26 مارچ 1986
Al-Risala, September 2023, pp. 39–40
By Maulana Wahiduddin Khan
خان (پیدائش 1932ء) انگلینڈ میں میڈیکل پریکٹس کرتے ہیں۔ ملاقات کے لیے آئے۔ ان سے بہت سی دلچسپ اور مفید باتیں معلوم ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے خاندان میں ان کے والد صاحب کے زمانہ سے خاندانی اجتماع کا نظام قائم ہے۔ خاندان کے افراد وقفہ وقفہ سے ایک گھر یلو اجتماع میں شریک ہوتے ہیں۔ اجتماع کا صدر وہ شخص ہوتا ہے جو عمر میں سب سے زیادہ ہو۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارے گھر میں کوئی جھگڑا نہیں۔ ہمارے یہاں بھی خاندان کے ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان وقتی شکایتیں ہوتی ہیں مگر وہ بڑھنے سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں۔ خاندانی اجتماع میں لوگ اپنی ہر بات کو کھلے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد اجتماع کا صدر (گھر کا بڑا ) جو فیصلہ کرتا ہے، اس کو سب لوگ بلا بحث مان لیتے ہیں۔ مزید سوالات کے بعد انہوں نے بتایا کہ اس نظام کو کامیابی کے ساتھ چلانے کا خاص راز ریزن کے سامنے سر جھکا دینا اور اپنی غلطی کو فوراً مان لینا۔
انہوں نے کہا کہ میں اس کو سب سے بڑا انسانی کیریکٹر سمجھتا ہوں۔ مجھے ڈاکٹر خان صاحب کی یہ بات بہت پسند آئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ہر خاندان میں اس قسم کا نظام قائم ہو جائے تو تمام
خاندانی جھگڑے اپنے آپ مٹ جائیں گے۔
ڈاکٹر خان صاحب کی شادی1959ء میں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد نے ایک روز 11 بجے رات کو مجھے اپنے کمرے میں بلایا۔ انہوں نے کہا کہ میں تمہارا نکاح کرنا چاہتا ہوں۔ کہ تم گھر کا چراغ چاہتے ہو یا شمع محفل۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں شمع محفل لے کر کیا کروں گا۔ تو گھر کا چراغ چاہیے۔ اس کے بعد ان کے والد صاحب نے اپنے انتخاب سے ایک خاتون کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا۔ کاش یہی اسپرٹ ہمارے تمام نوجوانوں میں پیدا ہو جائے۔ 27 مارچ 1986 آج دو صاحبان ملنے کے لیے آئے۔ دونوں وکیل ہیں اور دینی مزاج رکھتے ہیں۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب کی کتاب ”عصر حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح“ کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ یہ کتاب مولانا مودودی کے فکر کی تردید میں لکھی گئی ہے۔ مگر عملاً وہ اس فکر کی تردید نہیں، بلکہ تصدیق بن گئی ہے۔ یہ کتاب ایک مضبوط کیس کی کمزور وکالت ہے۔
میں نے کہا کہ اس وقت عالم اسلام میں بنیادی طور پر دو قسم کے دینی فکر پائے جاتے ایک تبلیغی جماعت کا دینی فکر اور دوسرا ابوالاعلیٰ مودودی کا دینی فکر۔ جس میں، میں مولانا علی میاں کو بھی شامل سمجھتا ہوں۔ مولانا علی میاں کا فکر بدلے ہوئے الفاظ میں مولانا مودودی ہی کا فکر ہے۔ میں نے کہا کہ سوچنے کے دو طریقے ہیں— ایک انقلاب فرد اور دوسرا انقلاب نظام۔ فکر کے مطابق دینی دعوت کا اصل نشانہ یہ ہے کہ فرد کے اندر انقلاب پیدا کیا جائے گا۔ کے مطابق دینی دعوت کا نشانہ یہ ہے کہ نظام کے اندر انقلاب لایا جائے۔
انقلاب نظام کا فکر سراسر غیر دینی ہے۔ مگر بدقسمتی سے مولانا علی میاں کا فکر بھی بنیادی طور پر اور اگر یہ نہ ہو تو وہ یقینی طور پر غیر واضح ہے۔ دین کا اصل کام یہ ہے کہ فرد کے اندر فکر یا انقلاب پیدا کیا جائے۔ فرد کے اندر خدا پر یقین اور آخرت کی فکر پیدا کیا جائے۔ اصلاً یہی کام کر رہی ہے اور بلاشبہ یہی کرنے کا اصل کام ہے۔