹ بعد میرے سامنے موجود تھی۔ عین وہی صفحہ بالکل صاف اور صحیح شکل میں چھپا ہوا تھا۔ اس کو دیکھ کر مجھ پر عجیب تاثر ہوا۔ میں نے کہا۔ قدیم زمانہ میں کسی صفحہ کی ایسی ایک نقل حاصل کرنا کس قدر دشوار اور کتنا دیر طلب کام تھا۔ آج یہ حال ہے کہ آدمی اس کو ایک منٹ میں حاصل کر لیتا ہے۔ یہ بلاشبہ خدا کا معجزہ ہے۔ ان واقعات کی موجودگی میں جو لوگ معجزہ طلب کریں وہ اندھے ہیں۔ اگر وہ بینا ہوتے تو یقیناً انہیں واقعات میں وہ معجزۂ خدا وندی کو دیکھ لیتے۔ پھر میں نے سوچا کہ نزول قرآن سے پہلے خدا کی طرف سے برابر معجزے آتے رہے۔ نزول قرآن کے بعد معجزات کی آمد بند ہو گئی۔ اس کی وجہ غالباً نزول قرآن کے بعد دور سائنس کا آنا اور اس کے ذریعے قدرت کے بے شمار عجائبات ظہور میں آنا ہے۔ قرآن کے بعد سائنس کا زمانہ آرہا

تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بعد معجزات کو بھیجنا بند کر دیا۔

جماعت اسلامی کے دو صاحبان ملنے کے لیے آئے۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے تقسیم ہند کے وقت مدراس میں یک تقریر کی تھی، جس میں انہوں نے ہندستان میں تحریک اسلامی کا لائحہ عمل بتایا تھا۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ آزاد ہندستان میں سب سے پہلا کام یہ ہوگا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان قومی کشمکش کو ختم کیا جائے ، اس کے بغیر ہندستان میں اسلامی دعوت کا کام نہیں کیا جا سکتا۔

میں نے کہا کہ یہ ایک نہایت اہم اور بنیادی بات تھی مگر جماعت اسلامی ہند اس پر نہ چل سکی۔ جماعت اسلامی ہند اگرچہ اسلامی دعوت کا نام لیتی ہے، مگر اس کے ساتھ وہ مسلمانوں کی ان نام نہاد ملی سرگرمیوں میں بھی شریک ہے جو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان قومی کشمکش پیدا کرنے والے مولانا مودودی کی رہنمائی اگرچہ بذات خود صحیح تھی، مگر وہ پوری بات نہ کہہ سکے۔ معاملہ کے نصف تک ان کی نظر پہنچی، مگر معاملہ کا دوسرا نصف ان کی نگاہوں سے اوجھل رہ گیا۔ ہندستان میں قومی کشمکش کا ختم ہونا بلاشبہ انتہائی ضروری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس کو کون ختم ہمارے تمام مسلم قائدین قومی کشمکش کے خاتمہ کا نام لیتے ہیں، مگر وہ چاہتے ہیں کہ دونوں قو میں اس کو ختم کریں، اور یہ یقینی طور پر ناممکن ہے۔ اس طرح کی چیزیں جب بھی ختم ہوتی ہیں، یک طرفہ طور پر ختم ہوتی ہیں۔ مسلمان اگر ایک طرفہ طور پر اپنے تمام جھگڑے ختم کر دیں تو قومی کشمکش بھی ختم ہو جائے گی اور اسلامی دعوت کے لیے موافق ماحول پیدا ہو جائے گا۔ لیکن اگر مسلمان یک طرفہ طور پر اس کشمکش کو ختم نہ کریں تو وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ اس ملک میں کبھی اسلامی دعوت کے لیے وسیع موافق میدان پیدا ہو۔

پروفیسر کارل سگن (Carl Sagan, b. 1934) ایک ممتاز امریکی فلکیات داں ہیں۔ اس وقت نیو یارک کی کارنیل یونیورسٹی میں خلائی مطالعہ کے استاد ہیں۔ کارل سگن کا ایک مضمون

ہندوستان ٹائمس 15 مارچ 1986 میں شائع ہوا ہے، جس کا عنوان ہے:

Printed page