19 مارچ 1986
Al-Risala, September 2023, pp. 34–35
By Maulana Wahiduddin Khan
19 مارچ 1986 کو میں نے انڈین ایئر لائنز کے ذریعہ دہلی سے پونے کا سفر کیا۔ ٹکٹ نمبر 0582/8736912 تھا۔ یہ ٹکٹ دہلی کے دفتر سے 2128 روپیہ میں لیا گیا تھا۔ کے چند دن بعد انڈین ایئر لائنز نے اعلان کیا کہ 18 مارچ سے اس نے اپنی تمام پروازوں کے کرائے بڑھا دیے ہیں۔ یہ ٹکٹ یکم مارچ کو خریدا گیا تھا۔ مگر سفر چونکہ 19 مارچ کو ہوا اس لیے ہم کو اضافہ شدہ کرایہ مزید ادا کرنا پڑا۔
میں نے سوچا، اگر میں انڈین ایئر لائنز سے شکایت کروں کہ آپ نے ٹکٹ کی خریداری کے وقت مزید رقم کیوں نہ لی تو یہ ایک احمقانہ بحث ہوگی۔ کیونکہ کرایہ سفر کی قیمت ہے۔ اس لیے کرایہ کا اعتبار وقت سفر کے لحاظ سے ہوگا، نہ کہ وقت خریداری کے لحاظ سے۔
’’یکم مارچ‘‘ کو میں اس ٹکٹ کے ذریعے سفر کرنے کا مجاز تھا۔ مگر ’’19 مارچ‘‘ کو میں اس ٹکٹ کے ذریعے سفر کرنے کا مجاز نہ رہا، الّا یہ کہ میں اضافہ شدہ رقم ادا کروں۔ اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے، چنانچہ وہ اپنی زندگی کے معاملات میں بار بار غلطیاں کرتے ہیں۔ وہ پرانے ٹکٹ پر نیا
سفر کرنا چاہتے ہیں۔ اور جب انہیں سفر کی اجازت نہیں ملتی تو وہ دوسروں کی شکایت کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ظلم کیا جارہا ہے۔ حالاں کہ یہ ظلم نہیں، یہ زندگی کا ایک اصول ہے۔ جو لوگ اس کو ظلم کہیں وہ صرف یہ اعلان کر رہے ہیں کہ وہ زندگی کی حقیقت کو نہیں جان سکے۔