Al-Risala · September 2023

23 مارچ 1986

Al-Risala, September 2023, pp. 37–39

By Maulana Wahiduddin Khan

آج ایک صاحب ملنے کے لیے تشریف لائے۔ وہ جماعت اسلامی کے رکن ہیں۔ جماعت اسلامی کے شعبہ تصنیف و تالیف سے وابستہ ہیں۔ اسلام کے موضوع پر ان کی کئی کتابیں چھپ چکی ہیں۔

گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے امت مسلمہ کا نصب العین حکومت الہیہ کا قیام بتایا ہے۔ مگر یہ نصب العین کسی بھی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔ میں نے کہا، اس میں شک نہیں کہ آپ حضرات نے اس کے حق میں بہت سی دلیلیں دی ہیں، مگر وہ سب کی سب استنباطی ہیں اور استنباطی دلیل اس معاملہ میں قابل اعتبار نہیں۔ میں نے کہا کہ فقہاء نے استدلال کے چار طریقے بتائے ہیں: عبارت النص ، اشارة النص ، دلالة النص اور اقتضاء النص۔ مگر یہ چار حقیقتاً صرف دو ہیں۔ ایک براہ راست استدلال (direct argument) اور دوسرا بالواسطہ استدلال (indirect/inferential argument)۔ اب دینی امور کے دو ایک کلیات دین (basics of religion) اور دوسرا جزئیات دین (nonbasics of religion)۔ بالواسطہ استدلال یا بالفاظ دیگر استنباطی استدلال صرف جزئیاتی امور میں کار آمد ہے۔ جہاں تک کلیات دین کا تعلق ہے اس میں صرف براہ راست استدلال ہی

قابل اعتبار ہے۔ کلیاتِ دین (مثلاً خدا ایک ہے) کو براہِ راست استدلال سے ثابت ہونا چاہیے۔ اگر وہ استنباطی استدلال سے ثابت ہو تو وہ ثابت ہی نہیں ہوا۔

میں نے کہا کہ آپ حضرات کے تمام استدلالات استنباطی ہیں۔ مگر نصب العین جیسے معاملہ میں استنباطی استدلال معتبر نہیں۔ مثلاً مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے "تفہیم القرآن" میں "أَقِيمُوا الدِّينَ" کی آیت کے تحت کئی صفحات لکھے ہیں۔ مگر وہ سب کے سب استنباطی نوعیت سے تعلق رکھتے میں نے کہا کہ اگر آپ کو اس سے اتفاق نہ ہو تو مجھے کوئی ایک ایسی کتاب یا مضمون بتائیے جس میں اس معاملہ کو براہِ راست استدلال سے ثابت کیا گیا ہو۔ مگر وہ کسی ایسی کتاب یا مضمون کا حوالہ نہ تعجب ہے کہ اس علمی افلاس کے باوجود لوگوں کا یقین برہم نہیں ہوتا۔ 24 مارچ 1986 ممبئی سے شائع ہونے والے مراٹھی اخبار "ترون بھارت" میں شیو سینا کے لیڈر مسٹر بال ٹھاکرے کا ایک بیان شائع ہوا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ پندرہ روزہ "حالات" (بھیونڈی) نظر سے گزرا۔ مسٹر بال ٹھاکرے نے کہا کہ مسلمان مطلقہ عورت کے معاملہ میں اسلامی شریعت کے قانون کا نفاذ چاہتے ہیں۔ ہماری رائے ہے کہ ان پر ہر معاملہ میں اسلامی شریعت نافذ کر دی پاکستان اور عرب ملکوں میں جرائم کے اوپر اسلامی سزائیں دی جاتی ہیں۔ مسٹر بال ٹھاکرے نے مشورہ دیا کہ یہی ہندوستان میں بھی مسلمانوں کے لیے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ شریعت کے مطابق وہ مسلمان چوروں کے ہاتھ کاٹ دے، مسلمان زانی کو سنگسار کرے اور مسلمان شرابی کو کوڑے مارے، وغیرہ۔ مسلمانوں کے لیے اس قسم کے جرائم پر وہی سزا مقرر کی جائے جو ان کی شریعت میں مقرر ہے۔

مسٹر بال ٹھاکرے کی یہ بات تجویز نہیں بلکہ طنز ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ واقعتاً یہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں اسلامی شریعت نافذ کی جائے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ مسلمان مطلقہ عورت کو گزارہ نہ دینے کے لیے زبردست مطالبہ کر رہے ہیں اور اس کے لیے بہت بڑے

پیمانے پر متحد ہو گئے ہیں۔ لیکن یہی مسلمان اس وقت بھاگ کھڑے ہوں گے جب یہ کہا جائے کہ آئندہ سے مسلم مجرمین کو شریعت کے مطابق کوڑا مارا جائے گا اور سنگسار کیا جائے گا اور ان کے ہاتھ کاٹے جائیں گے۔ مسلمانوں کا موجودہ متحدہ مطالبہ صرف اس لیے ہے کہ خود ان کے اوپر اس کی زد نہیں پڑ رہی ہے لیکن اگر ان کو اپنی پیٹھ کے لیے بھی کوڑے کا خطرہ ہو اور ہاتھ کٹنے اور سنگسار کیے جانے کا اندیشہ ہو تو یہ متحدہ مطالبہ اچانک ختم ہو جائے گا۔

کیسے عجیب ہیں وہ مسلمان جنہوں نے اپنی نادان سیاست سے اسلام کو دوسروں کی نظر میں مضحکہ خیز بنا دیا ہے۔

Printed page