Al-Risala · November 2023

امت مسلمه

Al-Risala, November 2023, pp. 17–21

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس نے جدید دور کے ہر پہلو پر اتنی شدت اور وسعت کے ساتھ اثر ڈالا کہ علم کے تمام شعبوں اور فکر کے تمام گوشوں پر اس کی چھاپ پڑ گئی جس قدیم روایتی ڈھانچہ میں لوگوں نے اسلام کو پایا تھا، وہ بالکل ٹوٹ پھوٹ چکا تھا اور نیا فکری ڈھانچہ جو سائنس کے زیر اثر بنا، اس کے تحت اسلامی افکار کی تشکیل نو نہ کی جاسکی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نسل کی نسل کنفیوزن اور انتشار ذہنی کا شکار ہو کر رہ گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس دور میں ایسے لوگ معدوم ہو گئے جو اسلام کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہوں۔ بلاشبہ ایسے لوگ تھے اور کروروں کی تعداد میں تھے۔ مگر انھوں نے اسلام کو روایتی سطح پر پایا تھا، شعور کی سطح پر نہیں پایا تھا۔ اس کی کا نتیجہ صرف یہ نہیں ہوا کہ لوگ ایمان کی اس اعلی فکری سطح کو نہ پہنچ سکے جہاں آدمی گرد و پیش کے تمام واقعات کو اس طرح اپنے شعور حق کا جزء بنا لیتا ہے کہ ہر طرف اس کو خدا کا جلوہ دکھائی دینے لگتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ بڑا اجتماعی نقصان یہ ہوا کہ اس دور میں مسلمانوں کے جو مذہبی رہنما اٹھے، وہ خود بھی چونکہ ایسے تھے جنھوں نے فکر حاضر میں اپنے دین کو نہیں پایا تھا، بلکہ ماضی کے روایتی ڈھانچہ میں پایا تھا، اس لیے وہ دور جدید کے مطابق اسلامی مہم کی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ انتہائی اخلاص مگر غیر شعوری طور پر نادانی کے ساتھ وہ مسلمانوں کو ایسی راہوں میں دوڑاتے رہے جن کی ساری قیمت

ماضی کے نقشہ میں تھی، عہد حاضر کے نقشہ میں وہ غیر متعلق (irrelevant) ہو چکے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم ملت کی ناکامی میں مزید اضافہ ہوتا گیا۔ ہر محاذ پر ان کو شکست ہوئی اور شکست نے بالآخر مسلم ملت کو مایوسی اور جھنجھلاہٹ اور بے حوصلگی کا شدید تر تحفہ دے کر زوال کے کنارے پہنچا دیا۔ شعوری سطح پر دین کو پانے کا مطلب وقت کے افکار کے مقابلے میں دین کو پانا ہے۔ معرکہ بدر (625ء) کے اہل اسلام نے اللہ کے حکم " اور ان کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو قوت" (8:60) کی تفسیر " تلوار " میں پائی تھی۔ مگر شامی کے معرکہ (1857ء) میں شامل ہونے والے مسلمان بھی اگر آیت کی تفسیر " تلوار " میں پائیں تو کہا جائے گا کہ انھوں نے قرآن کو عہد حاضر کی نسبت سے نہیں پایا۔ آج اس آیت کی تفسیر کو تلوار کی شکل میں پانا، قرآن کو گزرے ہوئے ماضی کے نقشہ میں پانا ہے۔ جب کہ اجتہاد کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو وقت کے نقشہ میں پایا جائے۔ خیالات کے اظہار کے لیے شعر و خطابت کی زبان استعمال کرنا، احیائے اسلام کی تحریکوں کا سیاسی رخ اختیار کرنا، وعظ خوانی اور فتوے کو اصلاح امت کے لیے کافی سمجھنا سب اسی کے مظاہر یعنی ماضی کے طریق کار کو حال میں دہرانا۔

دور جدید میں ہمارے جو مصلحین اٹھے انھوں نے اگر فکر حاضر میں اپنے اسلامی شعور کو پایا ہو تا تو وہ جانتے کہ وہ کون سے افکار و عوامل ہیں جو آج فیصلہ کن بن گئے ہیں اور ان کے مقابلہ میں احیائے اسلام کی منصوبہ بندی کس طرح ہونی چاہیے۔ اس کے بجائے مسلم رہنماؤں نے جو کیا، وہ یہ تھا کہ ان کے پاس صرف روایتی عقیدہ کا سرمایہ تھا۔ بس اسی کو لیے ہوئے وہ وقت کے سمندر میں کو دپڑے، بدلے ہوئے زمانے میں اس قسم کا جوش ایمان انھیں کہیں نہیں پہنچا سکتا تھا اور نہ اس نے

انیسویں صدی میں یہ بات پوری طرح نمایاں ہو چکی تھی کہ مذہب کا روایتی ڈھانچہ اس جدید ڈھانچہ (framework) میں اپنی جگہ نہیں پا رہا ہے جو سائنس کے زیر اثر بنا ہے۔ اس وقت ضرورت تھی کہ گہرائی کے ساتھ موجودہ صورت حال کا جائزہ لے کر اس کے مطابق نیا تشریحی فریم ورک تیار کیا جائے جس سے اسلام عصر حاضر میں دوبارہ اپنی جگہ پا سکے۔ اگر بروقت یہ کام ہو جاتا تو سائنس یا دور جدید نہ

صرف یہ کہ مذہب کے حریف نہ بنتے بلکہ اس کو تقویت دے کر اس کو نئی زندگی عطا کرنے والے بن جاتے۔ مگر ایسا نہ ہوسکا۔ عیسائیت نے سیاسی اقتدار سے محرومی کے بعد ماڈرنزم کی شکل میں سائنس سے سمجھوتہ کرلیا۔ اس کے بالمقابل مسلمان ایک محفوظ خدائی دین کے حامل تھے۔ چنانچہ وہ فکری طور پر اس پوزیشن میں تھے کہ جدید تاریخ کے اس اہم کردار کو ادا کر سکیں، جس طرح انھوں نے نویں صدی عیسوی میں بغداد اور قرطبہ میں وقت کی سائنس اور فلسفہ کے مقابلے میں اسی قسم کے کردار کو ادا کیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے یہ وہ وقت تھا جب کہ مسلمان قومیں زوال کا شکار ہو چکی تھیں۔ ان کے اندر نہ حوصلہ تھا، نہ فکری بلندی۔ مزید یہ کہ جدید اقتصادیات میں اپنی محرومی کی وجہ سے وہ اس قابل نہ رہے تھے کہ اس قسم کے کسی موثر کام کی قیمت ادا کر سکیں۔ اپنی پس ماندگی کی وجہ سے مسلمان اس کا ثبوت بھی نہ دے سکے کہ وہ وقت کے اس مسئلہ کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں۔ کجا کہ ان سے یہ امید کی جائے کہ وہ گہرائی کے ساتھ اس کا جائزہ لیتے اور زندگی کے جدید نقشہ میں مذہب کو اس کا مقام عطا کرتے۔ کرنے کا کام موجودہ حالات نے ہمارے لیے جو مسائل پیدا کیے ہیں، وہ دو قسم کے ہیں— نظری اور عملی۔

پہلے جزء کے سلسلے میں اہم ترین کام یہ ہے کہ اسلام کے عقائد و احکام کو جدید استدلالی انداز میں مرتب کیا جائے تا کہ وہ لوگوں کو آج کی چیز معلوم ہونے لگیں۔ نہ یہ کہ پڑھنے والا یہ سمجھے کہ وہ اس دور کی چیز ہیں جب کہ انسان قبائلی دور میں جیتا تھا۔ جدید انداز سے مراد یہ ہے کہ اسلوب تحریر اور استدلال دونوں اعتبار سے وہ عصر حاضر کے اعلیٰ معیار کے مطابق ہو۔ موجودہ زمانے میں اسلوب تحریر مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ قدیم روایتی اسلوب میں خطیبانہ انداز غالب ہوتا تھا۔ اب سائنسی اور تجزیاتی انداز کو پسند کیا جاتا ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ عبارت کے درمیان اشعار نقل کر دینا۔ زورِ الفاظ کا مظاہرہ کرنا یا مسجع فقرے لکھنا، نفس مضمون کی قیمت میں اضافہ کرتا ہے۔ اب یہ ساری چیزیں معیوب قرار پا چکی ہیں۔ قدیم تصور ادب میں تیر و نشتر قسم کے جملے، فریقِ مخالف کے اوپر تیز تیز ریمارک، جذباتی قسم کی عبارتیں انتہائی

پسندیدہ ہوتی تھیں ۔ مگر اب یہ تمام چیزیں علمی وقار کے خلاف سمجھی جاتی ہیں۔ قدیم ذوق کے مطابق مبالغہ آمیز الفاظ ، رنگین ترکیبیں اور استعارے اور تشبیہات ادب کا کمال سمجھے جاتے تھے ۔ مگر اب کوئی تعلیم یافتہ آدمی اس قسم کے مضمون کو پڑھنا بھی پسند نہیں کرتا۔

یہی کیس طریقِ استدلال کا بھی ہے۔ پہلے زمانے میں کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے یہ بھی کافی تھا کہ آدمی اپنے نقطۂ نظر کے حق میں ایک تصوراتی مثال پیش کردے یا ایک حکایت بیان کردے ۔ مگر اب اس کو غیر معتبر سمجھا جاتا ہے کہ کوئی شخص اس قسم کی چیزوں سے اپنی بات ثابت کرنے لگے۔ پہلے زمانے میں کسی حوالے کے لیے اعدادی قطعیت یا واقعاتی تعین ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا ، مگر جدید ذوق کے لیے وہ کلام بے معنی ہے جس میں تعیناتی زبان استعمال نہ کی گئی ہو۔ قدیم طریقے میں استدلال کی بنیاد تمام تر قیاسی منطق ہوا کرتی تھی۔ مگر اب قیاسی منطق بے قیمت ہوگئی ہے۔ اب تاریخی ، مشاہداتی اور تجزیاتی انداز میں بات کو ثابت کرنا معتبر مانا جاتا ہے۔ قدیم زمانے میں آدمی مناظر اور مبلغ بن کر ایک وکیل کی طرح بالکل برہنہ انداز میں (فریق ثانی کی ذاتیات پر حملہ کرتے ہوئے اپنے نقطۂ نظر کو ثابت کرتا تھا۔ اب موضوعی تجزیہ (objective analysis) کو معیاری انداز سمجھا جاتا ہے۔ پچھلے سو برس میں ہمارے یہاں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں ۔ ان میں سے بہت سی کتابیں بجائے خود قیمتی بھی ہیں۔ مگر دورِ جدید کے اعتبار سے ان کی افادیت محض جزئی ہے ۔ کیوں کہ وہ قدیم طرز کے مطابق خطیبانہ نثر کا نمونہ ہیں۔ سائنسی طرز استدلال پر تحریری کام ابھی تک ہمارے یہاں تقریباً صفر کے درجے میں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے جدید تعلیم یافتہ نو جوان اسلام کو سمجھنے کے لیے بھی مستشرقین کی کتابیں پڑھتے ہیں جو، خواہ ہمارے نزدیک غلط ہوں ، تا ہم وہ اپنے انداز اور اسلوب کے اعتبار سے جدید معیار کی حامل ہوتی ہیں ۔

اس کے بالمقابل مسلم مصنفین کی لکھی ہوئی کتابیں ان کو اپیل نہیں کرتیں۔ عملی مسائل کی فہرست ، جن کے حل کے لیے وقت کے نظام اجتماعی میں تغیر ضروری ہے، بہت طویل ہے۔ اجتماعی نظام ، قومی اور بین اقوامی دونوں اعتبار سے ، سراسر انسانی فکر کی بنیاد پر قائم ہے۔ ڈھانچے میں رہتے ہوئے دین کے اجتماعی قوانین پر عمل کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔ مگر یہاں اسلام نے جو

راہ عمل تجویز کی ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو ایک انقلاب پسند لیڈر عام طور پر اختیار کرتا ہے۔ اس کا حل موجودہ زمانے کی اسلامی جماعتوں نے یہ نکالا ہے کہ نظام حاضر سے ٹکرا ان کا نظریہ ہے کہ اجتماعی ایمان اگر ہمیں حاصل نہیں تو اس کے حصول کی خاطر موت تو ہمارے بس میں ہے۔ پھر کیوں نہ ہم "بے ایمان" ، زندگی کے مقابلے میں "با ایمان" موت کو ترجیح اس کے نتیجہ میں جو خطرناک ظاہر مسلم نوجوانوں کے درمیان پیدا ہوا تھا، وہ تھا جہاد، بمعنی قتال اور سوسائڈ بامبینگ۔

یہ دونوں عمل اپنی حقیقت کے اعتبار سے مکمل طور پر غیر اسلامی عمل تھے، نہ کہ اسلام کی کوئی یہ غلط فہمی اس لیے پیدا ہوئی کہ اس دور میں اٹھنے والے مصلحین امت اس نکتے کو نہ سمجھ سکے کہ مکہ میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلام کی دعوت کا حکم دیا گیا تو یہ نہیں کہا گیا کہ مکہ کی پارلیمنٹ (دارالندوہ) میں نمائندگی حاصل کرنے کا مطالبہ کرو، یا کعبہ کی تولیت پر قبضہ کرنے کی بلکہ توحید اور مواساة بنی آدم سے متعلق سادہ تعلیمات بھیجی گئیں اور حکم ہوا کہ لوگوں کو ان سے باخبر کرو۔ اس سے آگے کی چیزیں، جن کے حصول کے لیے اجتماعی انقلاب ضروری ہے، ان کے بارے میں قرآن میں حکم دیا گیا کہ اس معاملے میں ٹکراؤ کا طریقہ اختیار کرنے بجائے ان کو برداشت کرو، اور اس وقت کا انتظار کرو جب اللہ حالات میں ایسا تغیر فرمائے جب کہ بقیہ مسائل کے حل کی راہ نکل سکے (10:102)۔

اس معاملہ میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ ممکن دائرہ میں دین پر عمل کرتے ہوئے دعوتی جدوجہد شروع کر دو اور بقیہ تمام امور کو نصرت الہی کے خانہ میں ڈال دو۔ یہی مطلب ہے دعوت کے بعد یہ کہنے کا کہ وَلِرَبِّكَ فَاصْبِر (74:7)۔ یعنی، اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔ زمانہ حال کے تقاضوں سے باخبر ہو کر دین کی بنیادی تعلیمات سے لوگوں کو پر امن انداز میں آگاہ کرنا اور اس راہ میں جو مشکلات و مسائل پیش آئیں، ان پر صبر کرنا، یہی تمام انبیاء کا طریقہ رہا ہے اور یہی آج بھی ان لوگوں کا طریقہ ہونا چاہیے جو ناموافق ماحول میں اسلام کی تعلیم سے اللہ کے بندوں کو

Printed page