Al-Risala · January 2023

حقیقت پسندی

Al-Risala, January 2023, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر آپ میدان میں ہوں اور بارش آجائے تو آپ بھاگ کر سایہ کے نیچے چلے جاتے ہیں۔ پسپائی نہیں ہے بلکہ حقیقت پسندی ہے۔ اسی طرح اگرزلزلہ آجائے تو آپ گھر سے نکل کر کھلے میدان میں آجاتے ہیں۔ یہ بھی پسپائی نہیں ہے بلکہ ایک فطری حقیقت کا اعتراف ہے۔ جہاں انسان کا اور فطرت کا معاملہ ہو وہاں مسئلہ کا حل صرف اعتراف ہوتا ہے، نہ کہ ٹکراؤ۔

بارش اور زلزلہ کا نظام جو خالق فطرت نے دنیا میں رکھ دیا ہے۔ انسان اس کو بدلنے پر قادر نہیں۔ انسان صرف یہ کر سکتا ہے کہ اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچانے کی تدبیر کرے۔ اور اس کے نقصان سے بچنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ اعراض کا اصول اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس کی زد سے ہٹا دیا اسی لیے آپ بارش کے وقت سایہ میں آجاتے ہیں اور زلزلہ کے وقت میدان میں۔ ٹھیک یہی معاملہ صبر اور اعراض کے اصول کا بھی ہے۔ صبر اور اعراض کا رویہ کسی قسم کی بزدلی یا پسپائی نہیں ہے۔ وہ سادہ طور پر صرف حقیقت پسندی ہے۔ اس کی ضرورت اس لیے ہے کہ خالق فطرت نے انسان کو امتحان کی غرض سے آزادی عطا کی ہے۔ انسان اپنی آزادی کا استعمال کبھی صحیح کرتا ہے اور کبھی غلط۔ اب آپ کیا کریں۔ اگر آپ ہر انسان سے لڑنے لگیں تو لوگوں سے آپ ان کی آزادی چھین نہیں سکتے۔ کیوں کہ یہ آزادی ان کو خود مالک کائنات نے دے رکھی ہے، لوگوں کی آزادی چھیننے کی بے فائدہ کوشش کا نتیجہ صرف یہ ہوگا کہ آپ اپنے نقصان میں اضافہ کر لیں گے۔ ایسی حالت میں صرف ایک ہی ممکن رویہ ہے ۔ اور وہ وہی ہے جس کو صبر (patience) کہا جاتا ہے۔ یعنی لوگوں کی طرف سے اگر کبھی تلخی اور ناگواری پیش آجائے تو اس سے اعراض کرتے ہوئے اپنا سفر حیات جاری رکھا جائے۔

صبر و اعراض دوسروں کا مسئلہ نہیں، وہ خود اپنا مسئلہ ہے۔ بے صبری آدمی کے سفر کو روک اور صبر اس بات کو ممکن بناتا ہے کہ آدمی کی زندگی کا سفر کامیابی کے ساتھ جاری رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ جائے۔

Printed page