Al-Risala · September 2023

18 مارچ 1986

Al-Risala, September 2023, pp. 33–34

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا محمد رفیق کانپوری ایم اے، ایل ایل بی، ملنے کے لیے آئے۔ وہ آج کل سعودی عرب میں رہتے ہیں۔ وہ عجیب و غریب صلاحیتوں کے آدمی ہیں۔ وہ کئی زبانیں جانتے ہیں اور بیک وقت روانی کے ساتھ بول سکتے ہیں۔

وہ اپنی زندگی کے مختلف واقعات سناتے رہے۔ کبھی اپنا کوئی واقعہ سناتے ہوئے اپنی کوئی گفتگو انگریزی میں دہرانے لگے۔ کبھی کسی دوسرے واقعہ کا ذکر ہوا جس میں انہوں نے عربی میں کلام کیا تھا اور وہ اس کو عربی میں نقل کرنے لگے۔ پھر انہوں نے اپنی ایک ہندی تقریر کا قصہ بتایا اور

اس کے بعد وہ بے تکلف ہندی میں بولنے لگے۔

اسی طرح وہ کبھی اردو میں، کبھی انگریزی میں، کبھی عربی میں اور کبھی ہندی میں بولتے رہے۔ میں نے سوئچا کہ انسان کو بھی اللہ تعالیٰ نے کیسی عجیب صلاحیت دی ہے۔ ریڈیو پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ہندی نشریات سن رہا تھا اور پھر سوئچ گھما کر انگریزی نشریات سننے لگا۔ دوبارہ سوچ گھمائی تو عربی نشریات سنائی دینے لگیں۔ انسانی دماغ بھی گویا اسی قسم کا زیادہ اعلیٰ (superior) ریڈیوٹیپ وہ ایک زبان سے دوسری زبان، دوسری سے تیسری زبان اور تیسری زبان سے چوتھی زبان کی طرف منتقل ہوتا ہے بغیر اس کے کہ اس میں کوئی تاخیر ہوئی ہو۔

ریڈیو تو بولی ہوئی آواز کو دہراتا ہے، مگر انسان کا دماغ خود اپنے شعور کے تحت مختلف زبانوں میں کلام کی تخلیق کرتا ہے اور اس کو زبان کے ذریعہ سامنے لاتا ہے۔ کیسا عجیب ہے یہ دماغ اور کیسا عجیب ہے وہ خالق جس نے اس دماغ کو خلق کیا۔

Printed page