کائناتی عبادت
Al-Risala, November 2023, pp. 5–11
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَسِيرُ الْفِقْهِ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرِ الْعِبَادَةِ، وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمُ أَيْسَرُهَا (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر (286)۔ یعنی عبد الرحمن بن عوف روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: دین کی تھوڑی فقہ بہتر ہے، زیادہ عبادت سے۔ اور تمھارے اعمال میں سے وہ بہتر ہے، جو آسان تر ہو۔
اس حدیث میں فقہ سے مراد تدبر و تفکر (contemplation) ہے، اور عبادت سے مراد مبنی بر فارم عبادت ہے۔ قرآن کی بیشتر آیتوں میں اس بات پر ابھارا گیا ہے کہ خدا کی کتاب میں تدبر کرو (38:29)، زمین و آسمان میں تدبر کرو، کائنات میں پھیلی ہوئی آیتوں (signs) میں تدبر کرو تدبر کیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا کی کتاب میں اور خدا کی تخلیق میں حکمت کے پہلو چھپے ہوئے ہیں، غور کر کے ان پہلوؤں کو دریافت کرنا، اور اس کے مطابق اپنی شخصیت کی تعمیر یہ تدبر کی تعلیم کا خلاصہ ہے۔ تدبر اور تفکر کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ اس کے بغیر آدمی، حیوان کی مانند بن جاتا ہے۔ انسان وہی ہے جس کے اندر تدبر کی صفت موجود ہو۔
جو لوگ تدبر و تفکر کی صفت سے خالی ہوں، ان کے بارے میں قرآن میں سخت تنبیہ آئی ہے: ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ وہ ایسے ہیں جیسے چوپائے، بلکہ ان سے بھی زیادہ بے راہ۔ یہی لوگ ہیں غافل (7:179)۔ معلوم کائنات میں صرف انسان ہے جو یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ تدبر کرے۔ یہ تدبر پہلے روایتی فریم ورک میں کیا جاسکتا تھا۔ اب تدبر کا یہ عمل سائنسی فریم ورک میں کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ اس طرح انسان اللہ کی بے پایاں عظمت کو دریافت کرتا ہے۔ وہ اللہ سے حب شدید اور خوف شدید کا تعلق قائم کرتا ہے۔ وہ آخرت کی ابدی جنت کو اپنے تصور میں لاتا ہے۔ یہی تدبر ہے، اور اسی تدبر کو کائناتی عبادت کہا گیا ہے۔
شرح مشکوۃ المصابیح (حدیث نمبر 95-86)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے ہر آدمی پر اس کے حصہ کا زنا لکھ دیا ہے جس کو وہ ضرور پائے گا۔ آنکھ کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا گفتگو دل تمنا اور خواہش کرتا ہے، شرمگاہ اس خواہش کو سچا یا جھوٹا کرتی ہے۔ (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 6343، صحیح مسلم، حدیث نمبر 20)
مرد اور عورت کے درمیان ایک دوسرے کے لیے شدید کشش رکھی گئی ہے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے دل میں دوسرے کی نسبت سے غلط خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ کسی خیال پر اس وقت تک پکڑ نہیں جب تک کہ اقدام کر کے اس کو عملی واقعہ نہ بنا دیا جائے۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ مزینہ کے دو آدمیوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ کا کیا خیال ہے، لوگ آج جو عمل کر رہے ہیں اور جو کچھ وہ کوشش کر رہے ہیں، کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا ان کے بارے میں (پہلے) فیصلہ ہو چکا ہے، یعنی جو ان میں جاری ہو چکا ہے، وہ پہلے ہی سے مقدر ہے۔ یا وہ ان چیزوں میں سے ہے جو مستقبل میں طے ہوتا ہے اس بنیاد پر جیسا کہ ان کے نبی ان کے پاس (تعلیم) لائے، اور حجت قائم ہوگئی۔ فرمایا، نہیں، بلکہ ایسی چیز ہے جو ان کے بارے میں قرار پا چکی ہے اور وہ ان میں جاری ہے، اُس اعتبار سے جیسا کہ اللہ کی کتاب (7-91:8) تصدیق کرتی ہے: اور جان کی قسم جیسا کہ اس کو ٹھیک پھر اس کو سمجھ دی، اس کی بدی کی اور اس کی نیکی کی۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر (10) قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا مطلب یہ ہے کہ
انسان کو اللہ تعالیٰ نے صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے اور نیکی اور بدی کا شعور پیدائشی طور پر اس کے اندر رکھ دیا ہے۔ اس کو عقل و شعور کی صلاحیت عطا کی ہے، جس کے ذریعہ وہ برائی اور بھلائی کے درمیان تمیز کر سکتا ہے۔ اس کو یہ سمجھ عطا کی ہے کہ دنیا میں کیا چیز اس کے لیے بری ہے، اور کیا چیز اچھی۔ یہی وہ چیز ہے جس کی بنیاد پر انسان کی پکڑ ہوگی۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں ایک جوان آدمی ہوں اور میں اپنے آپ پر گناہ سے ڈرتا ہوں۔ اور میں یہ وسعت نہیں پاتا کہ میں عورتوں سے نکاح کروں۔ گویا کہ وہ آپ سے خصی (castrate) ہونے کی اجازت چاہتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے سوال پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ میں نے دوبارہ اسی طرح پوچھا۔ میں نے پھر وہی دہرایا۔ مگر آپ خاموش رہے۔ میں نے چوتھی بار وہی بات دہرائی تو رسول اللہ نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہ، قلم خشک ہو چکا، جو تمہارے ساتھ ہونے والا ہے، چاہے تم خصی بن جاؤ یا تم رہنے دو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5076)۔
بار بار سوال کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی غالباً اس لیے تھی کہ اسلام میں یہ پسندیدہ نہیں کہ آدمی ہر مسئلہ کو شرعی مسئلہ بنا کر اس کے بارے میں سوال کرے۔ اسلام کے مطابق آدمی کے لیے زیادہ درست بات یہ ہے کہ وہ شریعت کے واضح احکام کو سامنے رکھے اور پھر اپنے ضمیر کی روشنی میں معاملے کا فیصلہ کرے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام انسانوں کے دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے، ایک دل کی مانند۔ وہ جس طرح چاہتا ہے اس کو پھیرتا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ، دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی فرماں برداری کی طرف پھیر دے۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2654)
اس حدیث کا مطلب مذکورہ دعا (اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ صَرِّفْ قُلُوبَنَا عَلَى طَاعَتِكَ) کے ذریعہ واضح ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اپنا تزکیہ نفس کرنا چاہے اس کو اپنی
کوشش کے ساتھ خدا سے مدد مانگنا چاهیے۔ کیوں کہ انسان خدا کی مدد کے بغیر تنہا اپنے تزکیہ کا عمل ہر گز انجام نہیں دے سکتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا دیتے ہیں یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسا کہ جانور بے عیب بچہ جنتا ہے۔ کیا تم اس میں کوئی جسمانی خرابی پاتے ہو۔ پھر ابو ہریرہ نے قرآن سے سورہ الروم کی آیت 30 پڑھی: یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو بنایا ہے (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 1358، صحیح مسلم، حدیث نمبر 22)۔ تمام انسانوں کی فطرت (نیچر) ایک ہے۔ ہر آدمی اسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ بعد جب وہ ماحول کے اندر نشو و نما پا تا ہے تو اس کی فطرت پر ماحول کا اثر غالب آ جاتا ہے۔ اپنی ابتدائی فطرت کو زندہ رکھے تو کوئی برائی آدمی کو خدا کے مطلوب راستہ سے دور نہیں کر سکتی۔ اس حدیث رسول میں والدین سے مراد قریبی ماحول ہے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر مسٹر نیچر ہے، لیکن ماحول کے اثر سے وہ مسٹر کنڈیشنڈ (Mr. Conditioned) بن جاتا ہے۔ بلاشبہ ہر انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس بنا پر ہر انسان درست سوچ (right thinking) سے محروم رہتا ہے۔ وہ کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ جیتا ہے اور کنڈیشنڈ شخصیت کے ساتھ ہی مر جاتا اپنی عدم واقفیت کی بنا پر اس کو کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔
انسان سے مطلوب ہے کہ وہ اپنے شعوری فیصلے کے تحت، اپنی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ آپ کو دوبارہ انسان فطری (Mr. Nature) بنائے۔ جو آدمی ایسا نہ کر سکے، وہ سچائی کو دریافت کرنے میں ناکام ہو جائے گا۔ خواہ رسول کے زمانے کا انسان ہو یا رسول کے بعد کے زمانے کا انسان۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی اپنا بے لاگ محاسبہ (introspection) کر کے اپنی کنڈیشننگ کو دریافت کرے ۔ اور سیلف ہیمرنگ کے ذریعے اپنے آپ کو اس کنڈیشننگ سے آزاد کرے ۔
یہاں تک کہ وہ دھیرے دھیرے مکمل معنوں میں ایک ڈی کنڈیشنڈ انسان بن جائے۔ کے عمل کو غالباً قرآن میں تزکیہ کہا گیا ہے۔
ابو موسیٰ الاشعرٰی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ نے ہم کو پانچ باتیں بتائیں۔ اللہ کبھی نہیں سوتا اور نہ اس کی یہ شان ہے کہ وہ سوئے۔ ترازو کو جھکاتا ہے اور وہی اس کو اٹھاتا ہے۔ اس کے یہاں تمام اعمال پیش کیے جاتے ہیں، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے۔ اس کا پردہ نور ہے۔ اگر وہ اپنا پردہ اٹھا دے تو اس کی ذات کی شعائيں حد نظر تک مخلوق کو جلا دیں۔ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 179) اس حدیث میں دو حقیقتیں بتائی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ خدا لامحدود (limitless) طاقتوں کا اور دوسرے یہ کہ خدا ہر لمحہ انسان کے قول وعمل سے باخبر رہتا ہے۔ یہ دونوں باتیں اگر انسان کے ذہن میں تازہ رہیں تو وہ اس کی ہدایت کے لیے کافی ہو جائیں۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، اس کورات اور دن کی بخشش بھی کم نہیں کرتی ہے، پھر آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے غور کیا، جب سے آسمانوں اور زمین کو اللہ نے پیدا کیا ہے کس قدر خرچ کر رہا ہے، مگر جو کچھ اس کے ہاتھ میں ہے، اس میں کمی نہیں ہوئی، پھر فرمایا کہ اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں ترازو ہے کہ وہ اس کو جھکاتا ہے اور وہ اس کو اٹھاتا ہے۔ امام مسلم کی روایت میں ہے کہ اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ اور ابن نمیر (راوی) نے کہا کہ بھرا ہوا ہے، وہ خرچ کرتا اور دیتا ہے، دن میں بھی اور رات میں بھی، اور اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 4684؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 37)۔ اس حدیث میں خدا کی اتھاہ قدرت و ملکیت کو بیان کیا گیا ہے۔ ایمان کا آغاز خدا کی معرفت سے ہوتا ہے۔ یعنی تخلیقات میں غور وفکر کر کے خدا کو خالق ومالک کی حیثیت سے دریافت کرنا۔ سائنسی انکشافات نے اس غور وفکر کا دائرہ لامحدود حد تک وسیع کر دیا ہے۔ انسان جب تدبر وتفکر کے ذریعہ اعلیٰ معرفت خداوندی کا ادراک کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ انسان عاجز مطلق (all-powerless) ہے
اور خدا قادر مطلق (all-powerful)۔ خدا کی قدرت کی یہ لامحدوديت تقاضا کرتی ہے کہ انسان بلاشرط اس پر یقین کرے، کسی بھی حال میں اس کا اعتماد متزلزل نہ ہو۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ہیں (متفق علیہ: صحیح البخاری، حدیث نمبر 1384، صحیح مسلم، حدیث نمبر 26)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ سوال کا واضح اور قطعی جواب نہیں دیا۔ اس میں غالباً اشارہ ہے کہ اس طرح کے سوالات کا تعلق خدا سے ہے، نہ کہ انسان سے۔ اس لیے بہتر ہے کہ اس بارے میں توقف کیا جائے۔ اور حتمی انداز میں ان کو جنتی یا جہنمی نہ بتایا جائے۔ عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے سب سے پہلے جو چیز پیدا کی وہ قلم ہے۔ اس نے قلم سے کہا کہ لکھ۔ قلم نے کہا کہ میں کیا لکھوں۔ نے فرمایا کہ تقدیر کو لکھ، یعنی ہر وہ چیز جو واقع ہو چکی ہے اور جو (مستقبل میں) واقع ہونے والی ہے (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2155)۔
اس حدیث میں تمثیل کی زبان میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا نے کائنات کو پیدا کرتے ہی اس کا ایک ابدی قانون مقرر کر دیا۔ اب کائنات اور انسانی تاریخ ابدتک اسی قانون پر چلے گی، اس میں کوئی تبدیلی ہونے والی نہیں۔
مسلم بن یسار تابعی کہتے ہیں کہ عمر بن الخطاب سے قرآن کی آیت (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ الخ) کے بارے میں پوچھا گیا۔ عمر نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کرتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے آدم کو پیدا پھر ان کی پشت پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرا۔ پھر ان کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ میں نے ان لوگوں کو جنت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور وہ اہل جنت والا عمل کریں گے۔ اللہ نے پھر
اپنا هاتھ آدم کی پیٹھ پر پھیرا۔ اور کہا کہ میں نے ان کو جہنم کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور وہ اہلِ دوزخ والا عمل ایک آدمی نے کہا کہ اے خدا کے رسول پھر کس چیز میں عمل۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ کسی بندہ کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس کو اہلِ جنت والے عمل میں لگا دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کی وفات اہلِ جنت کے اعمال میں سے کسی عمل پر ہوتی ہے پھر اس عمل کی بنیاد پر اس کو جنت میں داخل کر دیتا ہے۔ اور جب اللہ کسی بندے کو دوزخ کے لیے پیدا کر دیتا ہے تو اس کو اہلِ دوزخ والے عمل میں لگا دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کی وفات اہلِ دوزخ کے اعمال میں سے کسی عمل پر ہوتی ہے پھر اس عمل کی بنیاد پر اس کو دوزخ میں داخل کر دیتا ہے (موطا امام مالک، حدیث نمبر 2، سنن الترمذی، حدیث نمبر 3075، سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4703)۔
مکمل آیت کا ترجمہ یہ ہے: اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھ سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود ان کے اوپر۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا ہاں، ہم اقرار کرتے یہ اس لیے ہوا کہ کہیں تم قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر نہ تھی (7:172)۔ اس حدیث میں دراصل مشیتِ الہی (تقدیر) کی زبان میں قانونِ الہی کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے مقرر کیے ہوئے راستے کی پیروی کرے گا وہ آخر کار جنت میں پہنچے گا اور جو شخص ان خدائی راستے سے انحراف کرے گا وہ جہنم کا مستحق قرار پائے گا۔ کوئی بھی چیز اس کو جہنم سے بچانے والی نہ ہوگی۔ اصل یہ ہے کہ انسان کو اس کے خالق نے آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا انسان کو اس دنیا میں اپنی آزادی کو استعمال کرنے کا کامل اختیار اصل ہے۔ وہ جس طرح چاہے سوچے، وہ جیسا چاہے عمل کرے۔ خالق نے انسان کو پیغمبر کے ذریعے جو دین بھیجا، اس کی حیثیت رہنما (گائڈ) کی ہے۔ لیکن فیصلہ پھر بھی انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ اس گائڈ کا کام انسان کو صرف یہ بتانا ہے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ یہ رہنما انسان پر کسی قسم کا کوئی جبر قائم نہیں کرتا۔ انسان کی زندگی کا یہی وہ پہلو ہے جس کی بنا پر اس کو خلیفہ کہا گیا ہے (البقرۃ، 2:30)۔ خلیفہ کا لفظی مطلب ہے بعد کو آنے والا (successor)۔ لیکن مفہوم کے اعتبار سے اس کا مطلب ہے اپنے اختیارات کو آزادانہ طور پر استعمال کرنے والی مخلوق۔ اسی آزادی کے صحیح یا غلط استعمال پر انسان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہونے والا ہے۔