Al-Risala · November 2023

اجتہاد کا معاملہ

Al-Risala, November 2023, pp. 12–17

By Maulana Wahiduddin Khan

اجتہاد کا لفظی مطلب ہے، پوری کوشش کرنا (to strive)۔ قرآن میں اس کے ہم معنی لفظ استنباط آیا ہے (4:83)۔ اجتہاد کا مقصد ہے، بدلے ہوئے حالات میں، دین کے ابتدائی ریفرنس میں دیے گئے حکم کی نئی تطبیق (new application) تلاش کرنا۔ مثلاً جدید طرز کے موزے (socks) کے وجود میں آنے کے بعد اس پر قدیم طرز کے جراب کے حکم کو منطبق کرنا۔

اجتہاد صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی، لیکن اس اندیشہ کی بنا پر کبھی اجتہاد کے عمل کو روکا نہیں صرف یہ زور دیا جائے گا کہ اجتہاد کے لیے اخلاص نیت لازم ہے۔ حدیث میں ہے کہ اگر کوئی مومن اجتہاد کر لے اور اس کا اجتہاد درست ہو تو اس پر اس کو دہرا ثواب ملے گا۔ اور اگر وہ اخلاص نیت کے باوجود اجتہاد میں غلطی کر جائے تو اس کو اس کے اجتہاد پر ایک ثواب ملے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7352)۔

تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اجتہاد کے معاملہ میں ہمیشہ غلطی کا امکان رہتا ہے حتی کہ بڑے بڑے اہل ایمان نے بھی غلطیاں کی ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ جب اس پر اجتہاد کی غلطی واضح ہو جائے تو وہ کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور وہ اپنی رائے کو درست کر لے۔ اجتہاد کسی قوم کے لیے زندگی کی علامت ہے۔ اجتہاد سے قوم کے اندر تعمیری عمل مسلسل طور پر جاری رہتا ہے۔ اجتہاد سے لوگوں کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) پیدا ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب اجتہاد کا عمل رک جائے تو یقینی طور پر لوگوں کے اندر ذہنی جمود پیدا ہو جائے گا اور ذہنی جمود (intellectual stagnation) بلا شبہ اسلام میں ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ کوئی آدمی اخلاص نیت کے ساتھ اجتہاد کرے تو فطری طور پر ایسا ہوگا کہ وہ معاملہ پر گہرائی کے ساتھ غور کرے گا، وہ سنجیدگی کے ساتھ اس کا جائزہ لے گا۔ وہ اس موضوع پر کتابوں کا مطالعہ کرے گا۔ اہل علم سے اس موضوع پر تبادلہ خیال کرے گا۔ یہ تمام چیزیں اخلاص نیت میں شامل ہیں۔ کا ہونا اخلاص نیت کا ثبوت ہے اور ان چیزوں کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی کے اندر اخلاص نیت موجود نہیں۔

جدید مسئلہ کیا ہے؟

انسانی تاریخ کو دو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ دور سائنس سے پہلے، اور دور سائنس کے بعد۔ وہ چیز جس کو "دورِ جدید" کہتے ہیں، وہ حقیقۃً دورِ سائنس کا دوسرا نام ہے۔ یہ دور واضح طور پر سترھویں صدی میں شروع ہوا اور دوسری جنگِ عظیم (1939-45ء) تک اپنے آخری عروج پر پہنچ گیا۔

انسان خارجی طور پر جو عمل کرتا ہے، اس کے لیے اس کے پاس دو قدرتی ذریعے ہیں: حواس (senses) اور طاقت۔ حواس کے ذریعے وہ اشیاء کا علم حاصل کرتا ہے، اور طاقت کے ذریعے اپنے ارادہ کو ان کے اوپر نافذ کر کے ان کو اپنے لیے کارآمد بناتا ہے۔ یہ دونوں عمل قدیم ترین زمانے سے جاری ہیں۔ پچھلے زمانہ میں اشیاء کو جاننے کے لیے اس کے پاس صرف وہ قدرتی عطیات تھے جن کو حواسِ خمسہ (five senses) کہا جاتا ہے اور خارجی دنیا میں تصرف کرنے کے لیے اس کے پاس اپنے ہاتھ پاؤں تھے یا حیوانی طاقت، مثلاً اونٹ، گھوڑے، ہاتھی، بیل وغیرہ۔ ابتدائی قدرتی عطیات کے علاوہ زمین میں بے شمار ایسی چیزیں تھیں جو اس بات کو ممکن بناتی تھیں کہ ان کو حاصل کر کے آدمی اپنے حواس اور طاقت دونوں کی مقدار کو بڑھا سکے۔ اضافے کا یہ عمل نامعلوم زمانے سے جاری تھا۔ مردہ تہذیبوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے ادوار میں بھی انسان اس میدان میں بڑی بڑی ترقیات حاصل کرتا رہا ہے۔ تاہم ماضی کی تمام ترقیاں ابتدائی فطری حدود کے اندر ہوتی تھیں۔ مثلاً پتھر کی جگہ لوہے کو کام میں لانا یا پہیہ دار گاڑی بنا کر جانوروں کو سواری کے لیے استعمال کرنا۔ موجودہ دور کو یہ اولیت حاصل ہے کہ اس نے معلوم تاریخ میں پہلی بار فطرت میں چھپی ہوئی انرجی کو استعمال کر کے ایسے میکانکی اور آلاتی معاون دریافت کر لیے جو ہمارے دیکھنے اور تجربہ کرنے کی صلاحیت کو لاکھوں کروڑوں گنا زیادہ بڑھا سکتے تھے۔ اس دریافت کا براہ راست فائدہ تو صرف یہ تھا کہ انسانی تمدن کے لیے مادی ترقی کا ایک نیا وسیع تر دروازہ کھل گیا۔ انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ اپنے سفر کی رفتار کو بے حساب مقدار میں بڑھا

سکے، زمین کے جن وسائل تک روایتی ذرائع سے اس کی دسترس نہیں ہو سکتی تھی، ان کو حاصل کر کے اپنی بستیوں کو ناقابل قیاس حد تک سنوارے۔ تخریب و تعمیر (destruction and construction) کے لیے، مقدار اور نوعیت (quantity and quality) دونوں اعتبار سے، اتنے زیادہ سامان فراہم کر لے جس کا خواب بھی پچھلے انسانوں نے نہیں دیکھا تھا۔

تاہم انسانی تاریخ کا اتنا بڑا واقعہ بالواسطہ اثرات پیدا کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ دھیرے دھیرے انسانی افکار پر بھی اپنے اثرات ڈالنے شروع کیے یہاں تک کہ انیسویں صدی کے آخر تک یہ عالم ہو گیا کہ سارے علوم انسانی اس سے متاثر ہو کر رہ گئے۔ مذہب، اخلاق، فلسفہ، قانون، معاشیات، سیاسیات، غرض کوئی ذہنی موضوع ایسا نہ تھا جس نے گہرے طور پر اس سے اثر قبول نہ کیا ہو۔ فطری طور پر یہ اثر یک طرفہ تھا۔ فکری علوم سائنس کے اوپر اپنی چھاپ نہ ڈال سکے، وہ صرف سائنس کے عمومی غلبہ کا شکار ہو کر رہ گئے۔

سائنس اپنی ابتدائی شکل میں فکری علوم کی موافق تھی، نہ کہ مخالف۔ انسان اگر نظامِ شمسی کی حرکت کا نقشہ معلوم کرلے، یا آٹومیٹک مشین کے ذریعے کام لینے لگے تو اس میں اخلاق یا انسانی اقدار سے ٹکراؤ کا پہلو کیا ہے۔ تاہم سائنس کے ظہور کے ساتھ چند باتیں ایسی پیش آئیں جنھوں نے سائنس کو فکری علوم، خاص طور پر مذہب و اخلاق سے متصادم کر دیا۔

مذہب کے ماننے والوں نے سائنس کے ظہور سے پہلے روایتی معلومات کے تحت اپنا ایک فکری نظام بنا رکھا تھا۔ سائنس کی دریافتیں سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ ان میں سے بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو سائنس کی معلوم کردہ دنیا سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اب چونکہ سائنس زیادہ ترقی یافتہ ذرائع معلومات کے حوالے سے کلام کر رہی تھی۔ قدرتی طور پر سمجھا گیا کہ وہی بات صحیح ہے جو سائنس کی طرف سے آئی ہے۔ اس واقعہ نے مذہب کو لوگوں کی نظر میں بے اعتبار بنا دیا۔ مزید شدت اس واقعہ سے پیدا ہوئی کہ اہل مذہب، خصوصاً عیسائی حضرات نے اپنے روایتی عقائد کے تحفظ کے لیے سائنس کے خلاف نہایت سخت رویہ اختیار کیا۔

ماڈرن سائنس کا آغاز واضح صورت میں سولہویں صدی میں ہوا۔ مگر یہ ایک اتفاقی بات تھی کہ اپنے ابتدائی زمانہ میں سائنسدانوں نے عالم فطرت کے جو حقائق دریافت کیے وہ زوال یافتہ مسیحیت کے

مزعومہ عقائد سے ٹکراتے تھے۔ مسیحیت کے پیشواؤں کہ اس وقت اقتدار کی حالت میں تھے، انہوں نے ان سائنس دانوں کی سخت مخالفت کی اور انہیں سخت سزائیں دیں۔ اس کی تفصیل ولیم ڈریپر (وفات 1882ء) کی کتاب "معرکہ مذہب و سائنس کی تاریخ" میں دیکھی جاسکتی ہے:

History of the Conflict between Religion and Science by John William Draper, London, 1875. مسیحی پیشواؤں کے اس اقدام نے عام لوگوں میں یہ تاثر پیدا کیا کہ یہ ٹکراؤ حقیقت میں مذہب اور سائنس کا ٹکراؤ ہے، اور جب دلائل کی منطق صریح طور پر سائنس کی طرف ہے تو یقیناً مذہب ایک بے اصل چیز ہے۔ مذہب کی حقیقت تو ہم پرستی (superstition) کے سوا اور کچھ یعنی یہ ٹکراؤ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اہل سائنس اور اہل مذہب کے درمیان تھا۔ مگر غلط طور پر اس کو سائنس اور مذہب کا ٹکراؤ سمجھ لیا گیا۔ اُس وقت جذباتی ہیجان کی بنا پر اس فرق کو سمجھانہ جاسکا اور سائنسی تہذیب غلط طور پر اپنے آغاز ہی میں عملاً ایک مخالف مذہب تہذیب کی حیثیت اختیار کر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سائنسی تہذیب کے لوگ مذہب کو اپنا حریف سمجھنے لگے اور اہل مذہب نے سائنس کو اپنا دشمن فرض کر لیا۔ یہ منفی ذہن ابتدا مسیحیت کے مقابلہ میں پیدا ہوا۔ اس کے بعد وہ توسیع پا کر دوسرے مذاہب تک پہنچ گیا ۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ زمین اور سورج کی گردش کے بارے میں قدیم یونان میں دو نظریے پیش کیے گئے تھے۔ ایک ارسطو کا نظریہ جس کا مطلب یہ تھا کہ زمین قائم ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ دوسرا ارسٹاکس (Aristarchus) کا نظریہ جس کے مطابق زمین سورج کے گرد گھوم رہی تھی ۔

عیسائیوں کے درمیان ارسطو کا نظریہ بہت مقبول ہوا۔ کیوں کہ مرکزیت زمین کے نظریہ (Geocentric Theory) میں زمین کو بنیادی اہمیت حاصل ہو رہی تھی اور چونکہ انھوں نے حضرت مسیح کو خدائی کا مقام دے رکھا تھا۔ اس لیے ان کا خیال یہ ہو گیا کہ وہی کرہ نظام شمسی کا مرکز بن سکتا ہے جہاں خداوند مسیح پیدا ہوئے ہیں۔ حتی کہ مرکزیت زمین کے نظریہ کو انھوں نے اپنے علم کلام میں داخل کر لیا ۔ کوپرنیکس (1543-1473ء) نے جب مرکزیت آفتاب کا نظریہ

(heliocentric theory) پیش کیا تو یورپ کے عیسائی پیشواؤں کو اقتدار حاصل تھا۔ اپنے عقیدہ کے تحفظ کے لیے کوپر نیکس کے خلاف عدالتی سزا کا حکم جاری کر دیا۔ خداوند کی جنم بھومی کو تابع (satellite) قرار دینا ایک ایسا جرم تھا جو کسی طرح معاف نہیں کیا جا سکتا تھا۔ مگر یہ مسئلہ روایتی عیسائیت کا تھا، نہ کہ حقیقی معنوں میں خدائی مذہب کا۔ چنانچہ مسلمان جو اس اعتقادی پیچیدگی میں مبتلا نہ تھے کہ پیغمبر کو خدا سمجھیں، انھوں نے مرکزیت آفتاب کے نظریہ کو زیادہ معقول پا کر اسے قبول کر لیا۔ ان کے یہاں یہ سوال نہیں اٹھا کہ شمسی مرکزیت کا نظریہ مذہبی تعلیمات سے ٹکراتا ہے۔ امریکی رائٹر ایڈورڈ برنس نے لکھا ہے:

"ارسطو کے احترام کے باوجود عرب کائنات کے بارے میں ارسطو کے نظریہ پر تنقید کرنے میں نہیں ہچکچائے، جس کا مطلب یہ تھا کہ زمین آسمانی اجرام (celestial bodies) کا مرکز ہے اور تمام اجرام اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اس کے برعکس، عربوں نے اس امکان کو تسلیم کیا کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔

Edward McNall Burns: Western Civilization, p. 264 دوسری غلطی سائنس دانوں یا کم از کم سائنس کے حوالے سے بولنے والوں نے کی۔ طبیعیات میں اپنی دریافت سے وہ اس غلط فہمی میں پڑ گئے کہ وہ اس حیثیت میں ہیں کہ وسیع تر فلسفیانہ مسائل کے بارے میں رائے زنی کر سکیں ۔ حالاں کہ، جیسا کہ خود سائنس کی مزید دریافتوں سے معلوم ہوا، عالم طبیعی کے بارے میں ان کے مشاہدات، فلسفہ یا عالم افکار کے نازک مسائل کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کے لیے انتہائی ناکافی تھے۔

سائنس دانوں کی غلطی کی ایک مثال اصول تعلیل (causation) میں ملتی ہے۔ کے مشاہدہ سے جب یہ حقیقت ان کے سامنے آئی کہ واقعات کے پیچھے ایک سبب کارفرما ہوتا ہے، مثال کے طور پر اجرام سماوی (celestial bodies) کی گردش کے پیچھے جذب و کشش کا قانون (law of gravitation) یا قوس قزح (rainbow) کے پیچھے بارش کے قطرات سے سورج کی شعاعوں کا گزرنا ہے، تو انھوں نے سمجھ لیا کہ ان کو اس سوال کا جواب مل گیا ہے جس کے لیے فلسفہ

ہزاروں سال سے "علت کائنات" کمی تلاش میں سرگرداں تھا۔ حالاں کہ علت کائنات کا مسئلہ نہایت گہرے سوالات سے جڑا ہوا تھا اور سائنس دانوں کا طبیعی مشاہدہ کسی بھی درجہ میں اس قابل نہ تھا کہ اس کو اس نازک اور گہرے سوال کے جواب کے لیے استعمال کیا جائے۔ تاہم انھوں نے استعمال کیا۔ اس کو خالق کے انکار کا سب سے بڑا ثبوت سمجھ لیا۔ مگر بیسویں صدی کے آغاز میں خود سائنس نے ایسے حقائق دریافت کیے جس کے بعد الحاد کی یہ بنیاد ہمیشہ کے لیے منہدم ہو گئی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو یہ دو کتابیں "مذہب اور جدید چیلنج" اور "مذہب اور سائنس" مطبوعہ گڈ ورڈ بکس، دہلی)۔ یہ ہے مختصر طور پر وہ فکری پس منظر جس میں جدید تاریخ کا وہ واقعہ وجود میں آیا جس کو مذہب اور سائنس کا تصادم کہا جاتا ہے۔

Printed page