ڈائیلاگ اسلام میں
Al-Risala, November 2023, pp. 22–26
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈائیلاگ یا مکالمہ دو شخصیتوں یا دو پارٹیوں کے درمیان بات چیت (conversation) کا ڈائیلاگ (dialogue) کا مقصد یہ ہے کہ کسی اختلافی مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جائے: A discussion between representatives of parties to a conflict that is aimed at finding a resolution. ڈائیلاگ دورِ جدید کا ظاہر ہ ہے ، قدیم بادشاہی دور میں آزادانہ ڈائیلاگ کا رواج نہ تھا۔ میں ڈیموکریسی آئی تو فطری طور پر لوگوں کے درمیان آزادانہ ڈائیلاگ ہونے لگا۔ یہ ڈائیلاگ سیاسی سطح پر بھی جاری ہوا، اور غیر سیاسی سطح پر بھی۔
ڈائیلاگ دراصل انسانی سماج کو حیوانی سطح سے اٹھا کر انسانی سطح میں لانے کا نام ہے۔ انسانوں کے درمیان اختلاف ایک فطری چیز ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ اختلاف کی باتوں پر لڑ جاتے تھے ۔ وہ اختلاف کو طے کرنے کا ایک ہی طریقہ جانتے تھے، اور وہ لڑائی تھی۔ نے اس طریقے کو ختم کر دیا، اور انسان کو جنگل کلچر کے دور سے نکال کر امن کلچر کے دور میں پہنچایا۔ ڈائیلاگ یا پرامن مکالمے کا طریقہ عین اسلام کا طریقہ ہے۔ اسلام کی بنیاد دعوت کے اصول پر قائم ہے، اور دعوت پر امن گفت و شنید (discussion) کا دوسرا نام ہے۔ اسلام میں تشدد مکمل طور پر حرام عمل ہے (المائدہ، 33-5:32)۔ اس سے صرف ایک استثناء ہے، اور وہ دفاع ہے (الحج، 22:39)۔ یہ دفاع (defence) خارجی حملے کے وقت ہوتا ہے۔ اور دفاع کا یہ کام بھی صرف باقاعدہ طور پر قائم شدہ حکومت کر سکتی ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1841)۔ غیر حکومتی تنظیم دفاع یا انصاف کے نام پر متشددانہ لڑائی لڑنے کا حق نہیں رکھتی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں عرب میں اپنا مشن شروع کیا۔ یہ مشن کیا وہ مشن یہ تھا کہ آپ اپنی آئیڈیالوجی کو لے کر لوگوں میں جائیں اور لوگوں سے اس کے بارے میں بات چیت کریں۔ ان کے اعتراضات کو سنیں اور دلیل کے ذریعے اپنے نقطہ نظر پر انھیں مطمئن کرنے
کی کوشش کریں۔ پیغمبرِ اسلام پر جب وحی اترنا شروع ہوئی تو اس کے آغاز میں ہی آپ پر یہ آیت اتری: وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ (37:11) ۔ یعنی خدا کی طرف سے آپ کو جو نظریہ حیات دیا گیا ہے، لوگوں کے درمیان اس کا چرچا کریں۔ آپ کا نظریہ حیات توحید پر مبنی تھا، جب کہ اس وقت عرب کے لوگ شرک پر عقیدہ رکھتے تھے۔ اس لیے فطری طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن دوطرفہ گفت و شنید کا موضوع بن گیا۔ آپ لوگوں سے اپنی بات کہتے اور لوگوں کا رد عمل سنتے اور پھر اس کی مزید وضاحت اسی طرح آپ کا مشن عملاً وہی چیز بن گیا جس کو موجودہ زمانے میں ڈائلاگ کہا جاتا ہے۔ دورِ جدید کو دورِ ڈائلاگ بھی کہا جا سکتا ہے۔ مگر میرا تجربہ یہ ہے کہ اکثر لوگ مناظرہ (debate) اور ڈائلاگ میں فرق نہیں کرتے۔ وہ ڈائلاگ کے نام پر سیمینار کرتے ہیں اور پھر وہاں ڈیبیٹ کرنے ڈائلاگ کا مقصد کامن گراؤنڈ تلاش کرنا ہوتا ہے، جب کہ ڈیبیٹ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ فریق ثانی پر اپنی برتری کو ثابت کیا جائے۔ سب سے پہلے اس سوچ کو بدلنا چاہئے۔ اس کے بعد ہی کوئی ڈائلاگ مفید ہو سکتا ہے۔
ڈائلاگ کے عمل کو کار آمد بنانے کے لیے قرآن میں کچھ مفید اصول بتائے گئے ہیں۔ اصولوں میں سے کچھ اصولوں کا ہم یہاں تذکرہ کریں گے۔
اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (16:125) ۔ یعنی، اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ، اور ان سے اچھے طریقے (جدال احسن) سے ڈسکسن کرو۔
اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ دوسروں سے تم جو گفتگو کرو وہ جدال احسن کے طریقے پر ہو۔ فریق ثانی سے تکرار نہ کرنا، بلکہ اس کے اختلاف کو سن کر سنجیدگی کے ساتھ ایسی بات کہنا جو اس کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والی ہو۔ گفتگو محض بحث و مباحثے پر ختم نہ ہو بلکہ وہ ایک نتیجہ خیز انجام پر ختم ہو۔ بات چیت کے دوران حریفانہ اور رقیبانہ انداز اختیار نہ کیا جائے بلکہ علمی انداز اختیار کیا جائے۔ اس سلسلے میں دوسری آیت یہ ہے: وَلا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمُ (41:34) ۔ یعنی، اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں
تم جواب میں وہ کہوجو اس سے بہتر ہو۔ پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گ جیسے کوئی دوست قرابت والا۔
قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کوئی آدمی مسٹر دشمن نہیں۔ ہر آدمی امکانی طور پر مسٹر اس لیے کہ ہر آدمی ایک ہی فطرت پر پیدا کیا گیا ہے، کئی فطرت پر نہیں۔ اصول سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈائیلاگ کا آغاز اس طرح نہیں ہونا چاہیے کہ پہلے ہی سے دونوں فریق ایک دوسرے کے بارے میں ناامید بنے ہوئے ہوں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ڈائیلاگ کا عمل پر امید ذہن کے ساتھ کیا جائے، نہ کہ ناامیدی اور مایوسی کے ذہن کے ساتھ۔
اس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت یہ ہے: قُلْ يَأَهْلَ الْكِتَبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ (3:64)۔ یعنی، اے اہل کتاب، آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے درمیان مشترک ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دو فریق کے درمیان بات چیت ہو تو اس وقت موضوع گفتگو کا انتخاب کس طرح کیا جانا چاہیے۔ وہ یہ کہ گفتگو کا آغاز اختلافی پہلو کو لے کر نہ کیا جائے، بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان کامن گراؤنڈ (کلمہ سواء) تلاش کیا جائے اور اس کامن گراؤنڈ سے گفتگو کا آغاز کیا جائے_ یعنی گفتگو کا طریقہ اختلاف سے اتفاق کی طرف نہ ہو بلکہ اتفاق سے اختلاف کی طرف ہو۔ اس سلسلے میں ایک اور قابل حوالہ آیت یہ ہے: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ (6:108)۔ یعنی، اور خدا کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں ان کو تم برا بھلا نہ کہو ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر خدا کو برا بھلا کہنے لگیں گے۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب دو فریقوں کے درمیان ایک اختلافی موضوع پر ڈائیلاگ ہو تو ضروری ہے کہ ڈائیلاگ کے باہر موافق ڈائیلاگ فضا کو باقی رکھا جائے۔ اگر ایسا ہو کہ دونوں فریقوں کا میڈیا یا ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی باتیں پھیلا رہا ہو۔ دونوں طرف کے لوگ ایسی باتوں کا چرچا کرنے میں مصروف ہوں جس سے ایک دوسرے کے خلاف معاندانہ جذبات پیدا ہوتے ہیں تو ایسی غیر موافق فضا میں مفید ڈائیلاگ نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈائیلاگ کے
نتیجہ خیز ہونے کا تعلق ، صرف کمرۂ ڈائلاگ کی بات چیت پر منحصر نہیں ہوتا ، بلکہ اس پر منحصر ہوتا ہے کہ کمرۂ ڈائلاگ کے باہر جو فضا بنائی گئی ہے وہ ڈائلاگ کے حق میں ہے یا اس کے خلاف ہے۔ ڈائلاگ کا ایک اور اصول وہ ہے جو سنتِ رسول سے ثابت ہوتا ہے، یہ اصول حدیبیہ کے معاہدے سے معلوم ہوتا ہے۔ یہ معاہدہ پیغمبرِ اسلام اور قریش کے درمیان لمبی بات چیت کے بعد طے جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، یہ معاہدہ اس طرح ممکن ہوا کہ پیغمبرِ اسلام نے قریش کی کئی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لیا۔ پیغمبر کی اس سنت سے ڈائلاگ کا یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے نقطہ نظر کو دلیل کے ساتھ پیش کریں۔ لیکن اسی کے ساتھ دونوں اس بات کے لیے تیار رہیں کہ ڈائلاگ ہمیشہ لینے اور دینے (give and take) کے اصول کو اختیار کر کے کامیاب ہوتا ہے نہ کہ صرف لینے کے اصول پر اصرار کرنے سے۔ عملی معاملات میں اسلام آخری حد تک لچک کے اصول کو پسند کرتا ہے۔
اسلامی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صرف ڈائلاگ کے اصول نہیں بتائے گئے ہیں بلکہ ڈائلاگ کے اصول کا عملی تجربہ بھی بار بار کیا گیا ہے۔ اسلامی تاریخ میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔
پیغمبرِ اسلام نے اپنے مشن کے مکی دور میں بار بار ڈائلاگ کے اصول پر عمل کیا۔ مثلاً ایک بار قریش نے اپنے سردار عقبہ بن ربیعہ کو اپنا نمائندہ بنا کر پیغمبرِ اسلام کے پاس بھیجا تا کہ باہمی اختلاف کے موضوع پر بات چیت کر کے صلح کا ماحول بنایا جائے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عقبہ نے نہایت غور کے ساتھ آپ کی باتیں سنیں اور قریش کے پاس جا کر انھیں اس سے آگاہ کیا۔ ایک بار آپ کے چچا ابو طالب کی دعوت پر آپ اور قریش کے نمائندے اکٹھا ہوئے اور اختلافی موضوعات پر پرامن انداز میں بات چیت ہوئی۔
اسی طرح حدیبیہ کے موقع پر پیغمبرِ اسلام اور قریش کے درمیان ایک گفت و شنید ہوئی۔ سلسلہ تقریباً دو ہفتے تک جاری رہا۔ اس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان وہ معاہدہ طے پایا جس کو معاہدۂ حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ بلاشبہ پرامن ڈائلاگ کی ایک کامیاب مثال ہے۔
اسی طرح پیغمبر اسلام کی موجودگی میں تین مذاہب_ اسلام، مسیحیت اور یہودیت کے نمائندوں کے درمیان ٹرائلاگ ہوا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 549)۔ (trialogue) مدینہ کی مسجد نبوی میں ہوا۔ عرب مصنّفین نے اس کو مؤتمر الأديان الثلاثة کا نام دیا یعنی تین مذہبوں کے درمیان ٹرائلاگ۔ غالباً یہ تاریخ کا پہلا ٹرائلاگ تھا جو مقدس عبادت خانے کے اندر ہوا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں پرامن گفت و شنید کو کتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
اسلام کی تاریخ میں اس طرح کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔ یہ مثالیں اس معیاری زمانے سے تعلق رکھتی ہیں، جس کو عہد نبوت اور عہد صحابہ کہا جاتا ہے۔ اس لیے ڈائلاگ یا باہمی گفت و شنید کے اصول کو اسلام میں ایک مستند اصول کی حیثیت حاصل ہے۔