21 مارچ 1986
Al-Risala, September 2023, pp. 35–37
By Maulana Wahiduddin Khan
21 مارچ کو میں پونہ میں تھا۔ ایک مجلس میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ گفتگو کے دوران ایک صاحب بولے، جن کا نام آفتاب احمد تھا۔ انہوں نے میرے بارے میں اپنی معلومات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
مولاناوحید الدین صاحب وہ شخصیت ہیں جن کو آج ساری دنیا جانتی ہے۔ وہ ایک سفر کے دوران افریقہ کے ایک ہوائی اڈہ پر پلین کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس ہوائی اڈہ سے لیبیا
کے صدر معمر قذافی کا گزر ہوا۔ ان کو معلوم ہوا کہ مولانا یہاں ہوائی اڈہ پر ہیں تو ہوائی جہاز سے اتر کر مولانا کے پاس آئے اور عقیدت مندی کے ساتھ ملاقات کی۔
جناب آفتاب صاحب نے مذکورہ بات عین میری موجودگی میں کہی۔ انہیں اپنے اس بیان پر صد فیصد یقین تھا۔ حالاں کہ یہ سراسر بے بنیاد واقعہ ہے۔ اس قسم کا کوئی واقعہ میرے ساتھ کبھی پیش اس بیان میں کوئی ادنی صداقت بھی نہیں ہے۔
میرے ساتھ اس طرح کے دوسرے بہت سے واقعات گزرے ہیں جن سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ بزرگوں کی بابت جو قصے کہانیاں عام طور پر مشہور ہیں یا کتابوں میں درج ہیں ان کی حقیقت کیا ہے۔ یہ وہی بات ہے جس کو کسی نے اپنے فارسی مقولہ میں اس طرح بیان کیا ہے: پیراں نمی پرند مریداں می پرانند یعنی، پیر نہیں اڑتے بلکہ مریدان کو اڑاتے ہیں۔ عقیدت مند لوگ اپنی صاحب عقیدت شخصیت کے بارے میں بطور خود افسانے بنا لیتے ہیں اور اس کو لوگوں سے بیان کرنے لگتے ہیں۔ افسانے بعد کے زمانہ میں مقدس ہو کر اس طرح مان لیے جاتے ہیں جیسے کہ وہ واقعہ ہوں۔ 22 مارچ 1986 پونا میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ انگریزی تعلیم یافتہ ہیں اور سائنس سے دلچسپی رکھتے انہوں نے کہا کہ میں قرآنی تفسیر کے بارے میں ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں۔ میری بہت سی تحقیقات ہیں جو میں نے قرآن اور سائنس کے بارے میں کی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کو قلم بند کروں۔ میں نے پوچھا کہ کوئی تحقیق بطور مثال بتائیے ۔ انہوں نے قرآن کی سورۃ الہمزہ کی یہ آیت پڑھی: كَلَّا لَيُنْبَذَنَّ فِي الْحُطَمَةِ (104:4) ۔ اس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: ہر گز نہیں، وہ ضرور پھینکا جائے گا روندنے والی جگہ میں۔
انہوں نے کہا کہ لوگ اس آیت کو سمجھ نہیں سکے۔ یہاں حطمہ سے مراد ایٹم ہے۔ میں پھینکا جائے گا‘‘ کا مطلب ہے وہ ایٹم میں پھینک دیا جائے گا۔ یعنی ایٹمی بھٹی میں۔ چونکہ حطمہ اور
ایٹم میں صوتی مشابہت ہے اس لیے انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ حطمۃ سے مراد ہے۔ انہوں نے بڑے جوش اور یقین کے ساتھ اپنی یہ تفسیر بیان کی اور میں یہ سوچتا رہا کہ جوش اور یقین بھی کیسی عجیب چیز ہے، وہ ایسی باتوں پر بھی پیدا ہوسکتا ہے جس کی سرے سے کوئی بنیاد ہی نہ ہو۔ موجودہ زمانہ میں اس قسم کے بہت سے نام نہاد مفسرین پیدا ہوگئے ہیں جو بزعم خود قرآن کی سائنسی تفسیر کر رہے ہیں۔ ان کی اسی قسم کی بے معنی باتوں کی وجہ سے دینی طبقہ کو سائنسی تشریح کے لفظ سے چڑھ ہو گئی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی تشریح مذکورہ قسم کی باتوں کا نام ہے۔ حالاں کہ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے جاہلانہ تشریح ہے، نہ کہ سائنسی تشریح۔